شیعہ مناظر کی طرف سے کاپی پیسٹ نہ کرنے والی شرط کی خلاف…

شیعہ مناظر کی طرف سے کاپی پیسٹ نہ کرنے والی شرط کی خلاف ورزی کا  ثبوت اور من وعن کسی اور کی تحریر پیش کرنا! اہل تشیع کے ہاں عورت زمین کی وارث نہیں ہوتی۔(قسط 21)

  جعفر صادق

صفحہ 3 از 3

حقیقت یہی ہے کہ فدک کے اتنے سارے حصہ داروں کو نبی ﷺکے فیصلے کے مطابق  ملکیت کا حصہ نہیں ملا کیونکہ فیصلہ خود نبی ﷺ کا تھا، تکلیف صرف شیعوں کو ہے، غضب خدا کا یہ کھل کر اقرار بھی نہیں کرتے کہ قرآن کے مطابق پورا باغ فدک اگر وراثت بھی ہو تو سیدہ کا حق نہیں بنتا!

 آج رات تک میرے تمام اشکالات اور سوالات کے جواب دینے کی کوشش کیجئے گا۔ کل سے یہ سوالات پوچھنے کا سلسلہ بھی بند کردوں گا۔  کل سے آپ کی تحریر کے اگلے حصے سیدنا علی کا حضرت عمر فاروق سے مکالمہ والی حدیث پر تفصیل سے گفتگو شروع کریں گے۔ پھر ممبرز کو اس کے متعلق بھی حقائق دکھا کر بتاؤں گا کہ شیعہ کہتے کیا ہیں، دکھاتے کیا ہیں اور اصل حقیقت کیا ہوتی ہے۔ ان شاء اللہ

سوال:نبی ﷺ نے سیدہ فاطمہ اور سیدنا علی کو حدیث لانورث کیوں نہیں  سنائی؟

جواب:  اگر نبیﷺ نے حدیث نہ سنائی ہوتی تو  شیعہ کتاب اصول کافی میں  نبی کی مالی وراثت کی نفی پر صحیح امام معصوم کا قول کہاں سے آجاتا؟  

فیصلہ سننے کے بعد سیدہ فاطمہ کی خاموشی رضامندی تھی، تھوڑی بہت رنجش فطری امر ہے، جسے سُنی و شیعہ روایات کے مطابق حضرت ابوبکر صدیق نے سیدہ کی عیادت کرتے ہوئے دور بھی کردیا تھا۔

میں اہلسنت اور اہل تشیع سے چند روایات بھی پیش کر دیتا ہوں تاکہ یہ ابہام بھی کلیئر ہوجائے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

  مشہور شیعہ فاضل ابن میثم بحرانی نے اپنی کتاب شرح نہج البلاغہ طبع قدیم جلد 35 صفحہ 543

قال انا لك ما لابيك قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ياخذ من فدك قوتکم و یقسم الباقي ويحمل منہ في سبيل الله و لك على الله ان اصنع بها كما كان يصنع فرضيت بذلك واخذت العهد عليه به۔۔۔۔ الخ

 

(صدیق اکبر نے فرمایا) کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فدک کی آمدنی سے آپ اہلبیت کا خرچ الگ کر لیتے تھے جو آپ کے لیے کافی ہوتا تھا باقی مساکین پر یا جہاد کی تیاری پر صرف کرتے تھے اور اللہ کی رضا کے لیے یہ آپ کا مجھ پر حق ہے کہ میں وہی طریقہ اختیار کروں گا جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے یہ سن کر  فاطمہ راضی ہوگئیں اور ابوبکر سے ایسا کرنے کا عہد لیا پھر اپنے اپنے عہد میں اہل بیت کو اسی طرح سال کا خرچہ دیتے رہے ان کے بعد خلفاء نے بھی وہی طریقہ جاری رکھا حتیٰ کہ امیر معاویہ کا زمانہ آ گیا۔

  

 

جب حضرت علی رضہ اور حضرت زبیر رضہ نے حضرت ابوبکر رضہ کی بیعت کرلی اور حالات پر سکوت ہو گئے تو اس کے بعد حضرت ابوبکر رضہ سیدہ فاطمہ الزھرا رضہ کے پاس آئے اور حضرت عمر رضہ کے لیے سفارش کی اور رضا کے طلبگار ہوئے تو سیدہ فاطمہ رضہ ان پر راضی ہوگئی۔

شیعہ کتاب: بیت الاحزان عباس قمی صفحہ ۱۲۳

شیعہ دعویٰ: تاریخ سے کئی مثالیں دکھاسکتا ہوں کہ نبی کی اولاد کو مالی ورثہ ملا: چلیں ٹھیک ہے۔ آپ کا یہ شوق بھی پورا کر دیتا ہوں۔  دکھائیں گذشتہ کس نبی کی ملکیت بطور وراثت تقسیم کی گئی تھی۔

جب ایسی کوئی مثال ہی نہیں تو میں کیسے دکھا سکتا ہوں۔ آپ دعوی ٰکر رہے ہیں تو دلیل پیش کریں۔ وہ بہت سے نمونے عوام کے سامنے لائیں۔ میرے علم میں بھی اضافہ ہوگا۔

 

 اس عبارت اور ان الفاظ سے  مکمل ترکہ  کی بات بیان کی گئی ہے، اس میں تصریح کہاں ہے کہ عورت غیر منقولہ جائیداد کی وارث ہے؟ آپ کو امام معصوم کے قول کا رد کرنا تھا۔ کہتے کچھ ہیں، سمجھتے کچھ ہیں اور دکھاتے کچھ ہیں۔

 میں نے مدلل علمی رد کردیا ہے۔ آپ سے بھی یہی امید رکھتا ہوں۔ وقت کی کوئی قید نہیں۔ پوری رات پڑی ہے۔ کل سے ہماری گفتگو کا موضوع  سیدنا علی اور حضرت عمر فاروق کے مکالمہ ہے۔

آپ اپنی تحریر کا  ب دوبارہ پیش کرکے دعوی اور دلیل دیجئے گا۔ میں اس کا علمی اور منطقی رد کروں گا۔ ان شاء اللہ۔  

نوٹ: اس کے بعد دوبارہ سنی مناظر نے  اپنے  سوالات کی فہرست پیش کی، لیکن شیعہ مناظر آخر تک لاجواب رہے۔

 

میں نے آج بھی کئی نئے سوال پوچھے ہیں۔ اب کیا اضافہ کروں۔ جواب تو آپ دیتے نہیں ہو۔ بس تحریر لکھنے کا شوق ہے!!!

اللہ حافظ۔

 

سنی مناظر:  ایک درستگی ۔شرح نہج البلاغہ ص 275 ،  اس عبارت کا اردو ترجمہ یہ ہے۔


صفحہ 3 از 3