شیعہ مناظر کا اقرار کہ سیدہ نے پورے فدک کا مطالبہ نہیں کیا…

شیعہ مناظر کا اقرار کہ سیدہ نے پورے فدک کا مطالبہ نہیں کیا تھا بلکہ صرف  اپنے حصے کا مطالبہ کیا تھا!(قسط 18)

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 5

 روایات میں راوی ادراج کرتے ہوئے تسلسل قائم رکھتے ہیں۔ راوی وقفہ ظاہر کر کے  یہ بیان نہیں کرتا کہ اب میں ادراج بیان کر رہا ہوں!


 
   
ب :        فَهَجَرَتْ أَبَا بَكْرٍ۔

عربی ادییات کے کسی طالب علم  سے پوچھیں کہ  ھجرت  کا  " ف " جملے کے تسلسل کو بتانے کے لئے ہے  یا تسلسل کو کاٹنے کے لئے ؟  

 ج   فَهَجَرَتْ أَبَا بَكْرٍ وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ  صلى الله عليه وسلم

 

یہاں بھی دقت کریں

{ وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ} 

 یہ حصہ ان لوگوں کے بقول ادراج کا حصہ ہے   جبکہ ایک تو یہ اسی حدیث کا مربوط جملہ ہے اور سیاق کے اعتبار سے بلکل فٹ آتا ہے اور جیساکہ پہلے نقل ہوا کہ امام طبرانی اور امام بیہقی وغیرہ نے اس کو یوں نقل کیا ہے:

قالت عائشة أن فاطمة عاشت بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم ستة أشهر 

یعنی جناب عائشہ کے کلام کا تسلسل ہے  یہ راوی کا گمان نہیں  جبکہ اس کو ادراج کہنے والوں نے راوی کی رائے کہا ہے {جیساکہ امام بیہقی }  


راوی کی رائے کو ہی ادراج کہتے ہیں۔


ھ   اس حدیث کے اس حصے

{ قَالَتْ وَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَسْأَلُ أَبَا بَكْرٍ نَصِيبَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ}  

میں دقت کریں۔ آپ کسی عربی ادبیات سے معمولی آشنائی رکھنے والے سے بھی پوچھے تو وہ آپ کو سمجھائے گا کہ جب "کان " کانت " فعل مضارع سے پہلے آئے تو یہ ماضی استمراری کا معنی دیتا ہے   یعنی مطالبہ ختم نہیں ہوا بلکہ جاری رہا اب یہ جاری رہا ،راوی کا گمان نہیں ہے  بلکہ جناب عائشہ کے کلام کا حصہ ہے کیونکہ { قَالَتْ }   یہ فعل ماضی کا چوتھا صیغہ ہے یعنی مفرد موئنث غائب از مثال واوی   اس کا معنی جناب عائشہ نے کہی ۔جناب زہری خنثی تو نہیں تھا کہ کبھی قال اس کے لئے استعمال ہو کبھی قالت ۔اب کیا ادراج کا بہانہ بنانے والوں کے لئے کوئی بہانہ ہے ۔  اوپر جناب عائشہ خبر دے رہی ہے کہ حضرت فاطمہ اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے آئیں اور خلیفہ نے وہ حدیث سنائی {آپ کے بقول آپ راضی ہو کر چلیں گئیں تھی تو

{ وَكَانَتْ  فَاطِمَةُ تَسْأَل} 

کیوں ؟ مطالبہ اگر ختم ہوگیا ہو اور جناب فاطمہ ع راضی ہوگئی تھیں  تو پھر جناب عائشہ کیوں کہہ رہی ہے کہ آپ  مطالبہ کرتی رہیں ۔یہ ادراج کی نفی ہر اس حدیث کے داخلی شواہد ۔اب دیکھیں صحیحین میں موجود ایک اور شاہد ،جیساکہ امیر المؤمنین  کے مؤقف کے سلسلے میں کئی اسناد پیش کر چکا ہوں کہ یہ آپ نے خلیفہ دوم کے دور تک جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کے مطالبے کو جاری رکھا ۔ اب آپ کے بقول معاملہ اسی {نحن معاشر الانبیاء{ سے ہی ختم ہوا تھا تو کیوں مطالبہ جاری رہا ؟؟


مطالبہ اسی ایک ملاقات میں جاری رہنے سے شیعہ مؤقف کی تائید نہیں ہوتی کیونکہ آخر میں فیصلہ نبیﷺ کے فرمان کی وجہ سے کیا گیا ہے۔


ایک سند دوبارہ ملاحظہ کریں ۔

خلیفہ دوم کہتا ہے: علی میرے  پاس اپنی بیوی کی ان کے باپ سے میراث کا مطالبہ کرنے آئے۔

 جِئْتَنِى تَسْأَلُنِى نَصِيبَكَ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ ، وَأَتَى هَذَا يَسْأَلُنِى نَصِيبَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا
صحيح البخارى  کتاب النفقات ۔3 - باب حَبْسِ نَفَقَةِ الرَّجُلِ ۔۔ مسند أحمد (4/ 213):  وَمِنْ مُسْنَدِ بَنِي هَاشِمٍ  ۔۔  حَدِيثُ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
وَيَطْلُبُ هَذَا مِيرَاثَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا، ۔۔۔۔۔ثُمَّ جِئْتَنِي أَنْتَ وَهَذَا وَأَنْتُمَا جَمِيعٌ وَأَمْرُكُمَا وَاحِدٌ،
صحیح مسلم ۔۔  - كتاب الجهاد والسير  - باب 15 - بَابُ حُكْمِ الْفَيْءِ۔۔
السنن الكبرى للبيهقي  کتاب قسم الفئ۔۔  ۔۔۔ ( 5 باب بيان مصرف أربعة أخماس الفيء ۔۔
  وجاءني هذا ـ يعني عليا ـ يسألني ميراث امرأته  ۔۔ صحيح ابن حبان (14/ 575):
هذا - يعني عليا - يسألني ميراث امرأته من أبيها  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مصنف عبد الرزاق (5/ 471):
ثُمَّ جِئْتُمَانِي، جَاءَنِي هَذَا , يَعْنِي الْعَبَّاسَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ , يَسْأَلُنِي مِيرَاثَهُ مِنِ ابْنِ أَخِيهِ، وَجَاءَنِي هَذَا , يُرِيدُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ , يَسْأَلُنِي مِيرَاثَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا،۔۔۔۔۔۔۔  ۔۔۔ السنن الكبرى للبيهقي (6/ 487

 اب آگر  آپ لوگ نہ مانیں  تو  نہ مانیں۔ جب مطالبہ منظور نہیں ہوا اور مسلسل مطالبہ کے باوجود انہیں کچھ بھی نہیں دیا ۔   


 کیسے خود بخود ثابت ہے؟ ایک بیٹی اپنے مرحوم والدﷺ کا فرمان سن کر شدید ناراض نہیں ہوسکتی۔ عارضی رنجش ہونا الگ بات ہے اس میں کوئی قباحت نہیں ہے لیکن مرتے دم تک شدید ناراضگی ممکن نہیں، یہ راوی کا  گمان ہے جو کہ درست نہیں ہے۔ 


   فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ مِنْهَا شَيْئًا ۔ صحيح البخاري (13/ 135):  کتاب المغازی ۔۔ بَاب غَزْوَةِ خَيْبَرَ۔۔۔۔۔۔ صحیح مسلم ۔ كتاب الجهاد والسير  - باب قول النبي ص ( لا نورث ما تركنا فهو صدقة )

شیعہ مناظر دلشاد کی مجبوری تھی کہ اپنی تحریر کے ب پر گفتگو موڑنے کی کوشش کرتا رہے کیونکہ اپنی تحریر کے الف پر سنی مناظر کے اشکالات و سوالات سے لاجواب ہوچکا تھا!

 
   

یعنی ایک طرف سے خلیفہ کہتا تھا کہ رسول اللہ اس سے آپ لوگوں کا خرچہ پانی دیتے تھے  اور ساتھ ہی قسم کھائے  کہ رسول اللہ کے طریقے پر عمل کروں گا اور پھر بعد میں کچھ بھی نہ دے تو کیا آپ راضی ہوکر انہیں دعا دیتی وہاں سے چلی گئی ہوں گی؟


کیا سیدہ فاطمہؓ کو غیب کی خبر تھی کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے جب کہا کہ میں نبیﷺ کی طرح تمام اخراجات ادا کرتا رہوں گا تو سیدہ کو علم ہوگیا کہ مستقبل میں ایسا نہیں ہوگا؟ اس لئے وہاں سے ناراض ہو کر چلی گئیں؟ یاد رہے کہ فدک کی آمدنی ہر ماہ نہیں آتی تھی بلکہ سالانہ اس آمدنی کا حساب کیا جاتا تھا اور سیدہ فاطمہ بعد از نبی چھ ماہ زندہ رہیں۔


 اب یہ اس سلسلے کے بعض شواہد ہیں ۔ اگر ان تمام  شواہد پر نظر کریں تو جناب زہری کا گمان بھی ہو تو بھی یہ گمان حق پر مبنی ہے ۔یہاں تک یہ بات اظہر من الشمس ثابت ہے ناراضگی اور مطالبہ دونوں جاری رہے ۔اب اگلی بات اسی حق نہ ملنے کے نظریے کے ساتھ دنیا سے جانا بھی خود بخود ثابت ہے ۔ {دقت کریں }

صفحہ 2 از 5