شیعہ مناظر کا اقرار کہ سیدہ نے پورے فدک کا مطالبہ نہیں کیا…

شیعہ مناظر کا اقرار کہ سیدہ نے پورے فدک کا مطالبہ نہیں کیا تھا بلکہ صرف  اپنے حصے کا مطالبہ کیا تھا!(قسط 18)

  جعفر صادق

صفحہ 3 از 5

اب اس کے بعد جنازے میں شرکت کی اجازت نہ دینا بھی اگر زہری کا گمان ہو تو بھی یہ بلکل درست گمان ہے ۔عقلی طور پر بھی کوئی ایسے کو اپنا یا اپنے ایسی عزیز کا جنازہ پڑھنے کی اجازت تو نہیں دیتے کہ جس نے اس کا حق  نہیں دیا ہو ۔


کیا عقل اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ جس شخص سے سیدہ فاطمہؓ  اتنی شدید ناراضگی ہو اسی کی بیوی حضرت اسماء بنت عمیسؓ سیدہ فاطمہؓ کی آخری ایام میں خدمت کرتی رہے اور غسل وغیرہ میں بھی مدد فرمائے۔؟کیا یہ اس بات کی قوی دلیل نہیں کہ حضرت ابوبکرؓ اور سیدہ فاطمہؓ کی رضایت اس سے ثابت ہوتی ہے!؟ بیشک بغض کا کوئی علاج نہیں ہے۔


جیساکہ اس سلسلے میں صحیح سند دوسری روایات بھی یہی کہتی ہیں اور اہل سنت کے مایہ ناز علماء نے بھی اسی کا اعتراف کیا ہے  کہ جناب فاطمہ ع کے جنازے  میں شرکت اور ان پر نماز کی خلفاء کو خبر تک نہ دی گئی ۔اور واضح طور پر نقل ہوا ہے کہ یہ مخفی  رات  میں دفن ہونا جناب سیدہ کی وصیت کے مطابق تھا  اور یہ سب خلفاء کو جنازے میں شرکت سے دور رکھنے کے لئے تھا ۔اگر سند کی ضرورت ہے تو پیش کر سکتا ہوں اور اس سلسلے میں آپ لوگوں کی طرف سے جو سند پیش کی جاتی ہے سب کے ضعیف ہونے کو آپ کے علماء کے قلم سے ثابت کر سکتا ہوں ۔جناب حتیٰ کہ ان کی قبر بھی مخفی رکھی گئی۔ کیا یہ خود ان کی صدائے احتجاج سننے کے لئے کافی نہیں ؟ جنت کی عورتوں کی سردار رسول اللہﷺ کی سب سے پیاری بیٹی کا جنازہ اس حد تک مخفیانہ رات کو دفن ہونے پر غور کریں تو  آپ کے لئے تاریخ کے بہت سے حقائق شاید کھل جائیں۔ لہٰذا  ادراج کی نفی پر اور ادراج کہنے والوں کے گمان کے بطلان پر شواہد اسی حدیث اور اس سے باہر بہت زیادہ ہیں  ۔ آپ کا سارا زور ادراج کو ثابت کرنے پر لگا رہا لیکن اس کو ثابت کرنے میں آپ بری طرح ناکام رہے ہیں اور آخر میں ادراج کا عجیب و غریب معنی کر کے اس کا جنازہ بھی نکالا ۔جناب یقین مانیں اس کو  ادراج  کہنا خود ایک گمان ہے ۔ گمان کا علاج یقینی دلائل کو تسلیم کرنا اور شبہات سے ہاتھ اٹھانا ہے

 
   

اوپر شیعہ مناظر تسلیم بھی کر چکا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کو سیدہ کی وفات کا پہلے سے علم تھا، جسے پہلے سے علم ہو اس تک خبر نہیں پہنچائی جاتی۔ رات میں تدفین سیدہ کی وصیت کے مطابق ہوئی۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت عثمان غنیؓ کی تدفین بھی رات کو ہی ہوئی تھی یہ کسی سے ناراضگی کی دلیل تھوڑی ہے۔شیعہ مناظر کے نزدیک اس کی ذاتی تاویلات یقینی دلائل کا درجہ رکھتی ہیں


لہٰذا یہ بات ثابت ہوئی کہ اگر راوی نے اس کو حدیث کا حصہ بنایا ہو تو بھی یہ حقیقت کے مطابق ہے اور جناب فاطمہ کا ناراض ہونا اور مطالبہ جاری رکھنا اور اپنے حق سے محروم کرنے والا سمجھ کر دنیا سے جانا اور نماز میں شرکت کی اجازت نہ دینا اور جناب امیر المومنین ع کا اسی وجہ سے خلفاء کو جھٹلانا ایک تاریخی حقیقت ہے جسے کوئی چھپا نہیں سکتا ۔جیساکہ آپ کے سلف نے اسی حقیقت کو تسلیم کیا ہے ۔ اب آپ کی مرضی اپنے اسلاف سے بغاوت کریں اور ان پر وہی سوالات کریں جو آپ شیعوں سے کرتے ہیں ان پر وہی اعتراضات کریں جو آپ شیعوں پر اسی بہانے کرتے ہیں ۔اب آپ کو یقین ہونا چاہئے کہ آپ کا تعلق نہ حنفی بزرگوں سے ہے نہ شافعی اور نہ مالکی اور جنبلی کی مشترکہ نسل ابنِ تیمیہ وغیرہ سے  ، لیکن ان سب کے باجود اپنے آپ کو اھل سنت کا نمائندہ اور ترجمان کہہ کر شیعوں کو للکارنا تاریخ کا عجیب عجوبہ ہے ۔


غور فرمائیں! شیعہ مناظر یہ ظاہر کر رہا ہے کہ جو مؤقف وہ ثابت کرتا آ رہا ہے وہ مؤقف حنفی،شافعی، مالکی اور حنبلی بلکہ پوری اہل سنت کا بھی ہے! لاحول ولاقوت۔ شیعوں کو اللہ ہی سمجھے۔ ایسی ایسی لفاظی کرتے ہیں کہ اللہ کی پناہ


اب آپ کا یہ دعویٰ ہے  کہ آپ کے دلائل کا میں نے جواب نہیں دیا  ہے تو باقی باتیں چھوڑ کر انہی چند مطالب کا علمی جواب دو اور اپنی فتح کا اعلان کرو۔

سنی مناظر  جواب کس سوال کا دے رہے ہیں؟ نمبر ڈال کر الگ الگ جواب دیتے جائیں۔ اس میں کیا مشکل ہے۔ 

شیعہ مناظر میں رات کو جواب دوں گا،  پہلے مطالعہ کریں،  پھر تسلی سے جواب لکھنا۔ ادھر ادھر جانے کی ضرورت نہیں۔

سنی مناظر: گفتگو ٹو دی پوائنٹ کیا کریں۔ میرے پاس تیس سے اوپر فدک پر تحقیقی کتب موجود ہیں۔ مطالعے کی ضرورت آپ کو ہے۔ سادہ سے سوال تین دن سے پوچھ رہا ہوں۔ جواب ککھ نہیں دے رہے۔

 میں کبھی ذاتی تاویلات کا سہارہ نہیں لیتا۔ آپ تو اپنی صحیح روایات کا بھی دفاع نہیں کر پا رہے۔ ہماری روایات پر کیا تحقیق کی ہوگی! گھوم پھر کر  علمائے اہلسنت کے اقوال پر ہی آئیں گے۔ چلیں۔ ایک اور موقعہ دیتا ہوں۔ میرا چیلینج قبول کریں۔

صرف اہلِ تشیع کی صحیح روایات سے فدک پر شیعہ مؤقف کو درست ثابت کر کے دکھائیں۔

1۔  کیا سیدہ کو قرآن کی آیات میراث کا علم نہ تھا جن کے مطابق ازواج اور چچا بھی نبی کے ورثاء میں شامل ہوتے ہیں؟  یہ تو آپ نے سیدہ فاطمہ کی شان میں گستاخی کر دی ہے۔

2۔  اگر مولا علی فدک کو سیدہ کا حق سمجھتے تھے تو اس حق کو حقداروں تک پہنچایا کیوں نہیں؟ شیعہ کتب کے مطابق خلیفہ کا فرض ہے کہ حقداروں کے حقوق دلوائے۔ آپ نے سیدنا علیؓ پر بھی بہتان لگادیا!

لن تنالوالبر   سورہ النسآء : آیت 11
یُوۡصِیۡکُمُ اللّٰہُ فِیۡۤ  اَوۡلَادِکُمۡ ٭ لِلذَّکَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَیَیۡنِ ۚ فَاِنۡ کُنَّ نِسَآءً فَوۡقَ اثۡنَتَیۡنِ فَلَہُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَکَ ۚ وَ اِنۡ کَانَتۡ وَاحِدَۃً  فَلَہَا النِّصۡفُ ؕ وَ لِاَبَوَیۡہِ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنۡہُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَکَ اِنۡ کَانَ لَہٗ  وَلَدٌ ۚ فَاِنۡ لَّمۡ  یَکُنۡ لَّہٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَہٗۤ اَبَوٰہُ فَلِاُمِّہِ الثُّلُثُ ۚ فَاِنۡ کَانَ لَہٗۤ  اِخۡوَۃٌ فَلِاُمِّہِ السُّدُسُ مِنۡۢ بَعۡدِ وَصِیَّۃٍ یُّوۡصِیۡ بِہَاۤ اَوۡ دَیۡنٍ ؕ اٰبَآؤُکُمۡ وَ اَبۡنَآؤُکُمۡ لَا تَدۡرُوۡنَ اَیُّہُمۡ اَقۡرَبُ  لَکُمۡ نَفۡعًا ؕ فَرِیۡضَۃً مِّنَ  اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا
صفحہ 3 از 5