شیعہ مناظر کا اقرار کہ سیدہ نے پورے فدک کا مطالبہ نہیں کیا…

شیعہ مناظر کا اقرار کہ سیدہ نے پورے فدک کا مطالبہ نہیں کیا تھا بلکہ صرف  اپنے حصے کا مطالبہ کیا تھا!(قسط 18)

  جعفر صادق

صفحہ 1 از 5

شیعہ مناظر کا اقرار کہ سیدہ نے پورے فدک کا مطالبہ نہیں کیا تھا بلکہ صرف  اپنے حصے کا مطالبہ کیا تھا!(قسط 18)

شیعہ مناظر: عجیب کٹ ہجتی کا آپ شکار ہیں  جناب ممتاز صاحب، اللہ آپ کو اہلِ سنت کا مناظر کہنے والوں کی خیر ہو۔ مجھے نہیں لگتا کہ آپ حتٰی الامکان میرے مطالب کو دیکھنے کی بھی جرأت کرتے ہو۔ جناب یہ تو  آپ کا کمال ہے۔ جس بحث کو تیسرے مرحلے میں چھیڑنا تھا  ،اس کو آپ پہلے مرحلے میں چھیڑنے کے چکر میں تھے لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ  اس قسم کی نفسیاتی جنگ چھیڑیں گے تو اس میں میری مہارت آپ سے کئی گنا زیادہ ہے۔ آپ نے میرے اصل مدعا کو دیکھ کر  سمجھ لیا کہ آگے کیا ہونے والا ہے لہٰذا فوراً میرے مدعا کی اپنی طرف سے تفیسر کرنے کی کوشش کی  لیکن نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔


گفتگو من و عن شیعہ مناظر کی تحریر کی روشنی میں کی گئی۔ اسکرین شاٹ رکھ کر الف اور ب کے نکات بھی دکھا دیئے گئے کہ اسی ترتیب سے گفتگو کی جائے گی، اس کے باوجود شیعہ مناظر دلشاد آخر تک یہی رونا روتے رہے کہ گفتگو ان کی مرضی کے مطابق نہیں ہو رہی! اب اقرار بھی کر رہے ہیں کہ سنی مناظر نے انہیں نفسیاتی جنگ میں اتار دیا تھا اور ہر طرف سے حملے بھی کردئیے تھے۔ جن دلائل کا شیعہ مناظر نے جواب دیا وہ بھی غلط اور ذاتی تاویلات کی مدد سے دیا۔


 
   

جناب والا۔جب آپ نے میرے مدعا کو خراب کرنے کے لیے تمام مراحل کو ایک کرنے کی ناکام کوشش کی اور میرے مدعا پر پردہ ڈالنے کے لیے ہر طرف سے حملے شروع کئے تو میں نے مجبور ہو کر آپ کے غیر مربوط سوالوں میں سے اکثر کا جواب دیا بعض کا جواب بعد کے مرحلے سے تھا  اس کا جواب نہیں دیا۔

اب میں ان سب کا جواب دے دیتا تو آپ کیا کرتے  پھر مجھ سے مناظرے کا جواز ہی ختم ہوتا  ،لہٰذا میں نے آپ کو اچھلنے کودنے کے لیے بعض غیر ضروری سوالوں کا جواب نہیں دیا۔آپ نے میرے ضروری اور بنیادی سوالوں کا جواب نہیں دیا۔جناب والا۔حقیقت سب کے سامنے عیاں ہے۔آپ دھواں پھیلا کر کچھ بھی نہیں کرسکتے۔آپ کا گروپ ہوتا تو کب سے دوچار سنا کر مجھے ریموو کر دیتے، جس طرح معاویہ نے خلافت کے مسئلہ میں بات چیت والے گروپ میں میرے ساتھ کیا تھا۔

اب سنیں....

1۔ میرا دعویٰ تھا کہ جنابِ سیدہ سلام اللہ علیھا میراث اپنا حق سمجھتی تھیں ۔ انھوں نے میراث طلب کی ۔ اور ابوبکرؓ پر غضبناک رہیں ۔

2۔ مولا علی بھی جناب سیدہ سلام اللہ علیھا کے مؤقف کے حامی تھے ۔

یہ میں  نے اہلسنت کی صحیح ترین روایات سے ثابت کیا ۔ اور ان روایات کے شارحین کے کلام سے اپنا مؤقف ثابت کیا ۔  جبکہ مدِ مخالف ادراج کی رٹ لگاتے رہے اور کسی قاعدے سے اسے ثابت نہ کر سکے ۔

3۔ مدِ مخالف نے تشیع کی روایت الکافی کتاب العلم سے وراثت نہ ہونے کی روایت پیش کی ۔لیکن اس میں ماترکناہ صدقة کے الفاظ نہیں دکھا سکے ۔ جبکہ اسی الکافی میں ہے ۔ کہ جنابِ سیدہ سلام اللہ علیھا  رسول ﷺ کے مال کی وارث تھی ۔ اور یہ روایت کتاب المیراث میں ہے ۔

4۔ مدِ مخالف  نے عورت کے زمین میں وراثت نہ ہونے کی روایت پیش کی جبکہ میں نے گزارش کر دی کہ عورت لفظ عام ہے ۔ اور بیٹی لفظ خاص ہے ۔ لہٰذا خاص پر عام کو دلیل نہیں بنایا جا سکتا ۔ جبکہ اسی باب میں روایات میں تصریح موجود ہے  کہ عورت سے مراد بیوی ہے ۔ اور میں نے علماء کے اقوال بھی پیش کر دیئے  کہ عورت سے مراد بیوی ہے بیٹی نہیں ہے ۔  

5۔ الحمد لللہ مدِ مخالف باتیں دھراتے رہے اور ہماری ہی تائید میں حوالہ جات دیتے رہے کہ جنابِ سیدہ سلام اللہ علیھا ابوبکر پر غضبناک تھیں

لہذا ہمارا دعویٰ ثابت ہوا ۔

 تیسرا جواب  جیساکہ بیان ہوا  اندراج کہنے والے ،ایک تو اپنے بہت سے بڑے بڑے علماء کو  گمان پر ایمان رکھنے والا کہہ  رہے ہیں۔ مثلا ۔بخاری کی اسی حدیث کو  دیکھیں ۔

3093 - فَقَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ « لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ » . فَغَضِبَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فَهَجَرَتْ أَبَا بَكْرٍ ، فَلَمْ تَزَلْ مُهَاجِرَتَهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - سِتَّةَ أَشْهُرٍ . قَالَتْ وَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَسْأَلُ أَبَا بَكْرٍ نَصِيبَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - مِنْ خَيْبَرَ وَفَدَكٍ وَصَدَقَتِهِ بِالْمَدِينَةِ ، فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ عَلَيْهَا ذَلِكَ ، وَقَالَ لَسْتُ تَارِكًا شَيْئًا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَعْمَلُ بِهِ إِلاَّ عَمِلْتُ بِهِ ، فَإِنِّى أَخْشَى إِنْ تَرَكْتُ شَيْئًا مِنْ أَمْرِهِ أَنْ أَزِيغَ . فَأَمَّا صَدَقَتُهُ بِالْمَدِينَةِ فَدَفَعَهَا عُمَرُ إِلَى عَلِىٍّ وَعَبَّاسٍ ، فَأَمَّا خَيْبَرُ وَفَدَكٌ فَأَمْسَكَهَا عُمَرُ وَقَالَ هُمَا صَدَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - كَانَتَا لِحُقُوقِهِ الَّتِى تَعْرُوهُ وَنَوَائِبِهِ ، وَأَمْرُهُمَا إِلَى مَنْ وَلِىَ الأَمْرَ . قَالَ فَهُمَا عَلَى ذَلِكَ إِلَى الْيَوْمِ . أطرافه 3712 ، 4036 ، 4241 ، 6726 - تحفة 10678
صحيح البخارى  57 - فرض الخمس ۔ باب ۱ باب فرض الخمس  3093

اب دقت کریں : الف :      اگر اندراج کو  غضبت سے جانا جائے تو حدیث ناقص رہ جاتی ہے۔

فَقَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ « لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ »   قَالَتْ وَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَسْأَلُ أَبَا بَكْرٍ نَصِيبَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ

اگر حدیث کے صرف یہ دو جملے لکھے جائیں گے تو واقعی بات نامکمل رہ جائے گی، لیکن حدیث میں صرف یہ دو جملے نہیں ہیں! شیعہ اکثر اسی طرح گمراہ کرتے ہیں۔غور سے دیکھیں اوپر موصوف نے پوری حدیث پیش بھی کی ہے جس میں تفصیل سے واقعہ مذکور ہے یعنی حدیث نامکمل نہیں ہے۔اس کے باوجود شیعہ دجل دیکھیں کہ نیچے دو جملے لکھ کر فرما رہے ہیں کہ حدیث نامکمل ہے۔


 
   

یہاں پر اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد معاملہ کیا ہوا ، اس کا  ذکر نہیں  ہے ۔بات نامکمل ۔


صفحہ 1 از 5