وضو کا مسنون طریقہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

وضو کا مسنون طریقہ

  حافظ عبدالقدوس خان قارن

صفحہ 3 از 3

ثم غسل رجلیه الى الكعبین ثلاث مرات

(مسند احمد: جلد1 صفحہ28)  

ترجمہ: پھر تین مرتبہ ٹخنوں تک اپنے پاؤں دھوئے۔

20: موزوں پر مسح کرنا سنت ہے۔ اگر پاؤں پر موزے پہنے ہوئے ہوں اور موزے میں پاؤں طہارت کی حالت میں ڈالے ہوں تو ان موزوں پر مسح کرنا سنت سے ثابت ہے مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات موزوں پر مسح کرنے کی اجازت ہے اور موزوں پر مسح کی روایات حدِ تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جب موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا:  

جعل رسول اللهﷺ لاثة ايام ولیاليهن للمسافر ويوما ولیلۃ للمقيم (مسلم: جلد 1 صفحہ135)  

ترجمہ: نبی کریمﷺ نے مسافر کے لیے تین دن اور ان کی راتیں اور مقیم کے لیے ایک دن رات تک اس کی مدت مقرر فرمائی ہے۔

21: وضو میں جو فرائض ہیں یعنی چہرہ دھونا، ہاتھ کہنیوں سمیت دھونا، سر کا مسح کرنا اور پاؤں دھونا، ان میں ترتیب کا لحاظ رکھنا سنت ہے۔ اس لیے کہ آنحضرتﷺ سے وضو کے بارے میں جو روایات منقول ہیں ان میں ترتیب سے وضو کرنا ثابت ہے۔

22: وضو میں موالات مستحب ہے، یعنی اعضاء کو یکے بعد دیگرے دھونا۔ درمیان میں اتنا وقفہ نہ کیا جائے کہ پہلا عضو خشک ہو جائے۔

23: جن اعضاء کو دھویا جاتا ہے ان پر صرف پانی بہانے کو کافی نہ سمجھا جائے بلکہ ان کو ہاتھ سے ملنا بھی سنت ہے۔ اسی کو دلک کہتے ہیں، اس لیے کہ نبی کریمﷺ کے وضو میں دلک یعنی (اعضاء کو ملنا) بھی ثابت ہے۔

24:وضو سے بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پینا سنت ہے، اس لیے کہ آپﷺ نے وضو سے بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پیا۔

25: وضو سے فارغ ہو کر رومال یا تولیے سے اعضا کو خشک کرنا جائز ہے۔ اس لیے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:  

كانت للنبیﷺ خرقة ينشف بها بعد الوضوءِ

(مستدرک: جلد1 صفحہ154 ترمذی: جلد 1 صفحہ 9)  

ترجمہ: نبی کریمﷺ کا ایک کپڑا تھا، اس کے ساتھ وضو کے بعد اعضاء پونچھتے تھے۔ اسی طرح کی ایک روایت حضرت معاذ بن جبلؓ سے بھی ہے۔

26: وضو میں قبلہ رخ بیٹھنا مستحب ہے اور اونچی جگہ پر بیٹھنا بھی مستحب ہے تاکہ چھینٹے نہ پڑیں۔ اور بلاوجہ وضو کے دوران کسی سے مدد لینا بھی مناسب نہیں ہے۔

27: وضو کے بعد دعائیں پڑھنا بھی سنت سے ثابت ہے۔ شہادتین پڑھے: أَشهَدُ أَن لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبدُهُ وَرَسُولُهُ  (مسلم: جلد 1 صفحہ 122)  

اور اس کے ساتھ: اللّٰهُمَّ اجعَلنِی مِنَ التَّوَّابِينَ وَاجعَلنِی مِنَ المُتَطَهِّرِينَ پڑھے۔  (ترمذی: جلد1 صفحہ9)

ان کے علاوہ اور بھی بعض دعائیں ثابت ہیں۔  

وضو کے بعد دعا پڑھتے وقت آسمان کی طرف نظر اٹھانا درست ہے، جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے:  

رسول اللہﷺ نے فرمایا: 

من توضأ فأحسن الوضوء  ثم رفع بصره الى السماء فقال: اشهد ان لا اله الا اللّٰه وحده لا شريك له، واشهد ان محمدا عبده ورسوله، فتحت له ثمانية ابواب الجنة يدخل من ايها شاء(مسند ابی یعلیٰ: حدیث نمبر 244) 

ترجمہ: جس نے اچھے انداز سے وضو کیا، پھر اپنی نظر آسمان کی طرف اٹھا کر یہ کلمات کہے تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں، جس سے چاہے جنت میں داخل ہو جائے۔ وہ کلمات یہ ہیں أَشهَدُ أَن لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبدُهُ وَرَسُولُهُ

وضو کے بعد دعا کرتے وقت آسمان کی طرف نظر اٹھانے کی روایت کنز العمال میں حضرت ثوبان اور حضرت انس رضی اللہ عنہما سے بھی ہے۔  

اس لیے وضو کے بعد دعا پڑھتے وقت آسمان کی طرف نظر اٹھانا تو درست ہے، مگر انگلی کا اٹھانا کسی حدیث سے ثابت نہیں ہے۔

28: وضو کے بعد اگر ایسا وقت ہو جس میں نوافل پڑھے جا سکتے ہیں تو دو رکعت تحیۃ الوضو پڑھنا بھی سنت اور فضیلت کا باعث ہے۔


صفحہ 3 از 3