وضو کا مسنون طریقہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

وضو کا مسنون طریقہ

  حافظ عبدالقدوس خان قارن

صفحہ 1 از 3

1: جس پانی سے وضو کرنا ہو وہ پاک اور پاک کرنے والا ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ جب اسی پانی سے طہارت حاصل کرنی ہے تو اس پانی کا پاک اور پاک کرنے والا ہونا ضروری ہے۔

2:وضو سے پہلے نیت کرنی چاہیے۔ وضو میں نیت کرنا کم از کم سنت ہے اور نیت کرنے سے ہی وضو ثواب اور درجے والا ہوتا ہے۔  

وضو کے لیے نیت یہ ہو گی کہ دل میں ارادہ کرے کہ میں اس وضو کے ذریعے طہارت حاصل کرنا چاہتا ہوں۔  

اور اگر وہ شخص پہلے سے باوضو ہو اور اس کے باوجود تازہ وضو کرنا چاہتا ہو تو پھر یہ نیت کرے کہ میں اس وضو کے ذریعے وہ ثواب حاصل کرنا چاہتا ہوں جو وضو کرنے کی وجہ سے ملتا ہے۔

3:وضو کی ابتدا میں بسم اللہ پڑھنا بھی سنت ہے۔  

اس لیے کہ حضرت ابو ہریرہؓ، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:  

من توضأ وذكر اللّٰه فانه يطهرجسدہ كله، ومن توضأولم يذکر اسم اللّٰه لم يطهر الا موضع الوضوءِ 

(دارقطنی: جلد 1 صفحہ73، 74 سنن الکبریٰ للبیہقی: جلد1 صفحہ44) 

ترجمہ: جس نے وضو کیا اور اللہ تعالیٰ کا نام لیا تو بے شک اس کے سارے جسم کو پاک کر دیتا ہے اور جس نے وضو کیا اور اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا تو اس کے صرف وضو والے اعضا پاک ہوتے ہیں۔

اور اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:  

كان رسول اللّٰهﷺ حين يقوم للوضوء يکفأ الاناء فيسمی اللّٰه ثم يسبغ الوضوءَ

(مجمع الزوائد: جلد1 صفحہ220)  

ترجمہ: نبی کریمﷺ جب وضو کے لیے اٹھتے تھے تو برتن کو اوندھا کرتے، بسم اللہ پڑھتے، پھر مکمل وضو کرتے۔

4: مسواک: وضو کی ابتدا میں مسواک کرنا بھی سنت ہے۔  

اس لیے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:  

كان رسول اللّٰهﷺ يفضل الصلاة التی يستاك لها علی الصلاة التی لا يستاك لها سبعين ضعفا  

(مجمع الزوائد: جلد10 صفحہ 81 زجاجۃ المصابیح: جلد 1 صفحہ 95)  

ترجمہ: نبی کریمﷺ اس نماز کو جس کے لیے مسواک کی گئی ہو، اس کو اس نماز پر ستر گنا فضیلت دیتے تھے جس کے لیے مسواک نہ کی گئی ہو۔ نیز حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے:  

كنا نضع مسواك رسول اللّٰهﷺ مع طهوره(مجمع الزوائد: جلد2 صفحہ98)  

ترجمہ: ہم طہارت کے پانی کے ساتھ رسول اللہﷺ کی مسواک رکھا کرتے تھے۔  

اگر کسی آدمی کے پاس مسواک نہ ہو تو وہ انگلی کے ساتھ دانت صاف کرے۔

5: وضو کی ابتدا میں پہلے تین بار پہنچوں (گٹوں) تک ہاتھ دھونا بھی سنت ہے۔  

اس لیے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے اصحاب کو جو حضورﷺ جیسا وضو کر کے دکھایا، اس میں ہے:  

فغسل كفيه حتى انقاهما  

(ابو داؤد: جلد 1 صفحہ 43 ترمذی: جلد 1 صفحہ8 نسائی: جلد 1 صفحہ15)  

ترجمہ: پھر اپنی ہتھیلیوں کو دھویا یہاں تک کہ ان کو خوب صاف کیا۔ اور ابو مطر نے حضرت علیؓ کے وضو کی جو روایت کی ہے اس میں ہے:  

فغسل كفيه ووجهه ثلاثا  (مسند احمد: جلد1 صفحہ 158) 

ترجمہ: تو حضرت علیؓ نے اپنی ہتھیلیاں اور اپنا چہرہ تین بار دھویا۔ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے اصحاب کو جو حضور اکرمﷺ جیسا وضو کر کے دکھایا، اس میں ہے:  

فافرغ على كفيه ثلاث مرارفغسلهما(بخاری: جلد1 صفحہ27)  

ترجمہ: پھر تین مرتبہ اپنی ہتھیلیوں پر پانی بہا کر ان کو دھویا۔

6: وضو میں تین بار کلی کرنا بھی سنت ہے۔ کلی کہتے ہیں کہ منہ میں پانی ڈال کر اس کو حرکت دینا اور پھر گرا دینا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جو حضور اقدسﷺ جیسا وضو کر کے دکھایا اس میں ہے:  

بمضمض ثلاثا مع الاستنشاق بماء واحدٍ

(ترمذی: جلد 1 صفحہ8 ابو داؤد: جلد1 صفحہ 42 مسند احمد: جلد1 صفحہ135) 

ترجمہ: ایک ہی پانی کے ساتھ ناک میں پانی ڈالنے کے ساتھ تین مرتبہ کلی کی۔

اور حضرت عبداللہ بن زیدؓ فرماتے ہیں:  

رأيت النبیﷺ مضمض واستنشق من كف واحد، فعل ذلك ثلاثا(ترمذی: جلد1 صفحہ6) 

ترجمہ: میں نے نبی کریمﷺ کو دیکھا کہ آپ نے ایک ہی ہتھیلی سے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، اور یہ کام آپﷺ نے تین دفعہ کیا۔

7: تین بار ناک میں پانی ڈال کر جھاڑنا بھی سنت ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان کردہ روایت میں اس کا ذکر ہے۔  

اور حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:  

اذا توضأ احدكم فليجعل فی انفه ماءثم ليستنثر  (مسلم: جلد1 صفحہ124)  

ترجمہ: جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو اپنے ناک میں پانی ڈالے، پھر اس کو جھاڑ دے۔

8: وضو میں جو اعضاء دھوئے جاتے ہیں ان کو ایک ایک بار دھونا فرض ہے۔ ایسے انداز میں دھوئے کہ ذرا سی جگہ بھی خشک نہ رہے اور دھوتے وقت اتنا پانی بہائے کہ چند قطرے نیچے بھی گر جائیں۔ دو دو بار دھونا اس سے افضل ہے اور تین تین بار دھونا سنت ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے ایک ایک دفعہ اعضاء کو دھو کر وضو کیا تو فرمایا:  

هذا الوضوء الذی لا يقبل اللّٰه الصلوةالابه

ترجمہ: یہ ایسا وضوہے کہ اس کے بغیر اللہ تعالیٰ نماز قبول ہی نہیں کرتا، پھر دو دو بار اعضاء کو دھو کر وضو کیا تو فرمایا کہ یہ ایسا وضو ہے جس کی وجہ سے وضو کرنے والے کو دوہرا اجر دیا جاتا ہے۔  

ثم توضأ ثلاثا فقال: هذا وضوئی ووضوء خليل اللّٰہ ابراهيم ووضوء الانبياء قبلی

(ابنِ ماجہ: صفحہ، 34 مسند احمد: جلد 2 صفحہ98 دارقطنی: جلد، 1 صفحہ، 81)  

ترجمہ: پھر تین مرتبہ وضو کیا تو فرمایا کہ یہ میرا وضو ہے اور یہی حضرت ابراہیم خلیل اللہ کا وضو ہے اور یہی مجھ سے پہلے انبیاء کرام علیہم السلام کا وضو ہے۔

بلاوجہ تین مرتبہ سے زیادتی نہیں کرنی چاہیے اس لیے کہ زیادتی کی صورت میں خواہ مخواہ پانی کا ضیاع بھی ہے اور آدمی کا سنت کے ثواب سے محروم ہونا بھی ہے جو کہ سراسر زیادتی اور اپنے آپ پر ظلم ہے۔

9: وضو کرتے وقت دائیں جانب سے شروع کرنا بھی سنت ہے۔ اس لیے کہ جن حضرات نے حضور اکرمﷺ کے وضو کو بیان کیا ہے انہوں نے کہا کہ آپﷺ نے دائیں جانب سے شروع کیا۔ اور نبی کریمﷺ نے اپنی امت کو ترغیب بھی فرمائی ہے:  

اذاتوضأتم فابدءوا بميامنكم  

(ابو داؤد: جلد 2 صفحہ215 ابنِ ماجہ: صفحہ 33)  

ترجمہ: جب تم وضو کرو تو دائیں جانب سے شروع کرو۔

صفحہ 1 از 3