مسلک اہل بیت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مسلک اہل بیت

  غلام مرتضٰی ساقی مجددی

صفحہ 18 از 20
شیعہ حضرات متعہ کو جائز قرار دیتے ہیں بلکہ اس کی بڑی فضیلتیں بیان کرتے ہیں جبکہ اہلِ بیتؓ اسے حرام اور ناپسند کرتے ہیں۔ ملاحظہ ہو!
سیدنا جعفر صادقؒ نے متعہ کے متعلق فرمایا:
اس (متعہ) کوچھوڑ دو، کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ ایک شخص عورت کی شرمگاہ کو دیکھے پھر اس کا تذکرہ اپنے بھائیوں اور احباب سے کرے۔
(فروع کافی: جلد، 5 صفحہ، 453)
سیدنا زید بن علیؒ اپنے جدِ امجد سیدنا علیؓ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علیؓ نے فرمایا رسول اللہﷺ نے گھریلو پالتو گدھوں کا گوشت کھانا اور نکاح متعہ حرام کردیا ہے۔
(الاستبصار: جلد، 3 صفحہ، 146، تہذیب الاحکام: جلد، 7 صفحہ، 651)
لوہے کے کڑے وغیرہ پہننا:
شیعہ حضرات لوہے کے کڑے بڑے شوق سے پہنتے ہیں اور اسے اہلِ بیتؓ کی محبت قرار دیتے ہیں۔ جبکہ سیدنا جعفر صادقؒ فرماتے ہیں:
لوہے کی کوئی چیز پہن کر نماز جائز نہیں ہوتی کیونکہ وہ نجس اور بری چیز سے مسخ کی ہوتی ہے۔
(فروع کافی: جلد، 3 صفحہ، 400، تہذیب الاحکام: جلد، 2 صفحہ، 227، کتاب العلل الشرئع: صفحہ، 348)
حضورﷺ نے فرمایا:
لوہے کی انگوٹھی پہن کر کوئی نماز نہ پڑھے، جس نے لوہے کی انگوٹھی پہنی اللہ اس کے ہاتھ کو پاک نہیں کرےگا۔ 
(فروع کافی: جلد، 3 صفحہ، 404، تہذیب الاحکام: جلد، 2 صفحہ، 227، من لایحضرہ الفقیہ: صفحہ، 164)
تعزیہ نکالنا:
آج کل اہلِ بیتؓ کی محبت اور نشانی تعزیہ نکالنے کا بھی بنالیا گیا ہے، حالانکہ سیدنا علیؓ نے فرمایا:
جو شخص قبر پھر سے بنائے یا اس کی تشبیہ و شکل (تعزیہ) بنائے وہ اسلام سے خارج ہے۔
(من لایحضرہ الفقیہ: جلد، 1 صفحہ، 120)
ایک روایت میں ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا:
عورت کی اطاعت کرنے والے اسے تعزیہ میں بھیجنے والے کو سر کے بل جہنم میں ڈالتے ہیں۔ 
(حلیتہ المتقین: صفحہ، 46)
سیاہ لباس:
شہدائے کربلا کا سوگ مناتے ہوئے سیاہ لباس بھی پہنا جاتا ہے جب کہ شیعہ حضرات کی کتابوں میں اس کے متعلق بڑی وعید آئی ہے۔ ملاحظہ ہو!
سیدنا علیؓ سے روایت ہے حضورﷺ نے فرمایا:
میرے دشمنوں کا لباس نہ پہنو، حضور کے دشمن کا لباس سیاہ ہے۔ 
(عیون الاخبار: جلد، 2 صفحہ، 22)
سیدنا علیؓ اپنے شاگردوں کو تعلیم دیتے ہوئے فرماتے کہ سیاہ لباس نہ پہنا کرو، کیونکہ سیاہ لباس فرعون کا لباس ہے۔ 
(من لایحضرہ الفقیہ: جلد، 1 صفحہ، 163)
سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا:
سیاہ لباس جہنمیوں کا لباس ہے۔ 
(فروع کافی: جلد، 2 صفحہ، 449، من لایحضرہ الفقیہ: جلد، 1 صفحہ، 163)
پھر فرمایا: بےشک سیاہ کپڑا دوزخیوں کا لباس ہے۔
 (من لایحضرہ الفقیہ: جلد، 1 صفحہ، 162 تہذیب الاحکام: جلد، 2 صفحہ، 213، حلیتہ المتقین: صفحہ، 8)
حضورﷺ سیاہ لباس ناپسند فرماتے۔ 
(من لایحضرہ الفقیہ: جلد، 1 صفحہ، 163 تہذیب الاحکام: جلد، 2 صفحہ، 213، حلیتہ المتقین: صفحہ، 9)
سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا:
سیاہ لباس دوذخ والوں کا لباس ہے۔ 
(من لایحضرہ الفقیہ: جلد، 1 صفحہ، 163، کتاب العلل الشرائع: صفحہ، 347)
سیاہ جھنڈا:
اہلِ تشیع سیاہ جھنڈے بڑے اہتمام کے ساتھ اپنے مکانوں، دکانوں اور دیگر مقامات پر نصب کرتے ہیں اور اس پر بڑا فخر کیا جاتا ہے۔ جب کہ ان کے نزدیک اس کی حقیقت کیا ہے ملاحظہ ہو!
حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:
دوسرا جھنڈا میرے پاس آئے گا، پہلے جھنڈے سے زیادہ سیاہ ہوگا اور بہت کالا ہوگا اور پہلوں کی طرح مجھے جواب دیں گے پھر میں کہوں گا کہ میں تم میں دوبزرگ چیزیں چھوڑ آیا تم نے ان سے کیا برتاؤ کیا، وہ کہیں گے کہ خدا کی کتاب کی ہم نے مخالفت کی اور تیری عترت کی ہم نے امداد نہ کی اور ان کو ہم نے شہید کیا اور برباد کیا، میں کہوں گا مجھ سے دور ہوجاؤ تو وہ سیاہ رو حوض کوثر سے پیاسے چلے جائیں گے۔ 
(جلاء العیون: صفحہ، 321)
تبرا کی حرمت:
"حبِ علی" کا دعویٰ کرتے ہوئے اپنی زبانوں کو تبرا سے ناپاک کیا جاتا ہے اور خلفائے ثلاثہؓ کی حرمت کو پامال، لیکن کیا حب علی کے ان دعویداروں کو خبرنہیں کہ اسد اللہ الغالب سیدنا علی المرتضیٰؓ نے جان کے دشمن کو بھی کبھی گالی نہیں دی اور اپنی ذاتی رنجش کی بنیاد پر کسی پر ہاتھ نہ اٹھایا، بلکہ اپنے ماننے والوں کو اس بات سے منع فرمایا: انہی کا ارشاد ہے میں تمہارے لیے اس بات کو براخیال کرتا ہوں کہ تم گالی دینے والے بنو۔ 
(نہج البلاغہ: صفحہ، 446)
سیدنا علیؓ نے فرمایا ہے:
میں تمہیں اصحاب رسولﷺ کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ کسی کو برا نہ کہو، کیونکہ انہوں نے آپ کے بعد کوئی کام خلاف اسلام نہیں کیا اور نہ ہی ایسا کرنے والوں کے دوست بنایا اور پناہ دی، رسول اللہﷺ نے ان کے متعلق یہی وصیحت فرمائی ہے۔
(الامالی لابی جعفرالطوسی: جلد، 2 صفحہ، 136، بحار الانوار: جلد، 22 صفحہ، 206)
ماتم:
اہلِ تشیع بڑی دھوم دھام سے ماتم کرتے اور اس کا حکم دیتے ہیں اور اس کی مخالفت کرنے والوں کو برا سمجھتے ہیں جبکہ اہلِ بیتؓ اس ماتم کے مخالف ہیں اور اسے ناجائز قرار دیتے ہیں۔ ملاحظہ ہو!
شیعوں کی تفسیر قمی میں ہے کہ سیدہ امِ حکیم بنتِ حارث بن عبداللہؓ نے حضورﷺ سے پوچھا یارسول اللہﷺ‎ معروف کے بارے میں ہمیں کیا حکم فرمایا ہے کہ ہم آپ کی نافرمانی نہ کریں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے جواب ارشاد فرمایا:
ربِ تعالیٰ کے فرمان "معروف" کے یہ معنیٰ ہیں کہ تم اپنے منہ نہ نوچو، رخساروں پر طمانچے نہ مارو، بال نہ بکھیرو، کرتے چاک نہ کرو، کپڑوں کو سیاہ نہ بناؤ، ہائے ہائے اور بربادی بربادی نہ چیخو، قبر کے پاس نہ کھڑی ہو۔ تو ان شرطوں کے ساتھ حضورﷺ نے عورتوں کی بیعت لی۔ 
(تفسیر قمی: جلد، 2 صفحہ، 364، اصول کافی: جلد، 5 صفحہ، 527، تفسیر صافی: صفحہ، 531، حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 460 مراۃالعقول: جلد، 1 صفحہ، 514)
تفسیر مجمع البیان میں ہے"ولا یعصینک فی معروف" سے مراد یہ ہے کہ نوحہ سے باز رہیں، کپڑے پھاڑنے، بال اور منہ نوچنے اور مرنے والوں پر واویلا کرنے سے پرہیز کریں۔ 
(تفسیرمجمع البیان: جلد، 9 صفحہ، 276)
فروعِ کافی میں بھی سیدہ امِ حکیم بنتِ حارث کی روایت کچھ زیادتی کے ساتھ تحریر ہے۔ ملاحظہ ہو! (فروع الکافی للکینی: جلد، 2 صفحہ، 228 اسے صاحب مراۃ العقول نے موثق اور حسن لکھا ہے۔ ملاحظہ ہو! مراۃ العقول: جلد، 1 صفحہ، 514)
صفحہ 18 از 20