شیعہ مناظر کی طرف سے کاپی پیسٹ نہ کرنے والی شرط کی خلاف…

شیعہ مناظر کی طرف سے کاپی پیسٹ نہ کرنے والی شرط کی خلاف ورزی کا  ثبوت اور من وعن کسی اور کی تحریر پیش کرنا! اہل تشیع کے ہاں عورت زمین کی وارث نہیں ہوتی۔(قسط 21)

  جعفر صادق

صفحہ 1 از 3

شیعہ مناظر کی طرف سے کاپی پیسٹ نہ کرنے والی شرط کی خلاف ورزی کا  ثبوت اور من وعن کسی اور کی تحریر پیش کرنا!

اہل تشیع کے ہاں عورت زمین کی وارث نہیں ہوتی۔(قسط 21)

 

  سنی مناظر: السلام وعلیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔

آپ کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ جو نکتہ پوچھا جائے اس پر کوئی جواب نہیں دیتے باقی جو  آپ کو پیچھے سے فیڈ بیک دیا جائے وہ آگے گروپ میں بھیجنا شروع کر دیتے ہیں۔ (مجھے پتہ ہے آپ یہ بات تسلیم نہیں کریں گے لیکن میں آج اس بات کا ثبوت بھی دوں گا۔)

 میں نے قالت کے بعد ناراضگی کے الفاظ ثابت کرنے کو کہا تھا ،آپ  نے دوبارہ سیدہ فاطمہ کی طرف سے مطالبہ فدک دکھانا شروع کر دیا ہے۔ اس کا ہم انکار نہیں کرتے،  جو نکتہ ہمارے درمیان اختلاف کا باعث ہے اس پر کب گفتگو کریں گے؟

مجھے عربی نہیں  آتی تو آپ تو عالم ہو، آپ کو اصل نکتہ سمجھ کر جواب دینے میں مشکل کیوں پیش آ رہی ہے۔

آپ کو کس نے سوالات  پوچھنے سے روکا ہے؟  اس طرح دھونس جمانے سے بہتر ہے میری طرح سوالات کی فہرست بنالیں۔ اگر جواب نہ دوں تو  پھر شوق سے سب کو بتاتے رہئے گا! اور اب تک کی گفتگو میں اپنے اس سوال کی نشاندھی بھی کردیں جس کا جواب میں نے نہیں دیا، سوائے سیدنا علی کی حدیث کے، جو آپ نے خود اگلے حصے میں تحریر کی تھی۔  لیکن فکر نہ کریں، کل سے ہم پہلے مرحلے کے ب پر گفتگو شروع کریں گے تاکہ ممبرز مزید بور نہ ہوں اور یہ نہ سمجھیں کہ ہم اس حدیث کا دفاع نہیں کر سکتے۔

شیعہ مناظر کی طرف سے کاپی پیسٹ نہ کرنے والی شرط کی خلاف ورزی کا  ثبوت اور من وعن کسی اور کی تحریر پیش کرنا!

 اگلے پیج پر اسکرین شاٹ  ملاحظہ فرمائیں۔

 

 کیا ایک حدیث جس میں میراث کا ذکر ہو وہ کسی اور باب میں نقل ہو تو مسترد کی جاتی ہے؟

ایک ہی حدیث میں کئی موضوعات کا ہونا ممکن ہے، یہ محدث کا  کام ہے کہ  حدیث  میں    مختلف موضوع ہونے کی صورت میں کس موضوع کو اہمیت دے اور اسے کس باب میں شامل کرے ، اہلسنت کے ہاں صحیحین میں بھی اسی طرح ہے، لیکن اگر آپ کی یہ منطق مان لی جائے تو پھر جو احادیث صحیحین سے پیش کرتے آ رہے ہیں ان کے باب بھی ذرا چیک کرلیں۔ کیا وہ  احادیث باب میراث میں ہیں؟  کیا اس منطق کو مان کر میں بھی آپ کی طرح انکار کردوں کہ یہ احادیث میراث کے باب میں نہیں ہیں اس لئے میں نہیں مانوں گا؟  اللہ اللہ کریں محترم!!

پرسنل میں کوئی آپ کی مدد کر بھی رہا ہے تو  اس کی باتیں مناظرے میں بھیجنے سے پہلے اپنی عقل بھی استعمال کر لیں، آج آپ نے طئے  شدہ شرائط میں سے پہلی شرط کی بھی واضح خلاف ورزی کی ہے۔  ہمارے درمیان طئے تھا کہ ہم کاپی پیسٹ نہیں کریں گے۔ آپ سے دوبارہ گذارش ہے کہ شرائط قبول کی ہیں تو ان پر عمل بھی کریں۔

 

بالکل۔۔۔ میرا اعتراض بھی یہی ہے اور میں ثابت کرچکا ہوں کہ اہل تشیع کتب اور ان کے علماء کا معیار کیا ہے! جو باتیں آج ایک بچہ بھی جانتا ہے ، ان بنیادی باتوں سے شیعہ مجتہدین یا تو لاعلم تھے یا جان بوجھ کر قرآن کے خلاف روایات کی توثیق کرتے رہے جبکہ خود نبی کریم اور اہل بیت سے بھی مروی ہے کہ قرآن کے خلاف روایت مسترد کردو ، لیکن شیعہ مجتہدین اور محدثین نے اس قول امام معصوم پر بھی عمل نہیں کیا اور ان کی    توثیق کرنے کی وجہ سے  ایسی بیشمار صحیح روایات شیعہ کتب میں بھری پڑی ہیں جو قرآن کے خلاف ہیں! اس کا مطلب یہ ہوا کہ اہل تشیع کی ضعیف روایات ہوں یا صحیح روایات، خود اہل تشیع بھی انہیں تسلیم نہیں کرتے! 

*انا لللہ وانا الیہ راجعون۔*

  رہی بات ان روایات میں بیوی کا ذکر ہے یا عورت کا! یہ فیصلہ پڑھنے والوں پر چھوڑتا ہوں۔ دونوں صورتوں میں یہ علامہ مجلسی کی توثیق شدہ روایات خلاف قرآن  ہیں! ایسے محدثین آپ کو ہی مبارک ہوں۔

میں آپ کو قول معصوم بمعہ توثیق دکھا کر چار صحیح روایات شیعہ کی سب سے معتبر کتاب اصول کافی سے دکھا چکا ہوں جو خود آپ بھی تسلیم کرچکے ہیں کہ خلاف قرآن ہیں، مطلب شیعہ محدثین اور مجتہدین قرآن کے خلاف روایات کو صحیح قرار دیتے آ رہے ہیں۔یہ ہے اہل تشیع کی اصل حقیقت!!  اس سے زیادہ حجت کیسے تمام کی جائے؟ 

قول معصوم کے آگے آپ شیعہ فقیہ کے فتویٰ پر عمل کرتے ہیں تو یہ آپ کی مجبوری ہے، اور عقیدہ امامت کا انکار بھی! کیونکہ آپ تو بعد از نبی امام معصوم سے ہدایت لینے کا دعوی کرتے ہو! اگر فقیہ کے فتووں پر ہی چلنا تھا تو اہل سنت کی صحیح احادیث نبوی نے کیا قصور کیا ہے جو عین قرآن کے مطابق بھی ہیں!

 

 میں نے شیعہ اصول اربعہ کی اول نمبر کی کتاب اصول کافی سے چار روایات پیش کر کے ان کی توثیق پیش کی ہے کہ اہل تشیع کے ہاں عورت زمین کی وارث نہیں ہوتی۔اگر آپ متفق نہیں ہیں تو مندرجہ ذیل نکات کلیئر کریں۔

1۔  کیا یہ چاروں روایات قرآن کے خلاف نہیں ہیں؟ اگر ہاں تو علامہ مجلسی کے علم و عقل پر روشنی ڈالیں۔ اگر خلاف قرآن نہیں ہیں تو وضاحت کریں کہ کس طرح نہیں ہیں۔

2۔  کیا اس باب کا نام أن النساء لا يرثن من العقار شيئاً نہیں ہے۔ بالفرض یہ باب صرف بیوی کے متعلق ہوتا  تو پھر بھی اس میں دوسری روایات کا ہونا ممکن ہے لیکن یہاں تو یہ باب بیوی کے متعلق ہی نہیں ہے تو پھر زبردستی کیوں منوا رہے ہیں؟

3۔ اصول کافی کے اسی پیج پر اوپر اور نیچے چار اور چھ نمبر روایات میں لفظ زوجہ دکھادیں۔

کلینی کی فہم فراست یہ ہے کہ بیوی کے متعلق تمام روایات شامل کر کے باب کا نام أن النساء لا يرثن من العقار شيئاً   رکھ دیا۔ کمال کا نام رکھا ہے۔ صریح قرآن کے خلاف! کیا کلینی بھی میراث پر آیات قرآنی سے نابلد تھا؟

 اس جواب کے آخر میں آپ نے  تحریر وسیلہ کی بات کی ہے۔ کل میں نے آپ کے بھیجے ہوئے عکس سے ان عبارات کی نشاندہی  کرنے کا کہا تھا جن میں عورت/بیوی کا غیر منقولہ جائیداد میں وراث ہونا  بیان کیا گیا ہو، آپ نے وہ عبارات دکھانے کے بجائے صرف یہ کہہ دیا کہ وہ بیٹی کی وراثت کے متعلق پیجز ہیں، مجھے سمجھ نہیں آتی کہ آپ زیر بحث نکتے کے علاوہ دوسرے نکات کیوں دکھانے لگتے ہو! کل بھی آخر میں آپ نے سیدہ کا جنازہ حضرت ابوبکر صدیق نے نہیں پڑھایا تھا، اس پر تحقیق کا لنک رکھ دیا، حالانکہ ہم اس پر بات ہی نہیں کر رہے۔ آج بھی یہی روش برقرار ہے۔

صفحہ 1 از 3