شیعہ مناظر کے گمراہ کن الزامات، لمبی تحاریر رکھ کر شرط 1 کی…

شیعہ مناظر کے گمراہ کن الزامات، لمبی تحاریر رکھ کر شرط 1 کی خلاف ورزی کردی!(قسط 12)

  جعفر صادق

صفحہ 1 از 6

شیعہ مناظر کے گمراہ کن الزامات، لمبی تحاریر رکھ کر شرط 1 کی خلاف ورزی کردی!(قسط 12)

 شیعہ مناظر سلام علیکم ۔  ظاہر آپ نے جو طریقہ کار اپنایا ہے اور بحث کے سارے مراحل کو ایک ساتھ چھیڑنے کی کوشش کی ہے   لہٰذا مناسب یہی لگتا ہے کہ میں ایک ساتھ ساری بحثوں کا جواب دوں ۔ لہٰذا آپ جس وقت  میرے مطالب کا جواب دینا چاہیں، دے سکتے ہیں ۔  آپ کو میرے مطالب میں غور کرنے اور ان کے جواب لکھنے میں آسانی بھی ہوگی  اور جیساکہ رات کی گفتگو سے صاف ظاہر تھا کہ آپ میرے مطالب کے ایک حصے کو لے کر اسی کا جواب دیتے رہے مطالب کے باقی حصوں کی طرف آپ نے اشارہ تک نہیں کیا ۔

 میں نے مکمل جواب تیار کیا ہے  یہ سب پہلے اور دوسرے مرحلے سے متعلق ہے تیسرے مرحلے سے متعلق  نہیں  ہے ۔ صبر اور حوصلے سے مطالعہ کرنے اور پھر علمی جواب دینے کی توقع رکھتا ہوں۔


(سنی مناظر نے امام زہری پر کوئی اعتراض ہی نہیں کیا تھا!!  بس جو پرسنل میں آیا، شیعہ مناظر دلشاد نے مناظرے میں کاپی پیسٹ کردیا)


امام زہری کے بارے میں آپ کے اعتراضات کا  جواب  دیکھیں ۔   

پہلا حصہ امام زہری کا اھل سنت کے ہاں مقام   

امام محمد بن مسلم المعروف ابن شہاب زہریؒ حدیث کے ثقہ امام تھے اور شام و حجاز کے کبار محدثین میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ امام ابن سعد فرماتے ہیں محدثین کا کہنا ہے کہ امام زہری ثقہ محدث تھے حدیث، علم اور روایت کثرت سے کرنے والے تھے۔ فقیہ اور جامع تھے۔ {تہذیب التہذیب}

بے شمار ائمہ محدثین نے ان کی توثیق کی ہے حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

 " الفقيه الحافظ متفق على جلالته وحفظه واتقانه "

وہ فقیہ و حافظ تھے ان کی جلالت و اتفقان پر اتقان اور حفظ ہے۔  تقریب

 اب یہاں دیکھیں آپ جیسے لوگ اس کو گمان کرنے والا سمجھتے ہیں جبکہ آپ کے مایہ ناز علماء  اس کے اتقان، دقت نظری  ، قوی حافظہ اور ان کی جلالت پر سب اتفاق نظر رکھتے ہیں ۔عجیب بات یہ ہے جس کے اتقان  پر سب کا اتفاق ہو آپ اسے ایک غیر ذمہ دار آدمی کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔آپ اپنے معتبر علماء کے مقابلے میں کھڑے ہیں  اور شیعوں کا بہانہ بنا کر اپنے علماء کی باتوں کو غیر معتبر کہنے کی کوشش میں ہے  اور یہ اپنے  ہی پاؤں پر کلہاڑی مارنا ہے ۔

²ـ  یہ بھی عرض چکا ہوں  اتنے مرتبہ والے راوی کو گمان کرنے والا کہہ کر آرام سے نکل جانا آسان نہیں یہ صحاح ستہ کے معتبر راوی اور خاص کر امام بخاری کے نزدیک اتنا معتبر راوی ہے کہ ہزار کے قریب احادیث اس سے نقل کی ہیں  ۔ اب یہ اتنا غیر ذمہ دار آدمی ہو تو اس کی روایتوں کا اعتبار بھی خطرے میں پڑ  جائے گا کیونکہ یہاں واضح سی بات ہے کہ امام زہری یا جھوٹی نسبت دے رہا ہے یا سچی نسبت۔  اگر نسبت جھوٹی ہو تو اس کے ثقہ ہونا ثابت نہیں ہوگا جبکہ اہلِ سنت اس کے بارے میں  ایسا سوچ بھی نہیں سکتے۔ اگر اس کی یہ نسبت سچی ہو تو بات ختم ۔مرضی آپ کی جس شق کو اختیار کرنا ہے کر لینا۔

³ـ یہ بھی عرض کر چکا ہوں کہ جس چیز کو آپ اب زہری کا گمان کہہ رہے ہیں،  اس کو آپ کے ہی بڑے بڑے علماء نے قبول کیا ہے اور جناب فاطمہ سلام اللہ کی ناراضگی اور رنجش کا اعتراف کیا ہے ۔چند نمونے ۔

الف یہ ابن حجر عسقلانی کا نظریہ دیکھنا کہ جو صحیح بخاری کے سب سے بڑے شارح ہیں ۔

فتح الباري- تعليق ابن باز (7/ 494):
 لأنها لما غضبت من رد أبي بكر عليها فيما سألته من الميراث رأى علي أن يوافقها في الانقطاع عنه. قوله: "فلما توفيت استنكر علي وجوه الناس، فالتمس مصالحة أبي بكر ومبايعته، ولم يكن يبايع تلك الأشهر" أي في حياة فاطمة.

 ب بدر الدين العينى نے عمدة القاري شرح صحيح البخاري (17/ 258):

 (فَأبى أَبُو بكر) ، أَي: امْتنع. قَوْله: (فَوجدت) ، أَي: غضِبت، من الموجدة. وَهُوَ الْغَضَب۔

ج  ابن بطال نے شرح صحیح بخاری میں لکھا ہے:

أجاز أكثر العلماء الدفن بالليل... ودفن علىُّ بن أبى طالب زوجته فاطمة ليلاً، فَرَّ بِهَا من أبى بكر أن يصلى عليها، كان بينهما شىء.

اکثر علماء نے جنازہ کو رات میں دفن کرنے کو جائز قرار دیا ہے  اور علی بن ابی طالب نے اپنے زوجہ فاطمہ کا جنازہ رات کو دفن کیا تاکہ ابوبکر ان پر نماز نہ پڑھ سکے چونکہ ان دونوں ( فاطمہ اور ابوبکر) کے درمیان کوئی اختلاف تھا۔

إبن بطال البكري القرطبي (متوفاي449هـ)، شرح صحيح البخاري، جلد 3، صحفہ 325

د :    المفهم لما أشكل من تلخيص كتاب مسلم (5/ 261):
له : (( فأبى أبو بكر أن يدفع إلى فاطمة شيئًا ، فوجدت فاطمة على أبي بكر في ذلك ، فهجرته ، فلم تكلمه )) ؛ لا يظن بفاطمة رضي الله عنها أنها اتهمت أبا بكر فيما ذكره عن رسول الله ـ صلى الله عليه وسلم ـ ، لكنها عظم عليها ترك العمل بالقاعدة الكلية ، المقررة بالميراث ، المنصوصة في القرآن ، وجوّزت السهو والغلط على أبي بكر ۔

مندرجہ بالا کچھ نمونے ہیں جنہوں نے اس غضب ، خفاء اور رنجش کو واضح طور پر قول کیا ہے اور آپ کی طرح راوی کا گمان کہہ کر اس کو  نہیں ٹھکرایا ہے  لہٰذا آپ کو معلوم ہونا چاہئے جناب فاطمہ سلام علیہا کی ناراضگی کے معاملے میں یہ صرف امام زہری کا نظریہ نہیں ہے بلکہ آپ کے بڑے بڑے علماء کا نظریہ ہے  اگر میں اس سلسلے میں آپ کو مزید حوالے دوں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ آپ بعض بدگمانی کرنے والے لوگوں کے ساتھ اکیلےکھڑے ہیں   اور اپنے ہی بزرگ علماء سے اظہار برائت کرنے میں مصروف ہیں  ۔

لہٰذا جو سوالات آپ نے شیعوں کے بارے میں اس بہانے اٹھائے  ہیں وہ سب آپ کے بزرگ علماء سے کریں  اور جو اعتراض آپ اس بہانے شیعوں پر کرتے ہیں وہ سب آپ کے علماء پر بھی ۔

         دوسرا حصہ یہ کہنا کہ امام زہری کے علاوہ کسی اور راوی نے اس کو نقل نہیں کیا ہے لہذا یہ ان کا اپنا گمان ہے 

صفحہ 1 از 6