Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شیعہ مناظر کی املائی غلطی لفظ ادراج یا اندراج!(قسط 16)

  جعفر صادق

شیعہ مناظر کی املائی غلطی لفظ ادراج یا اندراج!(قسط 16)

شیعہ مناظر: آپ نے میری ایک املائی غلطی کی طرف اشارہ کیا اور طعنہ بھی دیا  لیکن یہ ٹھیک ہے کہ میں نے ادراج کم لکھا ہے ، اندراج زیادہ لکھا ہے {۔آپ کا شکریہ} لیکن آپ نے مجھے اردو نہ جاننے کا طعنہ دے کر اپنے آپ کو بھی خراب کردیا ۔

لفظ ادراج  اور اندراج لغت کے اعتبار سے ایک ہی معنی رکھتا ہے   اور دونوں کا معنی داخل کرنا اور درج کرنے کے ہے  ، اب علم صرف کے اعتبار سے یہ ثلاثی مزید فیہ کا صیغہ ہے ۔ میں نے باب انفعال میں لے جا کر اس کا استعمال کیا تو معنی کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں پڑتا   لیکن میں نے کہیں بھی یہ نہیں دیکھا کہ ادراج کا معنی گمان کسی نے کیا ہو کہیں ایسا تو نہیں آپ لوگوں کی لغت کی کتاب بھی آپ کے سلف سے جدا ہو اور اس میں نئے کشفیات کا اضافہ کیا ہو ؟؟ دقت کریں ۔  

 حدیث مدرج : اس روایت کو کہتے ہیں جس میں بعض راویوں کا کلام بھی درج ہو اور یہ گمان کیا جائے کہ یہ حدیث کا جزو ہے۔یعنی راوی کا کلام حدیث کے درمیان میں درج ہونے کی وجہ سے دوسرو ں کو یہ گمان ہوتا ہے کہ یہ بھی روایت کا حصہ ہے ۔ درج اور ادراج کا معنی گمان نہیں ۔ درج اور ادراج کی وجہ سے گمان پیدا ہوتا ہے ۔


ادراج کی اصطلاحی معنی یہ ہے کہ راوی اپنا گمان، اندازہ یا تبصرہ روایت میں شامل کردے، روایت میں موجود اس ادراج کو محدثین ظن، اندازہ، گمان یا خیالی بات ہی کہتے ہیں۔سنی مناظر نے یہی مفہوم ادراج کا بیان کیا تھا جس پر شیعہ مناظر اچھلتا رہا کہ یہ غلط ہے۔

 مدرج حدیث کی تعریف  لغوی اعتبار سے "مدرج"، ادراج کا اسم مفعول ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کسی چیز میں کچھ داخل کر دینا یا اس میں کوئی اور چیز ملا دینا۔ اصطلاحی مفہوم میں "مدرج" اس حدیث کو کہتے ہیں جس کی سند میں تبدیلی کر دی گئی ہو یا متن میں کوئی بات اس طریقے سے داخل کر دی گئی ہو کہ اسے علیحدہ شناخت نہ کیا جا سکے۔


ایک وضاحت

سنی مناظر نے ادراج کا اصطلاحی مفہوم بیان کیا جو محدثین کے ہاں عام رائج ہے  کیونکہ ادراج درحقیقت ظن یا گمان کو ہی کہتے ہیں۔ بقول شیعہ مناظر ادراج کے معنی گمان نہیں اور ادراج کی وجہ سے گمان پیدا ہوتا ہے۔ یہ درست نہیں کیونکہ ادراج (وہ الفاظ) ہی دراصل گمان/ظن ہوتے ہیں۔

ایک اور تصحیح: لفظ اندراج اگرچہ ہم معنی لفظ ہے لیکن یہ اصطلاح عام استعمال نہیں کی جاتی۔


  شیعہ مناظرمحترم آپ نے میرے طعنہ کی حقیقت پر مبنی ہونے کا ثبوت پیش کیا ۔بلکل اسی طرح جس طرح آپ نے اپنے اسکین اور تحریر میں اپنے  امام زہری کے گمان والی بات میں اپنی ساری محنتوں پر پانی پھیر کر میرے مدعا کو ثابت کر دیا  اور اپنے گمان کا گمان ہونے کا عملی ثبوت پیش کیا ۔بہر حال آپ کا شکریہ۔

میں تو کے ٹو کے دامن میں رہنے والا ہوں ہماری اردو پٹھان بھائیوں کی طرف کمزور ہے لیکن جس طرح علی سدپارہ کے { ہمارے ماں ،ہمارے بہن } جیسے جملات سے کوئی ان سے پاکستان کا عظیم کوہ پیما ہونے کا اعزاز نہیں چھین سکتا ۔آپ میری علمی جوابات کا توڑ بھی پیش نہیں کرسکتے اور مجھ سے اس وجہ سے اصول دین میں ماسٹر کی ڈگری بھی چھین نہیں سکتے۔سلام ہو قوم و ملت کے اس عظیم شخصیت پر جس نے دنیا کی بلندترین چوٹیوں پر حسینی پرچم لہرا کر آل رسولﷺ سے اپنی عقیدت کا ثبوت پیش کیا ۔

سنی مناظر:   املائی ٖغلطیاں یہ ذاتی کمزوریاں ہوتی ہیں۔ دل پر نہ لیں۔ میرے جواب کو غور سے پڑھ لیتے، میں نے عربی نہ آنے کے شکوے پر اس کی نشاندہی کی تھی۔ میں ایسی باتیں درگذر کر دیتا ہوں۔

شیعہ مناظر: اب آپ کی مرضی، میں 3 بجے دیکھوں گا آپ نے کیا لکھا ہے۔ ابھی آپ کی مسلسل خلاف ورزی سے سخت ناراض ہوں ۔ کل میں نے درمیان میںِ آپ کی کسی بات پر تبصرہ نہیںِ کیا تھا۔ دوستو ۔اللہ حافظ۔