Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

نبی کریم کے ورثاء ازواج مطہرات، سیدہ فاطمہ اور چچا حضرت عباسؓ۔   فدک کا فیصلہ خود نبیﷺ  کر کے گئے تھے۔ سُنی مناظر کے سات سوالات سے شیعہ مناظر کا فرار!(قسط 17)

  جعفر صادق

نبی کریم کے ورثاء ازواج مطہرات، سیدہ فاطمہؓ اور چچا حضرت عباسؓ فدک کا فیصلہ خود نبیﷺ  کر کے گئے تھے۔
سُنی مناظر کے سات سوالات سے شیعہ مناظر کا فرار!(قسط 17)

سنی مناظر: میں گیارہ بجے گروپ چھوڑ دوں گا۔ آپ کی طرف سے دو ٹوک جواب نہ آنے سے اور فضول وقت ضائع کرنے سے کئی لوگ نکل چکے ہیں اور میں بھی ان کا ہم خیال بن چکا ہوں۔ تمام گروپ ممبرز ملاحظہ کر سکتے ہیں جو تحریر شیعہ مناظر نے خود تحریر کی اسے جان بوجھ کر اس چالاکی سے لکھا کہ پہلے آدھا سچ قبول کروا کر اس پر ہی آگے گفتگو کروں گا اور اصل بنیادی باتیں جن پر فیصلہ ہوا ،  اسے زیر بحث ہی نہیں لاؤں گا۔ اس طرح عوام سمجھے گی کہ فدک واقعی خلفاء نے غضب کیا اور اپنی جاگیریں مال و ملکیت بنالی لیکن سیدہ  فاطمہ کو نہ دیا حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ فدک کا فیصلہ خود نبیﷺ  کر کے گئے تھے۔ یہ حدیث دونوں مسالک کے اول درجے کی کتب میں صحیح حدیث کا درجہ رکھتی ہے۔ ایسی حدیث کا انکار کوئی اہل علم کر ہی نہیں سکتا۔

ممبرز سوچ رہے ہوں گے کہ میں شیعہ مناظر کو آگے بڑھنے کیوں نہیں دے رہا تو اس کی وجہ یہی ہے کہ اس نے تحریر کے الف میں چار نکات لکھنے کے بجائے صرف تین نکات لکھ کر ایک اہم حقیقت چھپانے کی کوشش کی۔شیعہ مناظر دلشاد کو مندرجہ ذیل نکات ایمانداری سے تحریر میں لکھنے تھے۔

1۔  سیدہ  فاطمہ کی طرف سے فدک کا مطالبہ کرنا۔

2۔   حضرت ابوبکر صدیقؓ نے نبی کریمﷺ  کا فیصلہ سنایا۔

اس کے بعد جمہور اہلِ سنت علماء کے مطابق صرف ایک طرق  اور ایک راوی امام زہری کے  گمان کے مطابق

3۔  سیدہ فاطمہؓ  کی شدید  ناراضگی

4۔  ترک کلام اور بغیر اطلاع  تدفین 

  تمام صحیح احادیث  میں جہاں بھی فدک کا مطالبہ مذکور ہے وہاں  نبی ﷺ کا فیصلہ بھی ساتھ ہی مذکور ہے جسے حضرت ابوبکر صدیقؓ نے سنا کر اپنی مجبوری بتائی اور اپنی ساری جائیداد تک سیدہ کی خدمت میں پیش کردی جبکہ چھتیس صحیح روایات میں سے صرف چند روایات میں ایک ہی طرق  امام زہری سے  سیدہ فاطمہ ؓکی ناراضگی مذکور ہے۔

کیا خلفاء فدک کے چور تھے؟

 یہ کیسے چور تھے کہ چوری کی چیز سے دنیا کا کوئی فائدہ نہیں لیا ، نہ مال ملکیت بنائی اور نہ ان کے بچوں کو بطور وراثت فدک ملا!

یہ کیسے چور تھے کہ فدک چوری بھی کیا  اور پھر نبی کے طریقے پر اس کی آمدنی خرچ بھی کرتے رہے!

 یہ کیسے عجیب چور تھے کہ آخرت تو خراب کر لی لیکن دنیا بھی حاصل نہیں کی!

ایسے مظلوم چور شاید ہی دنیا میں کہیں اور ہوں۔

جذباتی تحریریں لکھنا آسان ہے لیکن حقائق کی روشنی میں ان پر گفتگو کرنا بہت مشکل۔ الحمدللہ میں نے حتیٰ الامکان کوشش کی کہ شیعہ مناظر اور تمام گروپ ممبرز تک اس تحریر میں چھپائے گئے وہ  حقائق دکھاؤں جن سے اہلِ سنت مؤقف کا حق پر ہونا ثابت ہوتا ہے۔ شیعہ مر جائے گا لیکن کبھی بھی وہ حقائق عوام کو نہیں دکھائے گا۔

ض کے گمان سے واقعی یہ ثابت ہے کہ سیدہ ناراض ہوئیں لیکن یہ بالکل اسی طرح ثابت ہے جس طرح قرآن سے ثابت ہے کہ

1۔  حضرت موسیٰ نے حضرت ہارون سے کہا کہ تم نے میرے بعد بری جانشینی کی۔

2۔  جب حضرت موسیٰ نے حضرت خضر کو کہا کہ تم نے کشتی میں سوراخ کر کے برا کیا۔

3۔ جب حضرت موسیٰ نے حضرت خضر کو قاتل کہا۔

4۔  جب حضرت موسیٰ اپنے بھائی حضرت ہارون سے لڑ پڑے۔

اگر آدھی بات کسی کو بتائی جائے تو  یہ سارے واقعات قرآن میں دیکھ کر گمراہ ہو جائے گا  کہ نبی معصوم ہو کر  بھی ایسا کیسے سمجھ سکتے ہیں؟

بالکل اسی طرح سیدہ  فاطمہؓ کی خاموشی کو بعد کے صرف ایک راوی نے ناراضگی پر محمول کر کے غلطی کی کیونکہ  ناراضگی خالص دلی کیفیت کا نام ہے جو انسان اپنے الفاظ و تاثرات اور عمل سے ظاہر کرتا ہے۔

جس طرح حضرت موسیٰ کو عارضی غصہ آیا اور لڑائی بھی کردی پھر جب مسئلہ کلیئر ہوا تو معاملہ رفعہ دفعہ ہوگیا،  اسی طرح ممکن ہے کہ سیدہ کو بھی  عارضی دلی رنجش ہوئی ہو جو بعد میں ختم ہوگئی کیونکہ اہلِ بیت کی شان یہ نہیں کہ  مالی ملکیت پر عام انسانوں کی طرح ردعمل دکھائیں جبکہ نبی کریمﷺ  کا فیصلہ بھی موجود ہو۔

میں نے کوشش کی کہ قرآن کی طرف شیعہ مناظر آئے تاکہ بعد از نبی فدک کا کون کون وراثت میں حقدار ہوسکتا ہے ،   یہ ہم آیات قرآنی سے دیکھتے لیکن حق طلبی کا دعویٰ کرنے اور اس کی کوشش کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔

یہاں یہ حقیقت بھی بتادوں کہ اہلِ تشیع  عام طور پر سیدہ فاطمہؓ  کی طرف سے بطور میراث فدک طلب کرنے کو کیوں نہیں مانتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کی آیات سے واضح ہے کہ پیچھے چھوڑ دینے والے ورثاء میں کوئی ایک ملکیت کا وارث نہیں بنتا بلکہ ایک سے زیادہ ورثاء ہوں تو ہر ایک کے مقرر حصے اللہ کی طرف سے مخصوص کئے گئے ہیں۔ اگر شیعہ دل پر پتھر رکھ کر فدک کو میراث نبوی  تسلیم کر لیں تو پھر ازواج مطہرات اور نبی کے چچا حضرت عباس بھی فدک کے حقداروں میں شامل ہو جاتے ہیں!  یہی معاملہ دور صحابہ میں بھی زیر بحث رہا اور پھر ہمیشہ کے لئے حل بھی کر لیا گیا  ورنہ سیدنا علیؓ اپنے چار سالہ دور میں اور سیدنا حسنؓ بھی اپنے دور میں فدک کا حق حاصل کر سکتے تھے۔ صدیقی فیصلے پر یہ سیرت اہل بیت کی مہر ایسی ہے جو قیامت تک لگی رہے گی۔

کچھ پرسنل میسیجز میں مشورے آ رہے ہیں کہ گروپ نہیں چھوڑنا چاہئے۔ شیعہ علمی بحث تو کرتے نہیں ہیں لیکن فریق مخالف  گروپ چھوڑ دے تو اسی کو دلیل بناتے ہیں کہ دیکھیں سنی بھاگ گیا۔ ہم جیت گئے اور فتح کے شادیانے بجنا شروع۔ اس لئے میں گروپ  نہیں چھوڑ رہا اور  گفتگو کے اختتام تک  موجود رہوں گا۔

تمام ممبرز غور و فکر کریں۔ میں پہلے دن سے جو وضاحتیں طلب کر رہا ہوں۔  ان کے جوابات شیعہ مناظر نے کہاں دئیے ہیں؟

1۔  سیدہ فاطمہؓ کا مطالبہ فدک بطور میراث اہلِ تشیع مؤقف کہاں ہے؟

2۔  شیعہ مناظر  نے اپنی تحریر میں سیدہ فاطمہؓ کا مطالبہ اور ناراضگی بیان کی تھی لیکن فرمان نبویﷺ جس پر فدک کا فیصلہ ہوا ، اسے کیوں بیان نہیں کیا؟ اس کا جواب کہاں ہے؟

3۔  وہ کونسی صحیح روایت ہے جس میں سیدہ  فاطمہؓ سے ناراضگی کے الفاظ/چہرے یا جسمانی تاثرات بیان کئے گئے ہیں؟ اس کا جواب کہاں ہے؟

4۔  راوی ابنِ شہاب کے علاوہ کسی اور راوی کی روایت کہاں ہے جس میں سیدہ کی ناراضگی بیان ہوئی ہے؟

5۔  کیا اہلِ تشیع راوی کا گمان قبول کرتے ہیں؟ اس کا جواب کہاں ہے؟

6۔ سیدہ فاطمہؓ کو جو فرمان نبویﷺ  سنایا گیا وہ متفق علیہ بین الفرقین ہے۔ اس کا رد کہاں ہے؟

7۔   الزامی جوابات میں عورت کی وراثت نہ ہونے پر زوجہ کہہ کر شیعہ مناظر نے اپنی صحیح روایت سے جان چھڑانے کی کوشش کی، اس پر میرے اشکالات کا جواب کہاں ہے؟

اللہ حافظ و ناصر

دنیائے شیعیت پر تاقیامت قرض

1۔  سیدہ فاطمہ کا مطالبہ فدک بطور میراث اہلِ تشیع مؤقف کہاں ہے؟

 (جواب)2 شیعہ مناظر  نے اپنی تحریر میں سیدہ فاطمہؓ کا مطالبہ اور ناراضگی بیان کی تھی لیکن فرمان نبویﷺ جس پر فدک کا فیصلہ ہوا ، اسے کیوں بیان نہیں کیا؟ اس کا جواب کہاں ہے؟

جواب3۔  وہ کونسی صحیح روایت ہے جس میں سیدہ سے ناراضگی کے الفاظ/چہرے یا جسمانی تاثرات بیان کئے گئے ہیں؟ اس کا جواب کہاں ہے؟

جواب 4۔  راوی ابنِ شہاب کے علاوہ کسی اور راوی کی روایت کہاں ہے جس میں سیدہ کی ناراضگی بیان ہوئی ہے؟

جواب5۔  کیا اہل تشیع راوی کا گمان قبول کرتے ہیں؟ اس کا جواب کہاں ہے؟

جواب6۔  سیدہ فاطمہؓ کو جو فرمان نبویﷺ  سنایا گیا وہ متفق علیہ بین الفرقین ہے۔ اس کا رد کہاں ہے؟

جواب7۔   الزامی جوابات میں عورت کی وراثت نہ ہونے پر زوجہ کہہ کر شیعہ مناظر نے اپنی صحیح روایت سے جان چھڑانے کی کوشش کی، اس پر میرے اشکالات کا جواب کہاں ہے؟

جواب