مسلک اہل بیت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مسلک اہل بیت

  غلام مرتضٰی ساقی مجددی

صفحہ 3 از 20
سیدنا جعفر صادقؒ سے معاویہ بن وہب روایت کرتا ہے کہ آپ نے فرمایا جبرئیل علیہ السلام ایک دن حضورﷺ کے پاس نماز کے اوقات لے کر حاضر ہوئے۔ جب زوالِ شمس ہوا تو آ کر کہا حضورﷺ‎ نمازِ ظہر ادا کیجیئے آپﷺ‎ نے ظہر ادا فرمائی پھر جب ہر چیز کا سایا ایک مثل بڑھ گیا تو جبرائیل علیہ السلام دوبارہ آئے اور آپﷺ‎ سے نمازِ عصر پڑھنے کو کہا آپﷺ‎ نے عصر ادا فرمائی، پھر غروبِ آفتاب کے بعد حاضر ہو کر آپﷺ‎ سے نمازِ مغرب ادا کرنے کو کہا، آپﷺ‎ نے مغرب ادا فرمائی، پھر شفق ختم ہونے پر حاضر ہو کر نمازِ عشاء پڑھنے کو کہا، آپﷺ‎ نے نمازِ عشاء ادا فرمائی، پھر صبح صادق ہونے پر حاضر ہوئے اور نمازِ فجر پڑھنے کو کہا، آپﷺ‎ نے وہ بھی ادا فرمائی پھر جبرائیل علیہ السلام دوسرے دن آئے اور اس وقت ہر چیز کا سایا ایک مثل ہو چکا تھا، جبرائیل علیہ السلام نے آپﷺ‎ کو نمازِ ظہر ادا کرنے کو کہا آپﷺ‎ نے نماز ادا فرمائی، پھر دو مثل سایہ پڑنے پر حاضر ہو کر آپﷺ‎ کو نمازِ عصر پڑھنے کو کہا آپﷺ‎ نے اس وقت عصر ادا فرمائی۔
(وسائل الشیعہ: جلد، 3صفحہ، 115)
سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا جب تیرا سایہ ایک مثل ہو جائے تو ظہر پڑھ اور جب تیرا سایہ تیری دو مثل ہو جائے پھر نمازِ عصر ادا کر۔
(فقہ امام جعفر صادقؒ: جلد، 1 صفحہ، 135)
ابرہیم کرخی کہتا ہے کہ میں نے ابو الحسن موسیٰ کاظمؒ سے پوچھا حضورﷺ‎ ظہر کا وقت کب شروع ہوتا ہے؟ فرمانے لگے جب زوالِ شمس ہو جائے، میں نے پھر پوچھا کہ اس کا آخری وقت کیا ہے؟ فرمانے لگے جب سورج کو ڈھلے ہوئے اتنا وقت ہو جائے کہ چار قدم سایہ لمبا ہو جائے، ظہر کا وقت دوسری نمازوں کی طرح لمبا چوڑا نہیں ہوتا۔ میں نے پوچھا وقتِ عصر کب شروع ہوتا ہے؟ آپﷺ‎ نے فرمایا ظہر کا آخری وقت عصر کا ابتدائی وقت ہے۔
(تہذیب لاحکام: جلد، 2 صفحہ، 26)
سیدنا جعفر صادقؒ فرماتے ہیں جس نے مغرب کی نماز افضلیت حاصل کرنے کی غرض سے مؤخر کر کے لیٹ پڑھیں وہ ملعون ہے وہ ملعون ہے۔
(وسائل الشیعہ: جلد، 3 صفحہ، 137)
نماز میں التحیات پڑھنا:
اہلِ تشیع نماز میں بحالتِ قعدہ التحیات اللہ والصلوات والطیبات کو درست نہیں مانتے جبکہ اہلِ بیتؓ اس کے قائل و عامل رہے ہیں۔
 سیدنا جعفر صادقؒ سے التحیات اللہ و الصلوات و الطیبات کے متعلق پوچھا گیا کہ یہ کلمات کیسے ہیں؟ فرمایا یہ دعاؤں میں سے دعا ہے اور ان کی ادائیگی کے ذریعے بندہ اپنے پروردگار کی بے پایاں عنایت اور خوشنودیوں کا طالب ہوتا ہے۔
(الاستبصار جلد، 1 صفحہ، 242)
سیدنا محمد باقرؒ نے زرارہ کو فرمایا کہ تشہد کے دوران یہ کلمات پڑھو بسم اللہ وبا اللہ و الحمد اللہ و الاسماء الحسنیٰ کلھا اللہ واشھدان لا الہ اللہ وحدہ لا شریک لہ و اشھدان محمدا عبدہ و رسولہ ارسلہ بالھدیٰ ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون التحیات اللہ والصلوات والطیبات الطاھرات الخ۔
 (من لایحضرہ الفقیہ: جلد، 1 صفحہ، 209)
سیدنا جعفر صادقؒ سے تشہد کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے کلمہ شہادت کے بعد التحیات اللہ والصلوات الخ۔ کی تلقین فرمائی اور بار بار پوچھنے کے باوجود یہی الفاظ دہراتے تھے۔ 
(رجال کشی: جلد، 1 صفحہ، 379)
نمازِ جنازہ کی تکبیریں:
اہلِ تشیع کے نزدیک پانچ تکبیریں نمازِ جنازہ میں ضروری ہیں جبکہ اہلِ بیتؓ اس کے خلاف ہیں ملاحظہ ہو!
سیدنا محمد باقرؒ سے پوچھا گیا کہ کیا نمازِ جنازہ کی تکبیروں کی تعداد مقرر ہے یا نہیں؟ تو آپ نے فرمایا نہیں، رسول اللہﷺ نے گیارہ ،نو، سات، پانچ، چھ اور چار تکبیریں کہیں۔ 
(تہذیب الاحکام: جلد، 3 صفحہ، 316)
سیدنا باقرؒ فرماتے ہیں کہ میرے دادا سیدنا علیؓ جنازہ پڑھتے وقت پانچ اور چار تکبیریں کہا کرتے تھے۔
(قرب الاسناد: جلد، 2 صفحہ، 209)
سیدنا جعفر صادقؒ فرماتے ہیں کہ پہلے نبی کریمﷺ جنازہ پر پانچ تکبیریں کہتے تھے پھر جب اللہ تعالیٰ نے ان کو منافقین پر نمازِ جنازہ ادا کرنے سے منع فرما دیا تو آپﷺ‎ جنازہ پر چار تکبیریں کہتے تھے ۔
(فروع کافی: جلد، 1 صفحہ، 95، تہذیب الاحکام: صفحہ، 177، لعلل والشرائع: صفحہ، 303)
معلوم ہوا کہ باقی تکبیریں منسوخ ہیں، لہٰذا جنازہ میں صرف چار تکبیریں کہنی چاہئیں
سیدنا جعفر صادقؒ سے روایت ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ نمازِ جنازہ میں صرف تکبیرِ اولیٰ(پہلی تکبیر) کے اوقات ہاتھوں کو اُٹھایا کرتے تھے پھر اس کے بعد نہیں اُٹھاتے تھے۔ 
(وسائل الشیعہ: جلد، 2 صفحہ، 786)
حضورﷺ نے نجاشی کی نمازِ جنازہ پڑھی تو اس میں صرف چار تکبیریں کہی تھیں۔
(ناسخ التواریخ: جلد، 3 صفحہ، 254)
نمازِ تراویح:
اہلِ تشیع نمازِ تراویح کے خلاف ہیں اور اسے فاروقی بدعت قرار دیتے ہیں جبکہ اہلِ بیتؓ نمازِ تراویح کے قائل اور اس پرعامل رہے ہیں۔
ملاحظہ ہو لکھا ہے: بہت سے راویوں نے روایت کی ہے کہ سیدنا علیؓ رمضان المبارک کی ایک رات سیدنا عثمان بن عفانؓ کے دورِ خلافت میں گھر سے باہر تشریف فرما ہوئے، آپؓ نے دیکھا کہ مسجد میں چراغ جل رہے ہیں اور مسلمان باجماعت نماز (تراویح) میں مشغول ہیں، یہ دیکھ کر آپ نے دعا فرمائی اے اللہ سیدنا عمر بن الخطابؓ کی قبر کو منور فرما جس طرح اس نے ہماری مسجدوں کو منور کر دیا۔ 
(شرح نہج البلاغہ: جلد، 3 صفحہ، 98، لابنِ ابی حدید)
سیدنا جعفر صادقؒ رمضان شریف میں ہر رات نوافل کی کثرت فرماتے تھے اور روزانہ معمول کے سوا بیس رکعت نوافل کا اضافہ کرتے اور دوسروں کو بھی حکم دیتے تھے۔ 
(تہذیب الاحکام: صفحہ، 130 الاستبصار: جلد، 1 صفحہ، 462 طبع ایران: جلد، 1صفحہ، 231، طبع نولکشور، من لایحضرہ الفقیہ: جلد، 2 صفحہ، 88 فروع کافی: جلد، 4 صفحہ، 154)
سیدنا جعفر صادقؒ بیان کرتے ہیں کہ: حضور اکرمﷺ ماہِ رمضان میں اپنی نماز کو بڑھا دیتے تھے، عشاء کی نماز کے بعد نماز کے لئے کھڑے ہوئے تو لوگ پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھتے، اسی طرح کچھ وقفہ کیا جاتا پھر اسی طرح حضورﷺ‎ لوگوں کو نماز (تراویح) پڑھاتے۔ 
(فروع کافی: جلد، 1 صفحہ، 394، طبع نولکشور: جلد، 4 صفحہ، 154 طبع ایران)
عظمتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین:
صفحہ 3 از 20