مسلک اہل بیت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مسلک اہل بیت

  غلام مرتضٰی ساقی مجددی

صفحہ 6 از 20
جن لوگوں نے سیدنا ابوبکرؓ سیدنا عمرؓ اور سیدنا عثمانؓ کی بیعت کی تھی، انہوں نے میرے ہاتھ پر اسی اصول کے مطابق بیعت کی، جس اصول پر وہ ان کی بیعت کر چکے تھے اور اس کی بناء پر جو حاضر ہے، اسے نظرِ ثانی کا حق نہیں اور جو بروقت موجود نہ ہو اسے روکنے کا اختیار نہیں اور شوریٰ کا حق صرف مہاجرین و انصار کو ہے وہ اگر کسی پر اتفاق کریں اور اسے خلیفہ سمجھ لیں تو اسی میں اللہ کی رضا و خوشنودی سمجھی جائے گی۔ اب جو کوئی اس شخصیت پر اعتراض یا نیا نظریہ اختیار کرتا ہوا الگ ہو جائے تو اسے وہ سب اسی طرف واپس لائیں گے جدہر سے وہ منحرف ہوا ہے اور اگر اس سے انکار کرے تو اس سے لڑیں کیونکہ وہ مومنوں سے ہٹ کر دوسری راہ پر ہو لیا ہے اور جدہر وہ پھر گیا ہے اللہ تعالیٰ بھی اسے ادھر ہی پھیر دے گا۔ 
(نہج البلاغہ: حصہ دوم، مکتوب نمبر، 6)
حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: میرے بعد خلافت تیس سال ہوگی، کیونکہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے دوسال تین ماہ اور آٹھ دن اور سیدنا عمر فاروقؓ نے دس سال چھ ماہ اور چار راتیں، سیدنا عثمانؓ نے گیارہ سال گیارہ ماہ اور تین دن، سیدنا علی المرتضیٰؓ نے چار سال ایک دن کم سات ماہ اور سیدنا حسنؓ نے آٹھ ماہ اور دس دن خلافت کی، یہ مدت تیس سال ہوئی۔ 
(مروج الذہب: جلد، 2 صفحہ، 429، احقاقِ حق، 265)
مقصد یہ ہے کہ ان حضرات کا دورِ خلافت برحق ہے۔
خلیفہ اول بلافصل سیدنا ابوبکر صدیقؓ:
سیدنا صدیقِ اکبرؓ نے اپنے کمالات و فضائل میں سب سے ممتاز و منفرد اور یکتا ہونے کی بناء پر بلافصل خلیفہِ رسول ہونے کا اعزاز حاصل کیا، مثلاً نبیﷺ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مجمع میں اکثر فرمایا کرتے کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نماز اور روزہ کی بنا پر سبقت نہیں لے گئے بلکہ سبقت کی وجہ وہ محبت ہے جوان کے سینے میں جمی ہوئی تھی۔
(مجالس المؤمنین: جلد، 1 صفحہ، 206)
حضورﷺ نے عرش پر لکھا دیکھا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ابوبکر صدیقؓ۔
(احتجاج طبرسی: جلد، 1 صفحہ، 365)
غارِ ثور میں حضور اکرمﷺ‎ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی آنکھوں پر ہاتھ پھیرا تو انہیں بھی سیدنا جعفر طیارؓ کی کشتی اور انصار نظر آگئے۔ اس کے بعد آپﷺ‎ نے فرمایا تو صدیق ہے۔ 
(تفسیر قمی: جلد، 1 صفحہ، 317 بحار الانوار: جلد، 19 صفحہ، 81)
بے شک ہم سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو خلافت کا سب سے زیادہ حق دار جانتے ہیں کیونکہ وہ رسول اللہﷺ کے یارِ غار ہیں اور نماز میں حضورﷺ‎ کے ساتھ دوسرے تھے اور بے شک ہم آپ کی بزرگی مانتے ہیں اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ کورسول اللہﷺ نے اپنی حیاتِ طیبہ میں امامتِ نماز کا حکم دیا تھا۔ 
(شرح نہج البلاغہ: جلد، 1 صفحہ، 293 جزء، 6 لابنِ ابی حدید)
سیدنا محمد باقرؒ سے مروی ہے:
قال امیرالمؤمنین علیہ السلام بعد وفاۃ رسول اللہﷺ فی المسجد و الناس مجتمعون بصوت عال اَلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ اَضَلَّ اَعۡمَالَهُمۡ فقال لہ ابن عباسؓ یا ابا الحسن لم قلت ما قلت قال قرات شیئا من القرآن قال لقد قلتہ لامر قال نعم ان اللہ یقول فی کتابہ وما اتاکم الرسول فخذوہ ومانھاکم عنہ فانتھوا فتشھدوا علی رسول اللہﷺ‎ انہ استخلف ابابکرؓ۔
(تفسیر صافی: جلد، 2 صفحہ، 561، 562 مطبوعہ ایران، تفسیر قمی: جلد، 2 صفحہ، 301 مطبوعہ ایران)
امیرالمؤمنین سیدنا علیؓ نے رسول پاکﷺ‎ کے انتقال کے بعد مسجد میں لوگوں کے بھرے اجتماع میں بلند آواز سے اَلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ اَضَلَّ اَعۡمَالَهُمۡ پڑھا تو سیدنا ابنِ عباسؓ نے عرض کیا اے ابو الحسن علی المرتضیٰؓ جو کچھ آپ نے پڑھا اس پڑھنے کا کیا مقصد ہے، تو سیدنا علی المرتضیٰؓ نے فرمایا میں نے قرآنِ مجید سے آیت پڑھی ہے۔ تو سیدنا ابنِ عباسؓ نے پھر عرض کیا آپ کے پڑھنے کی کوئی نہ کوئی غرض اور غایت ہے۔ تو سیدنا علی المرتضیٰؓ نے فرمایا ہاں اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے، اور جو تم کو رسول اللہﷺ دین دیں لے لیا کرو، اور جس سے منع فرمائیں رک جایا کرو۔ تو تم رسول اللہﷺ‎ کے گواہ ہو جاؤ کہ انہوں نے سیدنا ابوبکرؓ کو اپنا خلیفہ بنایا۔
ایک اور روایت میں واضح موجود ہے کہ:
ثم قام وتھیاء للصلوٰۃ وحضر المسجد و صلیٰ خلف ابی بکر۔ 
(تفسیر قمی: جلد، 2 صفحہ، 503 احتجاج طبرسی: جلد،1 صفحہ، 126)
ترجمہ: سیدنا علیؓ اُٹھے اور نماز کی تیاری کر کے مسجد میں آئے اور سیدنا ابوبکرؓ کے پیچھے نماز پڑھی۔
جلاءالعیون کا اردو ترجمہ جو شیعہ حضرات کا مترجم ہے کی عبارت ملاحظہ ہو! لکھا ہے سیدنا علیؓ نے وضو کیا، اور مسجد میں تشریف لائے سیدنا خالد بن ولیدؓ بھی پہلو میں آ کھڑا ہوا، اس وقت سیدنا ابوبکرؓ نماز پڑھا رہے تھے۔ 
(جلاء العیون اردو: جلد، 1 صفحہ، 213 مطبوعہ لاہور)
سیدنا علی المرتضیٰؓ فرماتے ہیں:
ہر ذلیل میرے نزدیک باعزت ہے جب تک اس کا دوسرے سے حق نہ لے لوں اور قوی میرے لیے کمزور ہے یہاں تک کہ میں مستحق کا حق اس سے دلا نہ دوں ہم اللہ کی قضاء پر راضی ہوئے اور اس کے امر کو اسی کے سپرد کیا، اے پوچھنے والے! تو سمجھتا ہے کہ نبی پاکﷺ پر بہتان باندھوں گا، خدا کی قسم میں نے ہی سب سے پہلے آپ کی تصدیق کی تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں ہی سب سے پہلے جھٹلانے والا بنوں، میں نے اپنے معاملہ میں غور کیا تو اس نتیجہ پر پہنچا کہ میرا سیدنا ابوبکرؓ کی اطاعت کرنا اور ان کی بیعت میں داخل ہونا اپنے لیے بیعت لینے سے بہتر ہے اور میری گردن میں غیر کی بیعت کرنے کا عہد بندھا ہوا ہے۔
(نہج البلاغہ: حصہ اول، صفحہ، 89، 88 خطبہ نمبر، 37)
اسی خطبہ کی تشریح کرتے ہوئے ابنِ میشم لکھتا ہے کہ:
فقولہ فنظرت فاذا اطاعتی قدسبقت بیعتی ای طاعتی لرسول اللہﷺ فیما امرنی بہ من ترک القتال قدسبقت بیعتی للقوم فلا سبیل الی الامتناع منھا وقولہ و اذا المیثاق فی عنقی لغیری ای میثاق رسول اللہﷺ و عھدہ الی بعدم المشاقۃ وقیل المیثاق مالزمہ من بعتہ ابی بکرؓ بعد ایقاعھا ای فاذا میثاق القوم قد لزمنی فلم یمکنی المخلافۃ بعدہ۔
(شرح نہج البلاغہ: جلد، 2 صفحہ، 97 لابنِ میشم مطبوعہ ایران)
صفحہ 6 از 20