مسلک اہل بیت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مسلک اہل بیت

  غلام مرتضٰی ساقی مجددی

صفحہ 19 از 20
رسول اکرمﷺ کے مواجہہ شریفہ میں حاضری کا ادب شیعی کتاب میں اس طرح لکھا ہے رسول اکرمﷺ نے فرمایا تم لوگ فوج در فوج اس گھر میں آنا، مجھ پر صلاۃ بھیجنا اور سلام کرنا (لیکن) رو کر فریاد کرنا اور واویلا کرکے مجھے اذیت نہ دینا۔ 
(جلاء العیون: صفحہ، 69)
ایک روایت میں ہے: رسول اللہﷺ نے منع فرمایا مصیبت کے وقت با آواز رونے، نوحہ کرنے، اور جنازہ کے پیچھے عورتوں کے جانے سے۔ 
(حلیۃ المتقین: صفحہ، 188)
حلیتہ المتقین میں دوسری جگہ لکھا ہے حضورﷺ نے فرمایا عورت کی اطاعت کرنے والا اسے تعزیہ میں بھیجنے والے کو سر کے بل جہنم میں ڈالتے ہیں۔
(حلیتہ المتقین: صفحہ، 46)
طائفہ امامیہ کے شیخ صدوق نے نقل کیا کہ رسول اللہﷺ نے مصائب پر با آواز بلند رونے، نوحہ کرنے اور سننے سے منع فرمایا۔ 
(کتاب اللامالی: صفحہ، 254 حلیۃ المتقین: صفحہ، 189 من لایحضرہ الفقیہ: جلد، 2 صفحہ، 356)
مجمع المعارف میں ہے: نوحہ کرنے والا روزِ قیامت، کتوں کی طرح نوحہ کناں ہوگا۔ 
(مجمع المعرف: صفحہ، 162)
حیات القلوب میں ہے: سب سے پہلا نوحہ گانے والا شیطان تھا (جب اسے جنت سے نکالا گیا)
(حیات القلوب: جلد، 1 صفحہ، 73)
اولادِ آدم میں قابیل پہلا شخص ہے جس نے واویلا کیا، اور ملعون ہوا۔ 
(نفس الرحمٰن: صفحہ، 124 محمد تقی النوری، الطبرسی)
نہج البلاغہ میں ہے:
صبر مصیبت کے اندازے سے اترتا ہے، جس نے مصیبت کے وقت اپنی رانوں پر ہاتھ مارا، اس کے اعمال برباد ہوئے۔ 
(نہج البلاغہ: صفحہ، 158 مترجمہ: صفحہ، 897)
ایک روایت میں ہے: رسول اکرمﷺ نے سیدہ فاطمہؓ سے فرمایا: 
اذا انامت فلا تخشیٰ علیٰ وجھا ولا ترخی علیٰ شعرا ولا تنادی بلویل ولا تقیمی علی نائحتہ۔
(فروع کافی: جلد، 2 صفحہ، 228، جلاءالعیون: صفحہ، 65)
ترجمہ: جب میں فوت ہو جاؤں تو منہ نہ چھیلنا، بال نہ نوچنا، واویلا نہ مچانا اور نوحہ گر عورتوں کو نہ بلانا۔
ملا باقر مجلسی نے لکھا ہے کہ:
حضور ﷺ کے وصال کے بعد سیدنا علیؓ نے حضور اکرمﷺ کے روئے مبارک سے کپڑا ہٹایا اور عرض گزار ہوئے، میرے ماں باپ آپﷺ پر فدا ہوں، آپﷺ زندگی بھر اور بعدِ وفات بھی طیب ہیں، آپﷺ کی وفات سے وہ شئی بند ہو گئی جو کسی پیغمبر کے انتقال سے بند نہ ہوتی تھی۔ یعنی نبوت اور وحی، آپﷺ کی مصیبت اتنی عظیم ہے جس نے ہمیں دوسروں کی مصیبت سے مطمئن کر دیا۔ آپﷺ کی وفات کی مصیبت ایک عام مصیبت ہے کہ سب لوگ یکساں دلگیر ہیں۔
و اگرنہ آں بودکہ امر کر دی بصبر کر دن ونہی نمودی ازجزع نمودن بر آئینہ آبہائے سر خود رادر مصیبت تو فرومی ریختم وبر آئینہ درد مصیبت ترا برگز دوانمی کردم۔
(حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 363)
اور اگر آپ صبر کا حکم اور جزع سے منع نہ فرماتے تو اس مصیبت پر ہم تمام سر کا پانی بہا دیتے اور آپﷺ کی اس مصیبت کے درد کی کوئی دوانہ کرتے۔
سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا:
لیس لاحدکم ان یحدا کثرمن ثلٰثۃ ایام الا المراۃ علیٰ زوجھا حتیٰ تقضی عدتھا۔ 
(من لا یحضرہ الفقیہ: صفحہ، 36)
ترجمہ: کس کو جائز نہیں تین روز سے زائد سوگ کرے، مگر بیوی کو اپنے خاوند کی موت پر (چار ماہ اور دس دن کی) عدت تک اجازت ہے۔
نوٹ: اس مفہوم کی روایت تہذیب اور ومسائل الشیعہ میں بھی پاتی جاتی ہیں ملاحظہ ہو! 
(التہذیب: صفحہ، 238، وسائل الشیعہ: جلد، 3 صفحہ، 173)
حیات القلوب میں ہے:
حضرت رسول فرمود اے فاطمہؓ توکل کن برخدا صبر کن چنانچہ صبر کر دند پدرانِ توکہ پیغمبراں بودند و مادران توکہ زنہائے پیغمبراں بودند۔ 
(حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 252)
ترجمہ: حضرت رسول اللہﷺ نے فرمایا اے فاطمہؓ! خدا پر توکل کر اور صبر کر، تیرے آباء جو کہ پیغمبر تھے صبر کرتے رہے اور تیری مائیں، جو پیغمبرں کی بیویاں تھیں صبر کرتی رہیں۔
اسی کتاب میں تھوڑا آگے منقول ہے:
بداں اے فاطمہؓ! کہ برائے پیغمبر گریباں نمی باید درید و رانمی باید خراشید دواو ایلا نمی باید گفت۔ 
(حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 253، کتاب العلل والشرائع: جلد، 2 صفحہ، 110)
ترجمہ: اے فاطمہؓ! جان لے کہ پیغمبر کے لیے گریبان نہیں چاک کرنا چاہیے، اور چہرہ پرخراش نہیں لگانا چاہیے اور واویلا نہیں کرنا چاہیے۔
نیز اسی کتاب میں ہے:
ابنِ بابویہ اپنی معتبر سند سے سیدنا باقرؒ سے روایت کرتے ہیں، حضرت رسولِ خداﷺ نے وقتِ وفات سیدہ فاطمہؓ سے فرمایا: اے فاطمہؓ جب میں وفات کر جاؤں تو میرے لیے چہرہ پر خراش نہ ڈالنا، بال نہ بکھیرنا، واویلا نہ کرنا، اور مجھ پر نوحہ نہ کرنا، اور نوحہ گروں کو نہ بلانا۔ 
(حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 254)
سیدنا جعفر صادقؒ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: مصیبت کے وقت مسلمان کا اپنے ہاتھ رانوں پر مارنا، اس کے اجر و ثواب کو ضائع کردیتا ہے۔ 
(فروع کافی جلد، 3 صفحہ، 224)
سیدنا جعفرؓ بن ابی طالب کی شہادت کے وقت سیدنا علیؓ نے اپنی زوجہ مطہرہ سیدہ فاطمہؓ سے فرمایا:
کسی کی موت پر اور کسی کے دورانِ جنگ شہید ہو جانے پر غم کھاتے ہوئے واویلا کے ساتھ ماتم نہ کرنا۔ (من لا یحضرہ الفقیہ: جلد، 1 صفحہ، 112)
حضورﷺ نے فرمایا: ماتم کرنے والا کل قیامت کے دن کتے کی طرح آئے گا۔
(مجمع المعارف برحشیہ حلیتہ المتقین: صفحہ، 162)
حضورﷺ نے فرمایا: میں نے ایک عورت کتے کی شکل کی دیکھی، فرشتے اس کی وبر میں آگ جھونک رہے تھے تو سیدہ فاطمہؓ نے پوچھا اے میرے پدر بزرگوار اس کا دنیا میں کیا عمل و عادت تھی آپﷺ نے فرمایا وہ نوحہ کرنے والی اور حسد کرنے والی تھی۔ 
(حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 543، عیون اخبار الرضا: جلد، 2 صفحہ، 11 انور نعمانیہ: جلد، 1 صفحہ، 216)
سیدنا جابرؓ نے کہا ہے کہ میں نے سیدنا محمد باقرؒ سے پوچھا کہ جزع کیا ہے؟ آپنے فرمایا واویلا کے ساتھ زور سے چلانا، بلند آواز سے چینخنا، چہرے اور سینے پر طمانچے مارنا اور پیشانی سے بال نوچنا سخت ترین جزع ہے۔ 
(فروع کافی: جلد، 3 صفحہ، 222)
رسول اللہﷺ کی وفات ہوئی تو سیدنا علیؓ نے فرمایا:
اگر آپﷺ نے ہمیں صبر کا حکم نہ دیا ہوتا اور ماتم کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو ہم آپﷺ کا ماتم کر کے آنکھوں اور دماغ کا پانی خشک کردیتے۔ 
(شرح نہج البلاغہ: جلد، 4 صفحہ، 409 لابنِ میشم)
صفحہ 19 از 20