شیعہ مناظر کی طرف سے کاپی پیسٹ نہ کرنے والی شرط کی خلاف…

شیعہ مناظر کی طرف سے کاپی پیسٹ نہ کرنے والی شرط کی خلاف ورزی کا  ثبوت اور من وعن کسی اور کی تحریر پیش کرنا! اہل تشیع کے ہاں عورت زمین کی وارث نہیں ہوتی۔(قسط 21)

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 3

 آپ نے اب کہا ہے کہ تحریر وسیلہ میں آگے بیوی کے ترکہ کا ذکر پڑھ کر سب پر حقیقت روشن ہوجائے گی۔ میں اس کتاب کے مزید چار پیجز صرف اردو ترجمہ بھیج رہا ہوں، حقیقت روشن کرسکتے ہیں تو بسم اللہ پڑھ کر دکھادیں،  مجھے تو  ہر پیج پر اندھیرا  ہی اندھیرا نظر آ رہا ہے کیونکہ کہیں بھی عورت یا بیوی کے متعلق یہ عبارت نظر نہیں آئی کہ بطور ورثہ زمین بھی عورت کو دی جائے گی۔

میں نے اصول کافی سے واضح الفاظ بمعہ توثیق دکھائے ہیں کہ امام نے دو ٹوک کہا ہے کہ *لا ترث النساء من عقار الارض شیئا* اور ایک اور روایت میں *لا ترث النساء من عقار الدور شیئا* کے الفاظ ہیں۔


تحریر وسیلہ کے وہ پیجز جن کی فرمائش شیعہ مناظر نے کی اور دعویٰ بھی کیا کہ ان پیجز سے حقیقت روشن ہوجائے گی۔ شیعہ مناظر کو پرسنل میں پتہ نہیں کون جاہل الٹے سیدھے مشورے بھیجتا رہا اور دلشاد صاحب بغیر تصدیق کئے مناظرے میں اس کے جوابات کاپی پیسٹ کر کے شیعیت کا جنازہ نکالتے رہے!!


 
   

آپ سند پر اعتراض کر نہیں سکتے اور الفاظ کی تاویل ممکن نہیں ہے۔ کاش حق قبول کرنے کی توفیق ہی مل جائے۔ اللہ پاک ہم سب کو ہدایت دے۔ آمین۔

 

 

 

 

 

 

 ہر پیج کے بیچ میں عربی عبارات کے پیجز  بھی ہیں لیکن وہ نہیں بھیج رہا کیونکہ اکثریت اردو سمجھتی ہے۔ ممبرز کو مکمل کتاب بھی بھیج دیتا ہوں۔ کوئی اللہ کا بندہ مکمل باب پڑھ کر بتادے کہ کہاں پر لکھا ہے کہ  عورت کے ورثے میں زمین بھی ہوتی ہے کہ نہیں۔

نوٹ: سنی مناظر نے  تحریر وسیلہ (خمینی) پوری کتاب بھی پی ڈی ایف  میں ممبرز کے لئے بھیج دی تاکہ  ڈاؤن لوڈ کر کے سب پڑھ سکیں اور حقیقت سب کے سامنے واضح ہوجائے۔

 آپ کے پیش کردہ اسکینز پر بس اتنا ہی کہوں گا کہ اپنی پیش کردہ روایت کی توثیق قبول کرتے  ہیں لیکن میری پیش کردہ 4 روایات کی توثیق قبول نہیں ہیں۔ واہ رے تیری حق طلبی اور منصف مزاجی!

عورت/بیوی زمین کی وارث نہیں ہوتی (چار صحیح روایات بحوالہ اصول کافی بمعہ توثیق مرآت العقول علامہ باقر مجلسی)

یہ اختلافی روایات ہرگز نہیں ہیں۔ آپ شیعہ مدرسوں کی کتب سے بھی دکھا نہیں پا رہے کہ عورت کو بطور وراثت زمین ملے گی۔ مجھے سنی و شیعہ کے ہاں اختلافی روایات کے ہونے کا انکار نہیں ہے لیکن یہ روایات اس وقت اختلافی ہوں گی جب

1۔ کسی امام کا صحیح قول ہو کہ عورت غیر منقولہ جائیداد کی وارث ہے۔

2۔ کسی جیّد شیعہ عالم کی تصریح کہ یہ قول امام فلاں فلاں قرائن سے قبول نہیں اور عورت غیر منقولہ جائیداد کی وارث  ہے۔

میں سادہ سے سوالات اس لئے پوچھتا آ رہا ہوں کہ اس طرح آپ اپنے مؤقف کا دفاع کرسکتے ہیں، ذاتی تاویل ہرگز قبول نہیں کی جائے گی۔

آپ نے میرے کس سوال کا تشفی بخش جواب دیا ہے؟ یہ آپ کو اپنے شیعہ بتائیں گے۔ پی ڈی ایف کی فکر نہ کریں۔ حق واضح ہو رہا ہے یہی اصل مقصد ہے۔

یہ بھی آپ نے غیر علمی طریقہ اختیار کیا کہ ایک ساتھ لمبی لمبی تحاریر پیش کر کے پوری فہرست علماء کی رکھ دی تاکہ سامنے والا خاموش ہوجائے۔ اگر واقعی منصف مزاج ہیں تو ان میں سے کسی بھی ایک عالم کے قول پر ہم تفصیل سے گفتگو کر سکتے ہیں۔ اہل سنت علماء نے اعتراض لکھ کر شیعوں کا رد بیان کیا ہے، سیدہ فاطمہ کی وقتی رنجش کی نفی بھی لکھی ہے۔ کوئی ایک سُنی عالم شیعوں کے مؤقف سے متفق نہیں ہے۔

بطور مثال چیلینج کرتا ہوں کہ اس فہرست سے صرف ایک عالم کو منتخب کریں۔ اس کا قول بمعہ اصل اسکین پیش کریں تاکہ اصل حقیقت سامنے لائی جاسکے۔

آپ کے حوالے بھی درست نہیں ہوتے، اسکینز آپ بہت کم پیش کر رہے ہیں اور جو کرتے ہیں ان کی کوالٹی ایسی کہ سمجھنا تو دور ، پڑھنا بھی مشکل ہوتا ہے۔جب تحقیق کی جائے تو اصل نکتہ بیان ہی نہیں کیا گیا ہوتا!! یہ تو حال ہے آپ کا۔ اب  میں اتنا فارغ نہیں ہوں کہ اپنے دلائل کے اسکینز بھی تلاش کروں اور آپ کے حصے کے اسکینز بھی تلاش کروں اور پھر مطلوبہ عبارات بھی تلاش کرتا رہوں! آخر میں آپ یہ کہہ کر جان  بھی چھڑائیں کہ وہ تو بس  میراث کے متعلق اسکینز تھے!! پھر پیش کیوں کئے جب عورت کے لئے  زمین کی وراثت کا ان میں ذکر ہی نہیں ہے۔ میرا وقت کیوں برباد کیا!؟

 اپنا ہوم ورک پورا کر کے آیا کریں، اب تو وقت کی قید بھی ہٹا دی ہے، جب چاہیں جواب دیں، مجھے کوئی جلدی نہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ جواب علمی اور منطقی ہو اور اسی نکتے پر ہو جو زیر بحث ہو۔

 قرآن میں نبی کی بیٹی کے مالی وراثت کا  واضح حکم ہوتا تو حضرت ابوبکر کو فدک کی لالچ تھوڑی تھی، بغیر مطالبے کے پورا باغ فدک دے دیا جاتا۔

ہماری شرائط میں یہ طئے ہوا تھا کہ جو بات قرآن سے ثابت نہ ہو وہ صحیح احادیث سے ثابت کی جائے گی۔ 

آپ اہل سنت کی احادیث سمجھنے اور تسلیم نہ کرنے پر مجبور ہیں، لیکن حد یہ ہے کہ اپنی صحیح شیعہ روایت بھی تسلیم نہیں کر رہے۔  آپ قرآن سے نبی کی مالی وراثت کا ہونا ثابت کر کے دکھائیں۔ ان شاء اللہ علمی رد کر کے دکھاؤں گا۔  میں اوپر مالی وراثت نبوی کو عارضی تسلیم کرتے ہوئے کچھ سوالات بھی پوچھ چکا ہوں، بالفرض نبی کی مالی وراثت ہوتی تو فدک پورا سیدہ فاطمہ کا حق بنتا ہی نہیں ہے، آپ اقرار بھی کرچکے ہیں کہ سیدہ نے کچھ حصہ  طلب فرمایا تھا۔

جب  پورا باغ فدک سیدہ فاطمہ کا حصہ ہی نہیں بنتا تو پھر صدیوں سے فتنہ فساد کیوں؟ کیا نبی کریم کے دوسرے ورثاء ازواج مطہرات اور نبی کے چچا حضرت عباس کو فدک کے کچھ حصے دئے گئے تھے؟ 

یاد رہے کہ قرآن کے مطابق نبیﷺ کی ملکیت کے حق داروں میں حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق کی سگی بیٹیاں  (سیدہ عائشہ صدیقہ اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہما) بھی تھیں، اگر خلفاء واقعی لالچی ہوتے تو یہ اچھا موقعہ تھا، کوئی روک ٹوک بھی نہیں، قرآن کی آیات میراث کے مطابق فدک کے حصے کرنا بھی ممکن تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ فدک کی آمدنی نبی ﷺکی سنت کے مطابق خرچ کی جاتی رہی۔

اہل سنت تو کبھی بھی دنیاوی مال ملکیت نہ ملنے پر سیدہ عائشہ صدیقہ اور سیدہ حفصہ کو مظلوم نہیں کہتے۔

صفحہ 2 از 3