مسلک اہل بیت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مسلک اہل بیت

  غلام مرتضٰی ساقی مجددی

صفحہ 4 از 20
سیدنا علیؓ فرماتے ہیں: حضور اقدسﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو میں نے دیکھا ہے تم میں سے کسی کو بھی ان کے مشابہ نہیں پاتا، وہ تمام شب مسجدوں اور نماز میں گزرتے صبح کو اس حالت میں ہوتے کہ ان کے بال پریشان اور غبار آلودہ ہوتے، ان کا آرام و سکون پیشانیوں اور رخساروں پر طویل سجدوں سے ہوتا تھا۔ وہ اپنی آخرت کی یاد سے دہکتے کوئلے کی مانند بھڑک اٹھتے تھے، کثرت سجود اور طول سجدہ کی وجہ سے ان کے ماتھے دنبوں کے گھٹنوں کی طرح ہوگئے تھے۔ اللہ کا نام جب ان کے سامنے لیا جاتا تو وہ اشک بار ہو جاتے آنسو بہہ پڑتے، ان کے گریبان بھیگ جاتے ، اور عذابِ الہٰی کے خوف اور ثواب کی امید میں اس طرح کانپتے جس طرح سخت آندھی میں درخت کانپتا ہے۔ 
(نہج البلاغہ :صفحہ، 355 (مترجم) خطبہ نمبر: 92، نیرنگ فصاحت: صفحہ، 105)
سیدنا علی المرتضیٰؓ نے ایک خطبہ میں السابقون الاولون صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان یوں بیان کی:
فاز اھل السبق بسبقتھم وذھب المھاجرون الاولون بفضلھم۔
(نہج البلاغہ: خطبہ نمبر، 17 نیرنگ فصاحت)
ترجمہ: اسلام اور اعمالِ صالحہ میں سبقت کرنے والے اپنی سبقت کے ساتھ فائز المرام ہوئے اور مہاجرین اولین اپنے فضل و کمال کے ساتھ گزر چکے۔
سیدنا اسد اللہ الغالب، امام المشارق والمغارب علیؓ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مقدس ہستیوں کو اپنے ایک اور خطبہ میں یوں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں:
اے اللہ کے بندو! جان لو کہ متقی پرہیز گار وہی لوگ تھے جو دنیا اور آخرت کی نعمتیں سمیٹ کر گزر چکے ہیں۔ وہ لوگ اہلِ دنیا کے ساتھ ان کی دنیا میں شریک ہوئے، لیکن اہلِ دنیا ان کی آخرت میں ان کے ساتھ شریک نہ ہو سکے، وہ مقدس ہستیاں دنیا میں یوں سکونت پذیر ہیں جیسے رہنے کا حق تھا۔ اور دنیا کی نعمتوں سے انہوں نے کھایا جیسا حق تھا، اور دنیا کی ہر اس نعمت سے ان ہستیوں نے حصہ پایا، جس سے دنیا کے بڑے بڑے جابریں متکبریں نے لیا، اسی قدر انہوں نے بھی لیا، پھر یہ ہستیاں صرف زادِ آخرت لے کر، اور آخرت میں نفع بخش تجارت کو ہمراہ رکھ کر دنیا سے بے رغبت ہوگئیں۔ یہ لوگ دنیا کی بے رغبتی کی لذت کو اپنی دنیا میں حاصل کر چکے تھے کہ کل اللہ سے آخرت میں ملنے والے ہیں، یہ وہ حضرات تھے جن کی دعا نامنظور نہیں ہوتی تھی، اور ان کی آخرت کا حصہ دنیوی لذتوں کی وجہ سے کم نہیں ہوگا۔ 
(نہج البلاغہ: خطبہ نمبر، 27)
آپؓ نے مزید فرمایا: میں تمہیں اصحابِ رسولﷺ کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ کسی کو برا نہ کہو، کیوں کہ انہوں نے آپ کے بعد کوئی کام خلافِ اسلام نہیں کیا اور نہ ہی ایسا کرنے والوں کو دوست بنایا اور نہ پناہ دی، رسول اللہﷺ نے بھی ان کے متعلق یہی وصیت فرمائی ہے۔ 
(الامالی: جلد، 2 صفحہ، 34 لابی جعفر الطوسی)
یہ بات بحار الانوار: جلد، 22 صفحہ، 206 پر بھی موجود ہے۔
سیدنا حسن عسکریؒ فرماتے ہیں اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا : اصحابِ محمد کو دیگر انبیاء علیہم السلام کے اصحاب پر ویسی ہی فضیلت حاصل ہے جیسی محمدﷺ کو تمام رسولوں پر۔ 
(آثارحیدری ترجمہ تفسیر حسن عسکری: صفحہ، 27)
حضورﷺ نے فرمایا جس نے مجھے گالی دی اسے قتل کرو اور جس نے میرے کسی صحابی کو گالی دی وہ کافر ہوگیا۔"
(جامع الاخبار: صفحہ، 183، فصل، 125)
سیدنا علیؓ سے روایت ہے نبی کریمﷺ نے فرمایا اگر کسی امر میں میری حدیث موجود نہ ہو تو پھر جو میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین فیصلہ دیں وہی مانو۔ کیونکہ میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ستاروں کی مانند ہیں جس کی بھی پیروی کرلو گے ہدایت پالو گے اور میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اختلاف تمہارے لیے رحمت ہے۔"
(بحار الانوار: جلد، 22 صفحہ، 307، معانی الاخبار: صفحہ، 156 انوارنعمانیہ: جلد، 1 صفحہ، 100، عیون الاخبار: جلد، 2 صفحہ، 85 احتجاج طبرسی جلد، 2 صفحہ، 105)
حضورﷺ نے فرمایا میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میری ڈھال ہیں، ان کے عیب چھپاؤ اور خوبی بیان کرو۔ 
(بحار الانوار: جلد، 22 صفحہ، 312 امالی: صفحہ، 160 لابی جعفر طوسی)
جس نے مجھے گالی دی وہ بھی کافر ہے اور جس نے میرے کسی صحابی کو گالی دی وہ بھی کافر ہے اور جو انہیں گالی دے اسے کوڑے لگاؤ۔
(جامع الاخبار صفحہ، 182 فصل، 125)
سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا:
وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ وَالَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُمۡ بِاِحۡسَانٍ رَّضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ الخ۔
(سورۃ التوبة: آیت، 100)
ترجمہ: مہاجرین وانصار میں سے سبقت کرنے والے اور ان لوگوں سے جنہوں نے نیکی میں ان کی پیروی کی، خدا راضی ہوا اور وہ خدا سے راضی ہوئے۔ سیدنا صادقؒ نے فرمایا کہ خدا نے درجہ ایمان کے مطابق ان لوگوں کا پہلے ذکر کیا جنہوں نے پہلے ہجرت کی تھی۔ پھر دوسرے درجہ میں انصار کا ذکر کیا، جنہوں نے مہاجرین کے بعد آنحضرتﷺ کی مدد کی تھی، پھر تیسرے درجہ میں ان تابعین کا نیکی کے ساتھ ذکر فرمایا ، غرض ہر گروہ کو اس درجہ اور منزلت میں قرار دیا جوان کے لیے اس کے نزدیک ہے۔
(حیات القلوب اردو: جلد، 2 صفحہ، 915، مطبوعہ لاہور)
نبی کریمﷺ نے مہاجرین و انصار کے لیے یہ دعا فرمائی: لاعیش الاعیش الاخرۃاللھم ارحم الانصار و المہاجرۃ۔
(مناقب آل ابی طالب: جلد، 1 صفحہ، 185 مطبوعہ ایران)
ترجمہ: نہیں بہتر زندگی مگر آخرت کی زندگی، اے اللہ! انصار اور مہاجرین پر رحم فرما۔
اب سیدنا علی المرتضیٰؓ کا ایک اور خطبہ درج کیا جاتا ہے۔ جس میں انہوں نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم جمعین کی تعریف و توصیف بیان فرمائی ہے اور اس خطبہ کا ترجمہ شیعی مترجم ذاکر حسین کے الفاظ میں پیش خدمت ہے۔
صفحہ 4 از 20