مسلک اہل بیت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مسلک اہل بیت

  غلام مرتضٰی ساقی مجددی

صفحہ 20 از 20
سیدنا حسینؓ نے میدانِ کربلا میں اپنی ہمیشرہ سیدہ زینبؓ کو وصیحت فرمائی اے بہن، میں تجھے قسم دیتا ہوں تو میری قسم پوری کرنا کہ جب میری وفات ہو جائے تو مجھ پر گریبان چاک نہ کرنا، نہ مجھ پر چہرہ نوچنا اور نہ مجھ پر واویلا اور ہائے ہلاکت ہائے ہلاکت کے الفاظ پکارنا۔ 
(الارشاد لمفید: صفحہ، 232 اعلام الوریٰ: صفحہ، 236، جلاء العیون: صفحہ، 387 ناسخ التواریخ: جلد، 6 صفحہ، 253، تاریخ یعقوبی: جلد، 2 صفحہ، 244، اخبارِ ماتم: صفحہ، 400)
سیدہ فاطمہؓ فرماتی ہیں خدا کی قسم! اگر یہ (ماتم) گناہ نہ ہوتا تو میں اپنے سرکے بال کھول کر چلاتی اور آپ کی بارگاہ میں فریاد کرتی۔ 
(فروع کافی، کتاب الروضہ: صفحہ، 238)
سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا ہرگز تم میں سے کوئی شخص میری وفات پر رخسار پر طمانچے نہ مارے اور ہرگز مجھ پر گریبان چاک نہ کرے۔ 
(دعائم السلام: صفحہ، 130)
اہلِ کوفہ کاروان اہلِ بیتؓ کی بے سروسامانی دیکھ کر زور زور سے رونے اور ماتم کرنے لگے تو سیدہ زینبؓ نے فرمایا حمد و صلوٰۃ کے بعد اے بے وفا اور دغا باز کوفیو! اب تم روتے اور ماتم کرتے ہو، خدا تمہیں ہمیشہ رلائے اور تمہارا رونا اور ماتم کرنا کبھی موقوف نہ ہو، تم بہت زیادہ روؤ اور بہت تھوڑا ہنسو، تمہاری مثال اس عورت کی سی ہے جو کاتے ہوئے دھاگے کو مضبوط ہو جانے کے بعد جھٹکے دے کر توڑ ڈالے، تم نے اپنے ایمان کو دھوکے اور فریب کا ذریعہ بنایا ہوا ہے، تمہاری مثال اس سبزے کی سی ہے جو نجاست کی ڈھیری پر لگا ہوا ہو، تم میں سوائے خود ستائی، شیخی، عیب جوئی، تہمت سرائی اور لونڈیوں کی طرح خوشامد اورچاپلوسی کے کچھ نہیں، بلاشبہ تم بہت برے کام کے مرتکب ہوئے، تم نے ہمیشہ کے لیے ذلت حاصل کی اور عیب کمایا اور جہنم کے سزا دار ہوئے خدا تعالیٰ تم پر غضب نازل فرمائے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں داخل فرمائے۔ 
(جلاءالعیون: جلد، 2 صفحہ، 223)
سیدہ امِ کلثومؓ نے فرمایا: (اے ہمارے شہیدوں کے قاتلو) یعنی تمہیں جہنم کی بشارت ہو، تم نے ہمارے بھائی کو شہید کر دیا، تم پر تمہاری مائیں روتی رہیں، تم نے وہ خون بہایا جو اللہ، قرآن اور محمدﷺ نے تم پر حرام کر دیا تھا۔ 
(مقتل ابی مخنف: صفحہ، 83)
وصلی اللہ تعالیٰ علی حبیبہ محمد وآلہ واصحابہ و ازواجہ واھل بیتہ وسائرامتہ اجمعین۔

صفحہ 20 از 20