مسلک اہل بیت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مسلک اہل بیت

  غلام مرتضٰی ساقی مجددی

صفحہ 8 از 20
ویحک یا اباسفیانؓ ھذہ من دواھیک قد اجتمع الناس علی ابی بکرؓ مازلت تبتغی الاسلام عوجا فی الجاھلیتہ والسلام واللہ ماضر الاسلام ذلک شیئا مازلت صاحب الفتنۃ۔ 
(الشافی: جلد، 2صفحہ، 428)
ابوسفیانؓ! تیرے لیے سخت افسوس ہے، یہ سب تیری چالوں اور مصیبتوں سے ہیں۔ حالانکہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی خلافت پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اجتماعی متفقہ فیصلہ ہوچکا، تو کفر اور اسلام میں ہمیشہ فتنہ اور کج روی کا متلاشی رہا ہے۔ بخدا اس سے اسلام کو کوئی گزند نہیں پہونچے گا۔ اور ہمیشہ فتنہ گرہی رہے گا۔
رسولﷺ ہجرت کے وقت جب غار کی طرف تشریف فرما ہوئے تو آپﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور امت کو یہ وصیحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے میرے پاس جبرائیل علیہ السلام کو بھیج کر فرمایا کہ اللہ آپ پر صلوٰۃ و سلام بھیجتا ہے۔ اور فرماتا ہے کہ ابوجہل اور کفار قریش نے آپ کے خلاف منصوبہ بنایا ہے اور آپ کے قتل کا ارادہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آپ سیدنا علی المرتضیٰؓ کو اپنے بستر مبارک پر شب باشی کا حکم دیں، اور فرمایا کہ ان کا مرتبہ آپﷺ کے نزدیک ایسا ہے جیسا اسحٰق ذبیح کا مرتبہ، سیدنا علیؓ اپنی زندگی اور روح کو آپ پر فدا کریں گے۔ اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم فرمایا ہے کہ آپ ہجرت میں سیدنا ابوبکرؓ کو اپنا ساتھی مقرر فرمائیں، کیونکہ اگر وہ حضور کی اعانت و رفاقت اختیار کرلیں اور حضور کے عہد و پیمان پر پختہ کار ہو کر ساتھ دیں تو آپ کے رفقاءِ جنت میں ہوں گے، اور جنت کی نعمتوں میں آپ کے مخلصین سے ہوں گے۔ لہٰذا رسول اللہﷺ نے سیدنا علیؓ سے فرمایا کہ اے علیؓ! کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ دشمن مجھے تلاش کرے تو نہ پائے، اور تمہیں ڈھونڈے تو تم اسے مل جاؤ، اور شاید جلدی میں تیری طرف پہنچ کر بےخبر لوگ تجھے شبہ میں قتل کر دیں، سیدنا علیؓ نے عرض کیا یارسول اللہﷺ میں اس بات پر راضی ہوں کہ میری روح حضور کی مقدس روح کے لیے سِپر ثابت ہو۔ اور میری زندگی حضور پر اور حضور کے ساتھی پر اور حضور کے بعض حیوانات پر فدا ہو، حضور امتحان فرمالیں، میں زندگی کو پسند ہی اس لیے کرتا ہوں کہ حضور کے دین کی تبلیغ کروں، اور حضور کے دوستوں کی حمایت کروں، اور حضورﷺ کے دشمنوں کے خلاف جنگ کروں، اگر یہ نیت نہ ہوتی تو میں دنیا میں ایک ساعت بھی زندگی پسند نہ کرتا، یہ سن کر حضورﷺ نے سیدنا علیؓ کے سر کو بوسہ دیا، اور فرمایا اے ابوالحسنؓ تیری یہی تقریر مجھے فرشتوں نے لوح سے پڑھ کر سنائی ہے، اور اس تقریر کا جو اجر اللہ نے تیرے لیے آخرت میں تیار فرمایا ہے وہ بھی پڑھ کر سنایا ہے، وہ ثواب جسے نہ سننے والوں نے سنا، نہ دیکھنے والوں نے دیکھا اور نہ انسانی عقل وفہم میں آ سکتا ہے، پھر حضورﷺ نے سیدنا ابوبکرؓ سے فرمایا:
ارضیت ان تکون معی یا ابابکرؓ تطلب کما اطلب وتعرف بانک انت الذی تحملنی علی ما ادعیہ فتحمل عنی انواع العذاب قال ابوبکرؓ یارسول اللہﷺ‎ اما انا لوعشت عمر الدنیا اعذب فی جمیعھا اشد عذاب لاینزل علی موت صریح ولافرح مسیح وکان ذلک فی محبتک لکان ذلک احب الی من ان اتنعم فیھا وانا مالک لجمیع ممالیک ملوکھا فی مخالفتک وھل انا ومالی و ولدی الافداؤک فقال رسول اللہﷺ لاجرم ان اطلع اللہ علی قلبک و وجد موافقا لم جریٰ علی لسانک جعلک منی بمنزلۃ السمع والبصر والراس من الجسد الیٰ آخرہ۔
(تفسیرحسن عسکری: صفحہ 164، 165)
ترجمہ: اے ابوبکرؓ تو میرے ہمراہ چلنے کے لیے تیار ہے؟ کہ تجھے بھی لوگ اسی طرح تلاش کریں جیسے مجھے، اور تیرے متعلق دشمنوں کو یقین ہو جائے کہ تو نے مجھے ہجرت پر اور اعداء کے مکر و فریب سے بچ نکلنے پر امادہ کیا، کیا تجھے میری وجہ سے مصائب و آلام گوارہ ہیں؟ سیدنا ابوبکرؓ نے جواب دیا یا رسول اللہﷺ‎ اگر میں قیامت تک زندہ رہوں اور اس زندگی میں سخت عذاب اور مصائب میں مبتلا رہوں جس مصیبت والم سے بچانے کے لیے نہ مجھے موت آئے اور نہ کوئی مجھے آرام دے سکے اور یہ تمام حضورﷺ‎ کی محبت میں ہو تو مجھے بطیبِ خاطر منظور ہے اور یہ مجھے منظور نہیں کہ لمبی زندگی ہو اور دنیا کے بادشاہوں کا بادشاہ بن کر رہوں اور تمام نعمتیں اور آسائشیں حاصل ہوں، لیکن حضورﷺ‎ کی معیت سے محرومی ہو، اور میں اور میرا مال اور اولاد حضورﷺ‎ پر فدا اور قربان ہیں پس حضورﷺ نے فرمایا یقیناً اللہ تعالیٰ تیرے دل پر مطلع ہے، اور جو کچھ تو نے کہا اللہ تعالیٰ نے اس کو تیری دلی کیفیت کے مطابق پایا ہے، اللہ تعالیٰ نے تجھے میرے کان اور میری آنکھ کی طرح کیا ہے، اور جو نسبت سر کو جسم سے ہے اللہ تعالیٰ نے تجھے اس طرح بنایا ہے۔
خلیفہ ثانی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ:
اہلِ تشیع سیدنا فاروقِ اعظمؓ پر طرح طرح کے الزامات لگاتے ہیں لیکن ملاحظہ فرمایئں کہ کتبِ شیعہ میں ان کی شان و عظمت کس طرح چمک دمک رہی ہے۔
جب سیدنا عمر بن خطابؓ برہنہ تلوار لئے بارگاہِ نبوی میں حاضر ہوئے تو حضور اکرمﷺ نے فرمایا: یہ عمرؓ ہے اے اللہ! عمرؓ کے ذریعے السلام کو عزت عطا کر دے، سیدنا عمرؓ نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپﷺ یقینا اللہ کے رسول ہیں وہاں موجود تمام لوگوں نے نعرہ تکبیر بلند کیا جس کو مسجد میں موجود مشرکین نے سنا۔ 
(شرح نہج البلاغہ: جلد، 2 صفحہ، 143 لابنِ ابی حدید)
ایک روایت میں ہےکہ حضورﷺ نے سیدنا عمرؓ کا بازو پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوئے فرمایا اگر صلح صفائی کے طور پر تو آیا ہے تو میں ہاتھ روک لیتا ہوں ور اگر جنگ کے ارادے سے آیا ہے تو میں ابھی تیرا کام تمام کئے دیتا ہوں سیدنا عمرؓ کہنے لگے میں مسلمان ہو گیا ہوں، آپﷺ نے فرمایا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھو جب سیدنا عمرؓ نے کلمہ پڑھا تو حضورﷺ نے تکبیر کہی، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے انتہائی خوشی اور مسرت میں آ کر اتنے زور سے تکبیر کہی کہ قریش کی مجلسوں تک اس کی آواز سنائی دی۔ 
(تاریخ روضۃ الصفاء: جلد، 2 صفحہ، 284)
صفحہ 8 از 20