مسلک اہل بیت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مسلک اہل بیت

  غلام مرتضٰی ساقی مجددی

صفحہ 7 از 20
ترجمہ: سیدنا علیؓ فرماتے ہیں کہ پس میں نے غور و فکر کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ میرا بیعت لینے سے اطاعت کرنا سبقت لے گیا ہے، یعنی رسول اللہﷺ نے ترک قتال کا مجھے حکم فرمایا تھا، وہ اس بات پر سبقت لے گیا ہے کہ میں قوم سے بیعت لے لوں۔ و اذا المیثاق فی عنقی لغیری سے مراد رسول اللہﷺ کا مجھ سے وعدہ لینا ہے، مجھے اس کا پابند رہنا لازم ہے۔ جب لوگ سیدنا ابوبکرؓ کی بعیت کر لیں، تو میں بھی بیعت کر لوں پس جب قوم کا عہد مجھ پر لازم ہوا یعنی سیدنا ابوبکرؓ کی بیعت مجھ پر لازم ہوتی تو اس کے بعد میرے لیے نا ممکن تھا کہ میں اس کی مخالفت کرتا۔
مزید فرمایا: تم رسول اللہﷺ کے گواہ بن جاؤ کہ انہوں نے سیدنا ابوبکرؓ کوخلیفہ بنایا ہے۔"
(تفسیر صافی: جلد، 2 صفحہ، 561، تفسیر قمی: صفحہ، 624)
سیدنا علیؓ کی خدمت میں آخری وقت عرض کیا گیا کہ آپ اپنے قائم مقام کے لیے وصیحت کیوں نہیں فرماتے تو آپؓ نے فرمایا:
ما وصی رسول اللہﷺ فاوصیٰ ولکن قال ان اراد اللہ خیرا فیجمعھم علی خیرھم بعد نبیھم۔ 
(تلخیص الشافی: جلد، 2صفحہ، 372)
رسول اللہﷺ نے وصیحت نہیں کی تھی تو میں کیسے کروں؟ البتہ حضورﷺ نے یہ فرمایا تھا اگر اللہ تعالیٰ نے بھلائی کا ارادہ فرمایا تو میرے بعد تم میں سے بہتر شخص پر لوگوں کا اتفاق ہو جائے گا۔
دوسری روایت ہے کہ جب ابنِ ملجم ملعون نے سیدنا علیؓ کو زخمی کیا، تو ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، عرض کیا کہ حضور اپنا خلیفہ مقرر فرمائیں تو آپؓ نے فرمایا: قال لا، فانا دخلنا علی رسول اللہ حین ثقل فقلنا یارسول اللہﷺ استخلف علینا فقال لا۔
(تلخیص الشافی: جلد، 2 صفحہ، 372، مطبوعہ نجف اشرف)
تو آپؓ نے فرمایا نہیں کیونکہ رسول اللہﷺ کے مرضِ وفات میں ہم آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یارسول اللہﷺ! ہمارے لیے کوئی اپنا خلیفہ مقرر فرمایئں، تو جواب دیا نہیں۔ مجھے اس بات کا خوف ہے کہ اگر میں خلیفہ مقرر کر دوں تو تم اختلاف کرو گے جیسا کہ نبی اسرائیل نے ہارون علیہ السلام کے متعلق اختلاف کیا تھا۔ لیکن یقین رکھو کہ اگر اللہ نے تمہارے دلوں میں خیر دیکھا تو وہ تمہارے لیے خودہی بہتر خلیفہ مقرر کردے گا۔
اسی سلسلہ روایت میں یہ بھی موجود ہے کہ سیدنا علیؓ سے اپنے بعد خلیفہ مقرر کرنے کی درخواست کی گئی تو فرمایا:
ولکن اذا اراد اللہ بلناس خیر ااستجمعھم علی خیرِ کما جمعھم بعد نبیھم علی خیرھم۔
(الشافی: صفحہ، 171، مطبوعہ نجف اشرف)
لیکن جب اللہ تعالیٰ لوگوں کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرے گا تو ان کے بہتر شخص پر انہیں متفق کر دے گا جس طرح نبیﷺ کے بعد اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو بہتر شخص سیدنا ابوبکرؓ پر جمع فرما دیا تھا۔
سیدنا علیؓ نے جب سنا کہ تمام مسلمانوں نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی بیعت پر اتفاق کرلیا ہے تو اس قدر جلدی در دولت سے تشریف لائے کہ چادر اور تہبند بھی نہ اوڑھا صرف پیرہن میں ملبوس تھے اسی صورت میں سیدنا ابوبکرؓ کے ہاں پھنچے اور بیعت کی، بیعت کے بعد چند آدمی کپڑے لینے کے لئے بھیجے تاکہ مجلس میں کپڑے لے آئیں۔
(تاریخ روضۃ الصفاء: جلد، 1 صفحہ، 432)
سیدنا امیرِ معاویہؓ نے ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عباسؓ سے پوچھا سیدنا ابوبکرؓ کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ فرمایا اللہ رحم کرے سیدنا ابوبکر صدیقؓ پر خدا کی قسم! وہ قرآن پڑھنے والے، منکرات سے روکنے والے، اپنے گناہوں سے واقف رہنے والے، اللہ سے ڈرنے والے، دن کو روزہ رکھنے والے، تقویٰ میں اپنے ساتھیوں سے فوقیت رکھنے والے، زہد اور عفت کے سردار تھے، جس نے سیدنا ابوبکرؓ پر اعتراض کیا اللہ اس پر غضب نازل فرمائے۔ 
(مروج الذہب: جلد، 3 صفحہ، 55)
سیدنا باقرؒ فرماتے ہیں: میں سیدنا ابوبکرؓ کے فضائل کا منکر نہیں ہوں لیکن سیدنا ابوبکرؓ، سیدنا عمرؓ سے افضل ہیں۔
(احتجاج طبرسی: جلد، 2 صفحہ، 479)
بلاشبہ سیدنا ابوبکرؓ ہی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے سیدہ فاطمہؓ کا جنازہ پڑھایا اور چار تکبیریں کہیں۔ 
(شرح نہج البلاغہ: جلد، 4 صفحہ، 100 الابنِ ابی حدید)
سیدنا علی بن حسنینؓ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدہ فاطمہؓ کا انتقال ہوگیا تو اس وقت مغرب اور عشاء کا درمیانی حصہ تھا اس انتقال کی خبر سن کر سیدنا ابوبکرؓ سیدنا عمرؓ سیدنا عثمانؓ، سیدنا زبیرؓ اور سیدنا عبدالرحمٰن بن عوفؓ حاضر ہوئے پھر جب نمازِ جنازہ کے لیے ان کی میت رکھی گئی تو سیدنا علیؓ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے کہا اے ابوبکرؓ! آگے ہو کر ان کی نمازِ جنازہ پڑھایئے پوچھا کہ اے ابوالحسنؓ! آپ اس وقت موجود تھے، فرمایا، ہاں، سیدنا علی المرتضیٰؓ نے کہا تھا سیدنا ابوبکرؓ چلو نماز پڑھاؤ، خدا کی قسم! سیدہ فاطمہؓ کی نمازِ جنازہ تمہارے بغیر کوئی نہیں پڑھائے گا تو سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی پھر انہیں رات کے وقت سپردِ خاک کر دیا گیا۔
(شرح نہج البلاغہ: جلد، 2 صفحہ، 302 لابنِ ابی حدید)
سیدنا علیؓ کے ایک خطبہ کے متعلق شیعی روایت ملاحظہ ہو:
ان علیاؓ قال فی خطبتہِ خیر ھذہ الامۃ بعد بیھا ابوبکرؓ و عمرؓ وفی بعض الاخبار انہ علیہ السلام خطب بذلک بعد ما انھی الیہ ان رجلا تناول ابابکرؓ و عمرؓ بالشتیمۃ فدعی بہ وتقدم بعقوبتہ بعد ان شھدوا علیہ بذلک۔
(الشافی: جلد، 2 صفحہ، 428)
ترجمہ: سیدنا علیؓ نے اپنے خطبہ میں فرمایا: نبی کریمﷺ کے بعد تمام امت سے افضل سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ ہیں۔ بعض روایتوں میں واقعہ یوں ذکر ہوا ہے کہ سیدنا علیؓ کی خدمت میں اطلاع پہنچی کہ ایک شخص نے سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ کی شان میں بد زبانی کی ہے، جس کے بعد امیرالمؤمنین سیدنا علیؓ نے اس گالی بکنے والے کو بلایا، شہادت طلب کی اور شہادت کے بعد جب گالی دینا ثابت ہوگیا تو اسے سزا دی۔
اسی کتاب الشافی میں سیدنا زین العابدینؒ کی روایت ہے کہ جب سیدنا ابوبکرؓ خلیفہ منتخب ہوئے تو سیدنا ابوسفیانؓ سیدنا علیؓ کے پاس آئے اور کہا کہ آپؓ ہاتھ بڑھائیں میں آپؓ کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں، اور بخدا میں آپؓ کی حمایت میں اس علاقہ کو سواروں اور پیدل سپاہیوں سے بھردوں گا، اگر آپ خوف کے باعث اعلان خلافت نہیں کر رہے ہیں۔ یہ سن کر سیدنا علیؓ نے چہرہ پھیر لیا اور فرمایا:
صفحہ 7 از 20