مسلک اہل بیت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مسلک اہل بیت

  غلام مرتضٰی ساقی مجددی

صفحہ 5 از 20
أين إخوانی الذين ركبوا الطريق ومضوا على الحق؟ أين عمارؓ؟ وأين ابن التيهان؟ وأين ذو الشهادتين؟ وأين نظراؤهم من إخوانهم الذين تعاقدوا على المنية، وأبرد برؤوسهم إلى الفجرة قال ثم ضرب بيده على لحيته الشريفة الكريمة فأطال البكاء، ثم قال عليه السلام: أوه على إخوانی الذين تلوا القرآن فأحكموه، وتدبروا الفرض فأقاموه، أحيوا السنة وأماتوا البدعة دعوا للجهاد فأجابوا، و وثقوا بالقائد فاتبعوه۔
(نہج البلاغہ: خطبہ نمبر: 181)
ترجمہ: کہاں ہیں وہ میرے بھائی جو راہِ خدا میں سوار ہوئے تھے۔ اور اسی اعتقاد حقہ پر گزر گئے، کہاں ہے سیدنا عمارؓ کدھر ہے ابنِ النھیان، کس طرف ہے ذوالشہادتین، کہاں ہیں ان کی مثالیں اور کس طرف ہیں ان کے دینی بھائی جو خدا کی راہ میں مرنے کی قسم کھائے ہوئے تھے، اور جن کے سر فاسق و فاجر شامیوں کی طرف بھیجے گئے، راوی کھتا ہے، کہ یہ فرما کر سیدنا (علیؓ) نے ریش مبارک پر ہاتھ پھیرا، بہت دیر تک روتے رہے، پھر فرمایا آہ! وہ میرے دینی بھائی جو قرآن کی تلاوت کرتے تھے، وہ امورِ واجبات میں تفکر سے کام لیتے ہوئے انہیں قائم کرتے تھے۔ وہ سنتِ پیغمبر کو جِلاتے تھے، وہ بدعتوں کو دور کرتے تھے، جب انہیں جھاد کی طرف بلایا جاتا تھا، تو نہایت خوشی سے قبول کرتے تھے، اپنے پیشوا پر بھروسہ رکھتے تھے اس کے اوامر و نہی کی اطاعت کرتے تھے۔
اسی طرح کا مضمون نیرنگ فصاحت: صفحہ، 135 پر بھی موجود ہے۔
امامتِ سیدنا صدیقِ اکبرؓ برحق ہے:
سیدنا صدیق اکبرؓ کی امامت کے انکار میں آج کل بہت شور و غل کیا جاتا ہے جب کہ خود سیدنا علی المرتضیٰؓ نے "امامتِ صدیقؓ" کے برحق ہونے کا عملی ثبوت پیش کردیا ہے۔ کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ باجماعت نماز میں مقتدی امام کی اقتداء میں نماز کے افعال سر انجام دیتا ہے اور سیدنا علی المرتضیٰؓ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے پیچھے نمازیں پڑھتے رہے تو بالکل وہی افعال سر انجام دیتے جو سیدنا ابوبکر صدیقؓ ادا کرتے تھے تو گویا وہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی امامت کو برحق سمجھتے تھے۔
سیدنا علی المرتضیٰؓ باجماعت نماز سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی اقتداء میں ادا فرماتے تھے۔
(احتجاج طبرسی: جلد، 1 صفحہ، 242، مراُۃ العقول شرح اصول کافی: صفحہ، 388، تلخیص الشافی: جلد، 2 صفحہ، 158، حملہ حیدری: جلد، 1 صفحہ، 275، تفسیرقمی: جلد، 2 صفحہ، 158،جلاء العیوان: صفحہ، 150)
سیدنا ابوبکرؓ "صدیق" ہیں:* ل
خلیفہ اول سیدنا ابوبکرؓ کا صدیق ہونا ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے مثلاً: حضورﷺ نے عرش پر لکھا دیکھا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہﷺ ابوبکر صدیق ملاحظہ ہو! 
(احتجاجِ طبرسی: صفحہ، 83)
حضور اکرمﷺ نے فرمایا:
میرے بعد اللہ تمہیں بہتر شخص سیدنا ابوبکر صدیقؓ پر جمع فرما دے گا۔
(تلخیص الشافی: جلد، 2 صفحہ، 372)
سیدنا محمد باقرؒ فرماتے ہیں:
لما كان رسول اللهﷺ فی الغار قال لأبی بكرؓ: كأنی انظر إلى سفينة جعفرؓ وأصحابه تقوم فی البحر، وأنظر إلى الأنصار محتبين فی أفنيتهم فقال أبوبكرؓ: وتريهم يا رسول اللهﷺ؟ قال: نعم قال: فأرنيهم، فمسح على عينه فرآهم، فقال فی نفسه: الان صدقت، فقال له رسول اللهﷺ أنت الصديق۔
(تفسیر قمی: جلد، 2 صفحہ، 290، مطبوعہ ایران، بحار الانوار: جلد، 19 صفحہ، 81)
ترجمہ: جب رسول اللہﷺ ہجرت کی رات غار میں تھے تو آپﷺ نے فلاں کو یعنی سیدنا ابوبکرؓ کو فرمایا کہ میں سیدنا جعفر طیارؓ اور ان کے ساتھیوں کو اس کشتی میں بیٹھے دیکھ رہا ہوں جو کہ دریا میں کھڑی ہے۔ نیز فرمایا میں انصار کو بھی اپنے گھروں کے صحنوں میں بیٹھا ہوا دیکھ رہا ہوں۔ یہ سن کر سیدنا ابوبکرؓ نے تعجب سے عرض کیا کہ آپﷺ واقعی دیکھ رہے ہیں؟ فرمایا ہاں! تو عرض کی مجھے بھی دکھلا دیجیئے۔ تو آپﷺ نے سیدنا ابوبکرؓ کی آنکھوں پر ہاتھ مبارک پھیرا تو انہوں نے بھی دیکھ لیا۔ تو رسول اللہﷺ نے ان کو فرمایا تو صدیق ہے۔
سیدنا بریدہ اسلمیؓ نے کہا ہے:
سمعت رسول اللہﷺ یقول ان الجنۃ تشتاق الی ثلاثۃ قال فجآء ابوبکرؓ فقیل لہ یا ابابکرؓ انت الصدیق وانت ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ اِذۡ هُمَا فِى الۡغَارِ۔
(رجال کشی: صفحہ، 32 مطبوعہ کربلا)
ترجمہ: میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا بے شک جنت تین آدمیوں کی مشتاق ہے فرماتے ہیں کہ اتنے میں سیدنا ابوبکرؓ آئے تو انہیں فرمایا گیا اے ابوبکرؓ تم صدیق ہو، اور غار میں دو کے دوسرے ہو۔
سیدنا عبداللہؒ نے کہا ہے میں نے سیدنا باقرؒ سے سوال کیا کہ کیا تلواروں کو زیور لگانا جائز ہے؟ تو آپ نے فرمایا اس میں کوئی مذائقہ نہیں جب کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے اپنی تلوار پر زیور لگایا ہے میں نے عرض کیا کہ آپ بھی ان کو صدیق کہتے ہیں، اس پر سیدنا باقرؒ غصہ میں آگئے اور قبلہ شریف کی طرف رخِ انور کرکے فرمایا" ہان" وہ صدیق ہیں، ہاں وہ صدیق ہیں، ہاں وہ صدیق ہیں، جو ان کو صدیق نہیں کہتا اللہ اس کے قول کو نہ دنیا میں سچا کرے، نہ آخرت میں۔ 
(کشف الغمہ: صفحہ، 78)
معلوم ہوا کہ سیدنا ابوبکرؓ کو "صدیق" نہ ماننے والے دنیا و آخرت میں جھوٹے ہیں اور اہلِ بیت کو ناراض کرنے والے بھی۔ العیاذباللہ
سیدنا جعفر صادقؒ فرماتے ہیں میں دو طرح سے سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی اولاد میں شامل ہوں۔ 
(الحقاق الحق: صفحہ، 7)
معلوم ہوا کہ تمام اہلِ بیتؓ آپؓ کو "صدیقِ اکبر" مانتے ہیں۔
خلفائے راشدینؓ کی خلافت برحق ہے:
صرف سیدنا علی المرتضیٰؓ ہی نہیں بلکہ چاروں خلفاء برحق ہیں چناچہ سیدنا علیؓ فرماتے ہیں تمام لوگوں میں اس خلافت کا اہل وہ ہے جو اس کے نظم و نسق کو برقرار رکھنے کی سب سے زیادہ قوت و صلاحیت رکھتا ہو اور اس کے بارے میں اللہ کے احکام سب سے ذیادہ جانتا ہو۔
(نہج البلاغہ: حصہ اول، خطبہ نمبر، 172)
ایک اور مقام پر فرمایا:
صفحہ 5 از 20