Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

آپ کہتے ہیں کہ ابوبکر اور عمر قران کریم کی اس آیت کے مصداق ہیں (وعد الله الذين آمنوا منكم و عملوا الصالحات الخ) اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ تم میں سے ایماندار اور نیک کام کرنے والوں کو زمین پرخلیفہ بنائے گا اگر ابوبکر پیغمبر السلام (ص) کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اسامہ کی فوج میں شامل ہو کر میدان جنگ میں چلے جاتے تو یقیناً ان کی جگہ پر کوئی دوسرا شخص خلیفہ بنتا (لیکن انہوں نے حضرت پیغمبر(ص) کے حکم کی مخالفت کی اور میدان جنگ میں نہ جا کر شہر کے باہر رکے رہے اور پیغمبر کے انتقال کے بعد خلافت کا عہدہ حاصل کیا) اب آپ بتائیں کہ کیا اللہ اپنے نبی کی نافرمانی کو اپنا وعد ہ پورا کرنے کا زمینہ بناتا ہے؟

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

 شیعہ سوال۔7
آپ کہتے ہیں کہ ابوبکر اور عمر قران کریم کی اس آیت کے مصداق ہیں (وعد الله الذين آمنوا منكم و عملوا الصالحات الخ)  اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ تم میں سے ایماندار اور نیک کام کرنے والوں کو زمین پرخلیفہ بنائے گا
اگر ابوبکر پیغمبر السلام (ص) کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اسامہ کی فوج میں شامل ہو کر میدان جنگ میں چلے جاتے تو یقیناً ان کی جگہ پر کوئی دوسرا شخص خلیفہ بنتا (لیکن انہوں نے حضرت پیغمبر(ص) کے حکم کی مخالفت کی اور میدان جنگ میں نہ جا کر شہر کے باہر رکے رہے اور پیغمبر کے انتقال کے بعد خلافت کا عہدہ حاصل کیا) اب آپ بتائیں کہ کیا اللہ اپنے نبی کی نافرمانی کو اپنا وعد ہ پورا کرنے کا زمینہ بناتا ہے؟

 جواب اہل سنت 

بیشک خلفائے راشدین کی خلافت عین وعدہ الہی کی تکمیل تھی، بصورت دیگر شیعہ رافضی بتلائیں کہ اللہ کا وعدہ خلافت کیسے پورا ہوا؟ کیونکہ ان کے نزدیک تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلیفہ بلافصل ہونے چاہئے تھے لیکن نہ ہو سکے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ بھی ساڑھے چھ ماہ خلیفہ رہے۔۔ اس کے بعد کوئی امام خلیفہ نہ بن سکا۔
پھر قرآن کریم میں اللہ عزوجل کا وعدہ کیسے پورا ہوا؟
 دوسرا اعتراض لشکر اسامہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے شریک نہ ہونے پر ہے۔
اس کا جواب مختصرآ پیش خدمت ہے۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لئے لشکر اسامہ میں شرکت کا حکم نبویﷺ بذات خود اختلافی نکتہ ہے۔
بالفرض تسلیم بھی کر لیا جائے تو پھر یہ بات بھی ثابت ہے کہ نبی کریمﷺ نے آخری دنوں میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مسجد نبوی کی امامت کا فریضہ بھی سونپ دیا تھا اور شیعہ و سنی کتب کے مطابق آخری چار دن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی میں نمازیں پڑھائی تھیں۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی کریمﷺ نے بیماری کی وجہ سے حضرت ابوبکر رضی کو لشکر اسامہ میں بھیجنے کے فیصلے کو تبدیل کر کے انہیں اپنی جگہ امامت کی ذمیداری سونپ دی تھی۔
اس کے علاوہ یہ بات بھی شیعہ و سنی کتب میں موجود ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لشکر اسامہ میں حکم نبوی کے مطابق شامل ہونے کی تیاریاں بھی کر چکے تھے، لشکر اسامہ مقام جرف مدینہ سے تین میل دور تیاری کے مراحل سے گذر رہا تھا۔
اسی دوران حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا کے ذریعے رحلت نبی کی افسوس ناک اطلاع ملی تو تمام لشکر مدینہ میں لوٹ آیا ،
لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حکم پر نبی کریمﷺ کی ہدایات کے مطابق لشکر اسامہ روانہ کردیا گیا، حالات بدلنے کی وجہ سے مدینہ پر مرتد قبائل کے حملوں کے خطرات منڈلا رہے تھے، اسی وجہ سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں رکنے کی درخواست کی جسے حضرت اسامہ نے بحیثیت امیر لشکر قبول کیا۔
حوالا جات:
 1-احتجاج طبرسی جلد اوّل صفحہ 99,91
 2- التنبیہ والاشراف (ابوالحسن علی بن الحسین بن علی مسعودی) صفحہ 241
 3- شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد دوئم صفحہ 21
 4- درہ نجفیہ شرح نہج البلاغہ صفحہ 225
 5- تاریخ روضتہ الصفاء جلد دوم صفحہ 433
 6- ناسخ التواریخ جلد اوّل تاریخ خلفاء صفحہ 187
 7- اعلام الوری مصنف فضل ابن حسن طبرسی صفحہ 145