تحریر وسیلہ ہے تو اس کے چند صفحات بعد میں عورت یعنی بیوی کے…

تحریر وسیلہ ہے تو اس کے چند صفحات بعد میں عورت یعنی بیوی کے ترکہ کی تصویر بھی نکال دیں تو حقیقت آپ پر اور دوسرے آپ جیسے لوگوں پر روشن ہوگی۔ شیعہ مناظر کا دجل و فریب(قسط 20)

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 2

یہاں   موضوع  باب کا عنوان سب پر دقت کرنا۔ بعض اختلافی روایت ذکر ہونے کی وجہ سے مکتب تشیع پر اور ان کے علماء پر اعتراض ہوسکتا ہے تو آپ کے ہاں کونسا  فقہی باب ایسا ہے جہاں روایات مختلف نہ ہوں؟ وضو سے لے کر   متعہ،تقیہ،قرآن میں تحریف، اصحاب کی ایک جماعت کا مرتد اور جہنمی ہونا۔ کیا اس وجہ سے ہم یہ کہیں اہل سنت والے قرآن کے خلاف سنت قطعیہ کے خلاف؟؟ جناب مغالطہ سے ہاتھ اٹھائیں۔باقی آپ کے سوالوں کی فہرست کے مطابق Pdf بناتے وقت میری تحریر میں کسی سوال کا جواب نہ ملے تو لکھنا شیعہ مناظر نے اس کا جواب نہیں دیا۔اس کا جواب اس کے پاس نہیں تھا۔

میں بھی Pdf بنا کر آپ کو سب سے پہلے شیئر کروں گا وہاں چیک کرنا۔ اپنے بنائے ہوئے  الف ،ب اور میرے الف ب میں فرق نہ کریں گے تو علمی خیانت ہوگی۔خاص کر سیدہ کی ناراضگی اور  اس پر اٹھائے جانے والے سوالات آپ اپنے ان علماء سے بھی پوچھ سکتے ہیں کہ اس مسئلے میں شیعوں کے ساتھ ہم عقیدہ ہیں۔

آپ نے ادراج والے دو تین کے نام بتائے   ہیں تو میں نے غیر ادراج والے علماء کی پوری فہرست آپ کے سامنے رکھ دی تھی اور یہ ثابت کیا تھا کہ آپ اور آپ کے  ہم فکر اس مسئلے میں تنہا   ہیں۔ہم ذیل میں اس سلسلے میں کچھ سوالات اٹھاتے ہیں  ۔

       کیا قرآن کی کوئی ایسی آیت دکھا سکتے ہیں کہ جس میں نبی کی بیٹی کو حق ارث سے محروم کرنے کا حکم آیا ہو ؟ جبکہ ہم قرآن کی بہت سی آیت سے یہ ثابت کرسکتے ہیں کہ انبیاء کی اولاد کو بھی وراثت ملتی ہے ؟

جیساکہ بہت سی تاریخی شواہد کے مطابق جناب فاطمہ اور امیر المومنین علیہما السلام کا بھی یہی موقف تھا  اور آپ دونوں  یہی کہتے تھے کہ قرآن میں واضح طور پر انہیں بھی وراثت ملنے کا حکم ہے اور نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی قرآنی حکم کے خلاف بات نہیں کرسکتے۔خلیفہ دوئم کے دور تک اسی مطالبے کو کیوں دہراتے رہے  کیوں خلیفہ کو اس حدیث کے بہانے جناب زہرا سلام علیہا کو ان کے حق سے محروم کرنے کی وجہ سے کاذب ،آثم ،غادر کہتے اور سمجھتے رہے ۔کیا مولی علی نعوذ باللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی حدیث کو جھٹلا رہے تھے اور حکم پیغمبر کا انکار کر رہے تھے ؟ کیا نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جس حکم کو جن لوگوں کے لئے بیان کرنے کی ضرورت تھی، ان کو وہ حکم بتائے بغیر جن کو اس حکم کی ضرورت نہیں تھی ان کو وہ حکم بتا کر دنیا سے چلے گئے؟ خاص کر مولی علی اور جناب فاطمہ سلام اللہ علیہما کو ان کے لئے پیش آنے والے مسئلے کا حکم بتائے بغیر دنیا سے چلے گئے اور اسی وجہ سے انہیں ایسی چیز کا مطالبہ کرنا پڑا جو ان کا حق نہیں تھا اور پھر یہ سارے مسائل پیش آئے ؟ جبکہ سب کو معلوم ہے کہ ان دونوں سے زیادہ کسی اور کو نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شاگردی اور زیر تربیت رہنا نصیب نہیں ہوا۔ اب کیا یہ معقول بات ہے کہ اصحاب میں سے سب سے زیادہ دین شناس اور سب سے زیادہ قرآن اور سنت کی تعلیمات سے آگاہ ہستیوں کو اس حکم کا علم بھی نہ ہو اور  لاعلمی کی وجہ سے ایسی چیز کا مطالبہ کریں جو ان کا حق نہ  ہو؟

چلو جی اگر اس حدیث کے مطابق انبیاء کی اولاد کو وراثت نہیں ملنی تو کیا تاریخ میں کوئی ایسا نمونہ دکھا سکتے ہیں  کہ کسی نبی کے مرنے کے بعد ان کی جائداد بیت المال کا حصہ بنی ہو اور فقیروں میں تقسیم ہوئی ہو اور ان کی اولاد کو اپنے باپ {نبی } کی وراثت سے محروم کیا ہو ؟کیا پوری تاریخ میں کوئی ایسا ایک نمونہ دکھا سکتے ہیں ؟  اگر ہم سے کہیں تو ہم بہت سے نمونے دکھاسکتے ہیں کہ نبی کے بعد ان کی اولاد ہی نبی کی میراث کے وارث بنے ہیں ۔

  ایک حقیقت کو چھپانے کے لئے انبیاء کی پوری تاریخ اور قرآنی نص اور واضح دستورات کی مخالفت کیوں ؟ اگران احادیث کا یہی معنی ہے جو آپ لوگ لیتے ہیں تو آپ کے بڑے بڑے مفسرین نے اس معنی کی مخالفت کیوں کہ اور قرآن میں انبیاء کی وراثت والی آیات میں وراثت مالی مراد ہونے کا نظریہ دیا؟؟

کیا آپ کو ان چیزوں کی خبر ہے ؟ میں سند پیش کروں ؟؟

 آج کے لئے یہی چند سوالات کافی ہے ۔ میں تین بجے تک آپ کے جواب کا منتظر ہوں ۔التماس دعا دوستو ۔

اللہ حافظ ۔


صفحہ 2 از 2