شیعہ مناظر کے گمراہ کن الزامات، لمبی تحاریر رکھ کر شرط 1 کی…

شیعہ مناظر کے گمراہ کن الزامات، لمبی تحاریر رکھ کر شرط 1 کی خلاف ورزی کردی!(قسط 12)

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 6

پہلا جواب   جناب دو سروں کا  ذکر نہ کرنا مصلحت اندیشی کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے ۔  اگر کسی نے ذکر نہ کیا ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ذکر کرنے والے کو مجرم ٹہرائے۔یہ تو کوئی قانون نہیں ۔  جناب حقیقت چھپانے والا مجرم ہوتا ہے حقیقت کو بیان کرنے والا مجرم نہیں ہوتا ۔اب آپ دیکھیں ایک نمونہ جس روایت میں امیر المؤمنین  کا خلفاء کے بارے نظریہ بیان ہوا ہے اور جناب خلیفہ دوم کے بقول حضرت علی ع اس معاملے میں خلیفہ اول اور دوم کو کاذب ، غادر سمجھتے تھے ۔{ اور آپ اس کے جواب دینے سے بار بار }   دوسروں نے اس کو نقل کیا ہے لیکن امام بخاری نے کذا و کذا کہہ کر ان الفاظ کو ذکر نہیں کیا ہے اب کیا اسی بہانے دوسروں کو گمان کرنے والے اور گمان نقل کرنے والے کہا جاسکتا ہے ؟    کیا معلوم دوسرے راویوں نے بھی امام بخاری کی طرح حقیقت کو چھپانے کے لئے اس حصے کو نقل ہیں کیا ہو اور نقل نہ کرنے لئے بہانہ بھی بہت ہے ۔ اب امام زہری حقیقت پسندی سے لے کر حقیقت کو بیان کرے تو یہ مجرم ؟

دوسرا جواب جیساکہ بیان ہوا آپ کے ہی بڑے بڑے علماء نے اس پر اعتماد کر کے اس روایت کے مضمون کو بھی قبول کیا ہے ۔

تیسرا جواب  صحاح میں کتنی ایسی روایتیں ہیں جس کے بعض حصے کو بعض نے نقل کیا ہے بعض نے نقل نہیں کیا ہے تو کیا اس وجہ سے ذکر کرنے والے کو گمان کرنے والا کہا جائے گا؟خود اسی روایت کے نقلوں کا ایک نمونہ :

المعجم الكبير (22/ 398):
994 - حدثنا الحسن بن علي المعمري ثنا محمد بن حميد الرازي ثنا سلمة بن الفضل عن محمد بن إسحاق عن يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزبير عن أبي قال : قالت عائشة أن فاطمة عاشت بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم ستة أشهر۔

اب یہاں دیکھیں ۔امام طبرانی ۔اس حدیث کے اسی حصے کو جناب عائشہ کی حدیث کہہ کر نقل کر رہا ہے جس کو آپ لوگوں کے بقول امام زہری کے اندراج کا حصہ ہے ۔حدیث کے باقی حصے کو نقل نہیں کر رہا ۔

سنن البيهقى (2/ 93):
7146- وَالصَّحِيحُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِىِّ عَنْ عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهَا فِى قِصَّةِ الْمِيرَاثِ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- سِتَّةَ أَشْهُرٍ فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا عَلِىُّ بْنُ أَبِى طَالِبٍ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمَا لَيْلاً وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَكْرٍ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُ وَصَلَّى عَلَيْهَا عَلِىٌّ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُ. أَخْبَرْنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنِى اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ فَذَكَرَهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِىُّ فِى الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ

  یہاں دقت کریں ۔  امام بیہقیؒ  روایت کے اس حصے کو صحیح روایت کہہ کر نقل کر رہا ہے جس میں جناب فاطمہ ع کے جنازے میں جناب ابوبکرؓ کو شرکت کی اجازت اور اطلاع نہیں دی گئی   جبکہ آپ لوگوں کا خیال یہ ہے یہ سب رای کا گمان ہے ۔

 چوتھا جواب  اگر اس سلسلے میں دوسرے شواہد کو سامنے رکھیں  تو صاف ظاہر ہے کہ زہری نے جو نقل کیا ہے وہ حقیقت پر مبنی ہے ۔مثلاً نماز جنازے میں شرکت سے منع   اور جناب خلیفہ کا آخری عمر میں جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کے ساتھ اپنے رویے پر اظہار پشیمانی ۔اس سلسلے میں کچھ باتیں "رضایت حاصل ہونے یا نہ ہونے" والے جواب میں پیش کروں گا ۔

ایک نمونہ یہاں ۔الف  عبد الرزاق صاحب كتاب «المصنف» نے ایک اور معتبر روایت نقل کی ہے جس کے مطابق اميرالمؤمنین علیہ السلام نے حضرت زہرا (سلام الله عليها) کو راتوں رات دفن کیا تاکہ ابو بكر آپ پر نماز نہ پڑھنے پائے ۔

6554 عبد الرزاق عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ حَسَنَ بْنَ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم دُفِنَتْ بِاللَّيْلِ، قَالَ: فَرَّ بِهَا عَلِيٌّ مِنْ أَبِي بَكْرٍ، أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهَا، كَانَ بَيْنَهُمَا شَيْءٌ.

حسن بن محمد نے نقل کیا ہے  كه فاطمہ بنت رسولﷺ کو راتوں رات دفن کیا : علي [علیہ السلام] نے اس کام کو انجام دیا تاکہ ابوبکر حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کا جنازہ نہ پڑھنے پائے ، کیونکہ ابو بكر  اور  فاطمہ کے درمیان کچھ ہوا تھا۔

الصنعاني، أبو بكر عبد الرزاق بن همام (متوفاي211هـ)، المصنف، جلد 3، صحفہ521،…

 تحقیق :

حبيب الرحمن الأعظمي، دار النشر: المكتب الإسلامي – بيروت، الطبعة : الثانية 1403

 ب : امام  ابن قتیبہ دینوری نے تاویل مختلف الحدیث میں لکھا ہے:

وقد طالبت فاطمة رضي الله عنها أبا بكر رضي الله عنه بميراث أبيها رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما لم يعطها إياه حلفت لا تكلمه أبدا وأوصت أن تدفن ليلا لئلا يحضرها فدفنت ليلا.

فاطمہ(س) نے ابوبکر سے اپنے باپ کی میراث کا مطالبہ کیا ابوبکر نے قبول نہیں کیا تو فاطمہ(س) نے قسم کھائی کہ ابوبکر کے ساتھ بات نہیں کریں گی اور وصیت کی کہ انہیں رات کو دفن کیا جائے اور وہ (ابوبکر) ان کے جنازہ میں شریک نہ ہو۔

الدينوري، أبو محمد عبد الله بن مسلم ابن قتيبة (متوفاي276هـ)، تأويل مختلف الحديث، ج 1، ص 300، تحقيق: محمد زهري النجار، ناشر: دار الجيل، بيروت، 1393هـ، 1972م.

فی الحال یہی دو نمونے ۔ 

تیسرا حصہ جہاں تک اندراج کی بات ہے ۔

پہلا جواب  جیساکہ بیان ہوا یہ مدعا آپ کے ہی بڑے بڑے معتبر علماء کے نظریے کے خلاف ہے ۔ حتیٰ خود امام بخاریؒ کہ جو آپ کے علماء کے نزدیک دقت نظری میں سب سے ماہر ہے ۔کیا اتنی مہارت کے باوجود امام بخاریؒ  اس نکتے کی طرف متوجہ نہیں ہوا ۔؟ کیا امام بخاری کو اس مسئلے کی اہمیت کا علم نہیں تھا ؟ اپنی کسی کتاب میں اس کا ذکر نہیں کیا ؟ کیا خیال ہے امام بخاریؒ نے جو روایتیں نقل کی ہے ان پر امام کا ایمان نہیں تھا ؟

صفحہ 2 از 6