مسلک اہل بیت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مسلک اہل بیت

  غلام مرتضٰی ساقی مجددی

صفحہ 9 از 20
سیدنا خبابؓ سیدنا عمرؓ کے پاس آئے اور کہا "اے عمرؓ! خوشخبری ہو مجھے امید ہے کہ رسول اللہﷺ نے آج تیرے لیے دعا کی اور تو آپﷺ کی دعا کی قبولیت کا مظہر ہوگا، آپ لگاتار دعا کرتے رہے، اے اللہ! سیدنا عمر بن خطابؓ کے ذریعے اسلام کو عزت و غلبہ عطا فرما۔(شرح نہج البلاغہ: جلد، 1 صفحہ، 59 لابنِ ابی حدید)
سیدنا ابنِ عباسؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرمﷺ ایک مرتبہ اپنی زوجہ سیدہ حفصہؓ کے پاس بیٹھے تھے تو دونوں میں کچھ اختلاف ہوگیا تو حضورﷺ نے فرمایا: کیا میں اپنے اور تیرے درمیاں بطورِ ثالث کسی شخص کا تقرر کروں سیدہ حفصہؓ کہنے لگیں جی کیجیئے تو آپﷺ نے سیدنا عمرؓ کی طرف پیغام بھیجا وہ آگئے، آپﷺ نے سیدہ حفصہؓ سے فرمایا اب بات کرو سیدہ حفصہؓ نے عرض کی آپﷺ ارشاد فرمائیں لیکن بات سچی ہو (یہ سن کر) سیدنا عمرؓ نے سیدہ حفصہؓ کے منہ پر طمانچہ رسید کیا پھر دوسرا طمانچہ مارا تو حضورﷺ نے فرمایا، عمرؓ رک جاؤ، سیدنا عمرؓ کہنے لگے اے اللہ کی دشمن! پیغمبر جو کہتا ہے حق کہتا ہے اس اللہ کی قسم! جس نے انہیں حق کے ساتھ بھیجا اگر حضورﷺ کا گھر نہ ہوتا تو میں تیری جان لئے بغیر نہ رکتا۔ 
(تفسیر مجمع البیان: جلد، 4 صفحہ، 35، جز نمبر، 8، ناسخ التواریخ: جلد، 3 صفحہ، 172)
حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:
سیدنا عمرؓ اہلِ جنت کا چراغ ہے اور سکینہ عمرؓ کی زبان پر بولتا ہے۔
(احتجاج طبرسی: صفحہ، 247)
مزید فرمایا: عمرؓ کی زبان پرحق بولتا ہے اور فرشتہ عمرؓ کی زبان پر بولتا ہے۔
(تلخیص الشافی جلد، 2 صفحہ، 247)
حضورﷺ نے فرمایا اگر آسمان سے اللہ کا آج غضب و عذاب نازل ہوتا تو سیدنا عمر بن خطابؓ اور سیدنا سعد بن معاذؓ کے بغیر کوئی نہ بچ سکتا۔
(تفسیر مجمع البیان: جلد، 2 صفحہ، 559، جز نمبر، 4)
سیدنا علیؓ کوفہ میں تشریف لائے تو آپؓ سے عرض کی گئی کہ قصر امارت میں قیام فرمایئں گے تو فرمایا نہیں کیونکہ ایسی جگہ سیدنا عمرؓ ٹھہرنا ناپسند فرماتے تھے، اس لیے عام مکان میں قیام کروں گا پھر آپؓ نے جامع مسجد کوفہ میں تشریف لا کر دوگانہ پڑھا پھر ایک مکان میں قیام فرمایا۔ 
(اخبار الطوال:صفحہ، 152)
سیدنا علیؓ نے فرمایا ہم سیدنا عمرؓ کے بغیر کسی کے خلیفہ بننے کو پسند نہیں کریں گے، اس پر سیدنا صدیقِ اکبرؓ نے سیدناؓ کے لیے دعائے خیر فرمائی پھر سیدنا علیؓ نے فرمایا کہ ہم سیدنا عمرؓ کے سوا کسی کی اطاعت نہیں کریں گے، خدا کی قسم! اس گراں بوجھ (خلافت) کو سیدنا عمرؓ کے بغیر کوئی بھی اٹھانے والا ہمیں نظر نہیں آیا پھر سیدنا علیؓ نے سیدنا عمرؓ کے کچھ اصاف بیان فرمائے۔ بعد ازاں سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا "اے رسول اللہ کے خلیفہ! آپؓ کی پسند ہماری پسند ہے اور ہماری خوشی آپؓ کی خوشی سے وابستہ ہے ہم سب جانتے ہیں کہ تمام زندگی آپؓ نے بروجہ احسن بسر فرمائی اور ہمیشہ اُمت کی بھلائی اور خیر خواہی فرمائی اللہ تمہیں جزائے خیر دے اور اپنی عنایت و بخشش سے مخصوص فرمائے۔
(تاریخ روضۃ الصفاء: جلد، 2 صفحہ، 442)
سیدنا عمر فاروقِ اعظمؓ نے روم پر حملہ کرنے سے متعلق سیدنا علیؓ شیرِ خدا سے مشورہ لیا تھا۔ اس مشورہ کا تفصیلاً ذکر شیعہ حضرات کی نہج البلاغہ کے خطبہ نمبر: 134 میں یوں درج ہے:
من کلام لہ علیہ السلام وقد شاور عمربن الخطابؓ فی الخروج الی غزرۃ الروم انک متیٰ تسیر الی ھٰذا العدو بنفسک فتلقھم فتنکب لاتکن للمسلمین کاتفتہ دون اقصیٰ بلادھم لیس بعدک مرجع یرجعون الیہ فابعث الیھم رجالا محربا واحضر معہ اھل البلاء والنصیحۃ فان اظھر اللہ فذاک ما تحب وان تکن الاخریٰ کنت رد اللناس ومثابۃ للمسلمین۔
اس کا ترجمہ شیعہ مسلک کے ذاکرحسین صاحب نے کیا ہے وہ درج کیا ذیل ہے:
ترجمہ: جب خلیفہ ثانی نے روم پر چڑھائی کا ارادہ کیا اور آپؓ سے بھی مشورہ لیا تو آپؓ نے فرمایا اب اگر تو خود دشمن کی طرف کوچ کرے اور منکوب و مخزول ہو جائے تو یہ سمجھ لے کہ مسلمانوں کو ان کے اقصیٰ بلاد تک پناہ نہ ملے گی اور تیرے بعد ایسا کوئی مرجع نہ ہوگا جس کی طرح وہ رجوع کریں، لہٰذا تو دشمنوں کی طرف اس شخص کو بھیج جو آزمودہ کا رہو اور اس کے ماتحت ان لوگوں کو روانہ کرو جو جنگ کی سختیوں کے متحمل ہوں، اپنے سردار کی نصیحت کو قبول کریں، اب اگر خدا نے غلبہ نصیب کیا، تب تو یہ وہی چیز ہے جسے تو درست رکھتا ہے۔ اور اگر اس کے خلاف ظہور میں آیا تو ان لوگوں کا مددگار اور مسلمانوں کا مرجع تو ہی بن جائے گا۔ 
(نیزنگ فصاحت ترجمہ نہج البلاغہ: صفحہ، 150 مطبع یوسفی دہلی)
ایک دوسری روایت کے الفاظ ملاحظہ ہوں!
ومن کلام لہ علیہ السلام وقداستشار عمر بن خطابؓ فی الشخومن لقتال الفرس بنفسہ ان ھذا الامر لم یکن نصرہ ولاخذ لانہ بکثرۃ ولابقلۃ وھو دین اللہ الذی اظھرہ وجندہ الذی اعدہ وامدہ حتیٰ بلغ مابلغ وطلع حیث طلع ونحن علی موعود من اللہ واللہ منجز وعدہ وناصر جندہ ومکان القیم بالامر مکان النظام من الخرز و ذھب ثم لم یجتمع بحذا فیرہ ابدا والعرب الیوم وان کانوا قلیلا فھم کثیرون بالاسلام عزیزون بالاجتماع فکن قطبا واستدار الرحاء بالعرب واصلھم دونک نار الحرب فانک ان شخصت من ھذہ الارض انتقضت علیک العرب من اطرافھا واقطارھا حتیٰ یکون ما تدع و رایک من العورات اھم الیک مما مابین یدی ان الاعاجم ان ینظروا الیک غدا یقولوا ھذا اصل العرب فاذا اقتطعموہ استرحتم فیکون ذلک اشد لکلبھم علیک وطعمھم فیک الخ۔
(نہج البلاغۃ: خطبہ نمبر، 146)
اس کا شیعی ترجمہ ملاحظہ ہو!
صفحہ 9 از 20