مسلک اہل بیت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مسلک اہل بیت

  غلام مرتضٰی ساقی مجددی

صفحہ 2 از 20
میں نے سیدنا حمزہؓ، سیدنا جعفر طیارؓ اور سیدنا علیؓ سے پوچھا کہ نبی کریمﷺ مجھے اسلام میں داخل کرنے کے لیے کیا پڑھائیں گے، تو تینوں نے فرمایا کہ تجھے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھائیں گے، جب میں آپ کی بارگاہ میں گیا تو آپ نے یہی کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھایا۔
(فروع کافی: جلد، 8 صفحہ، 298، کتاب الروضہ، حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 1132، باب ششم)
حضورﷺ نے عرش پر لکھا دیکھا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔
(احتجاج طبرسی: جلد، 1 صفحہ، 365)
ایک روایت میں ہے کہ حضورﷺ نے سیدنا عمرؓ کا بازو پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوئے فرمایا اگر صلح صفائی کے طور پر آیا ہے تو میں ہاتھ روک لیتا ہوں اور اگر جنگ کے ارادے سے آیا ہے تو میں ابھی تیرا کام تمام کیئے دیتا ہوں سیدنا عمرؓ کہنے لگے میں مسلمان ہوگیا ہوں، آپﷺ‎ نے فرمایا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھو جب سیدنا عمرؓ نے کلمہ پڑھا تو حضورﷺ نے تکبیر کہی، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے انتہائی خوشی اور مسرت میں آ کر اتنے زور سے تکبیر کہی کہ قریش کی مجلسوں تک اس کی آواز سنائی دی۔
(تاریخ روضۃ الصفاء: جلد، 2 صفحہ، 284)
فائدہ: اصلی کلمہ کے مذید دلائل:
(مجالس المؤمنین: جلد، 1 صفحہ، 20، جلد، 2 صفحہ، 208، توضیح المسائل: صفحہ، 22 کشف الغمہ: جلد، 1 صفحہ، 295 حیات القلوب: جلد، 3 صفحہ، 104 جلد، 2 صفحہ، 247، 131، 129، 182، من لا یحضرہ الفقیہ: جلد، 1 صفحہ، 111، تذکرہ الائمہ: صفحہ، 9، 11، الشافی: جلد، 2 صفحہ، 33، 34، 35، 37، 43، 50)
وضو کا طریقہ اور وضو میں پاؤں دھونا:
اہلِ تشیع وضو میں پاؤں کا مسح کرتے ہیں جب کہ یہ اہلِ بیتؓ کہ خلاف ہے۔ ملاحظہ ہو!
سیدنا زید بن علیؓ اپنے آباؤ اجداد سے روایت کرتے ہیں کہ جب سیدنا علی المرتضیٰؓ نے فرمایا میں ایک دفعہ بیٹھا وضو کر رہا تھا کہ اتنے میں حضورﷺ تشریف لائے ابھی میں نے وضو شروع ہی کیا تھا تو آپﷺ‎ نے فرمایا کلی کرو اور ناک میں پانی ڈال کر صاف کرو، پھر میں نے تین مرتبہ منہ دھویا اس پر آپﷺ‎ نے فرمایا: دو دفعہ ہی کافی تھا پھر میں نے اپنے دونوں بازو دھوئے اور اپنے سر کا دو مرتبہ مسح کیا، آپﷺ‎ نے فرمایا ایک دفعہ ہی کافی تھا۔ پھر میں نے اپنے دونوں پاؤں دھوئے، آپﷺ‎ نے فرمایا اے علیؓ انگلیوں کے درمیان خلال کرو، اللہ تمہیں آگ کے خلال سے بچائے۔
(الاستبصار: جلد، 1 صفحہ، 65، تہذیب الاحکام: جلد، 1 صفحہ، 93)
سیدہ فاطمہؓ نے حضورﷺ کو وضو کرایا تو "غسلت رجلیہ" انہوں نے حضورﷺ کے پاؤں دھوئے۔
(امالی لابی جعفر الطوسی: جلد، 1 صفحہ، 38)
ابو بصیر سے روایت ہے کہ سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا اگر بھول کر منہ دھونے سے قبل اپنے بازو دھولے تو منہ کو دھوؤ پھر اس کے بعد بازوؤں کو دھوؤ پھر اگر بھول کر دونوں بازوؤں میں سے بایاں بازو پہلے دھو بیٹھو تو پھر بھی دایاں بازو دھوؤ، اور اس کے بعد بایاں پھر سے دھوؤ، اور اگر بھولے سے سر کا مسح کرنے سے پہلے تو نے پاؤں دھو لیے تو پہلے مسح کرے پھر پاؤں کو دوبارہ دھوؤ۔ 
(تہذیب الاحکام: جلد، 1 صفحہ، 99 الاستبصار: جلد، 1 صفحہ، 74)
سیدنا جعفر صادقؒ سے عمار بن موسیٰ نے ایسے شخص کے متعلق روایت کی کہ جس نے وضو مکمل کیا لیکن پاؤں نہ دھوئے، پھر پانی میں دونوں پاؤں کو اس نے اچھی طرح ڈبویا تو کیا اس کا وضو مکمل ہوگیا یا پاؤں دھونے کی ضرورت ہے؟ فرمایا اس کا پاؤں کو پانی میں ڈبونا دھونے کا بدلہ بن گیا۔ 
(تہذیب الاحکام: جلد، 1 صفحہ، 66)
اذان:
شیعہ حضرات کی موجودہ اذان اہلِ بیتؓ کی اذان کے خلاف ہے ملاحظہ ہو!
سیدنا موسیٰ بن جعفرؒ اپنے آباؤ اجداد کے ذریعے سیدنا علی المرتضیٰؓ سے اذان کی تفسیر میں حدیث بیان کرتے ہوئے یہ الفاظ نقل کرتے ہیں:
اللہ اکبر (چارمرتبہ) اشھدان الا الہ الا اللہ (دومرتبہ) اشھدان محمد رسول اللہ (دومرتبہ) حی علی الصلوٰۃ (دومرتبہ) حی علی الفلاح (دومرتبہ) اللہ اکبر (دو مرتبہ) لا الہ الا اللہ (ایک مرتبہ) ملاحظہ ہو!
(وسائل شیعہ: جلد، 2 صفحہ، 247، من لا یحضرہ الفقیہ: جلد، 1 صفحہ، 188)
شیعہ مصنف نے لکھا ہے: صحیح اور کامل اذان وہی ہے جو سیدنا جعفر صادقؒ سے اسی کتاب میں روایت کی گئی ہے نہ اس میں زیادتی ہو سکتی ہے اورنہ ان الفاظ سے کم، جو اس میں مذکور ہوئے "مفؤضہ" نامی گروپ پر اللہ کی لعنت ہو انہوں نے بہت سی مَن گھڑت باتیں بنائی اور ان مَن گھڑت باتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انہوں نے اذان میں "محمد والہ خیر البریہ" کے الفاظ بڑھا دیئے۔ انہی کی کچھ دوسری مَن گھڑت روایت میں یہ بھی ہے کہ "اشھدان محمد رسول اللہ" کے الفاظ کو دو مرتبہ مؤذن یہ بھی کہے اشھدان علیا ولی اللہ ان میں سے ہی بعض نے مذکور الفاظ کی جگہ یہ الفاظ کہنے کو لکھا "اشھدان علیا امیر المؤمنین حقا" یہ باتیں حقائق پر مبنی ہیں کہ سیدنا علیؓ "ولی اللہ" ہیں، آپؓ امیر المؤمنین بالحق ہیں اور حضرت محمدﷺ اور آپﷺ‎ کے آل "خیر البریہ" ہیں لیکن اس حقیقت کے ہوتے ہوئے یہ الفاظ ہرگز ہرگز اذان میں داخل نہیں ہیں۔ 
(من لایحضرہ الفقیہ: جلد، 1 صفحہ، 93، جلد، 1 صفحہ، 188)
اوقاتِ نماز:
شیعہ حضرات کے اوقاتِ نماز اہلِ بیت کے اوقاتِ نماز کے خلاف ہیں۔ دیکھئے!
صفحہ 2 از 20