شیعہ مناظر کے گمراہ کن الزامات، لمبی تحاریر رکھ کر شرط 1 کی…

شیعہ مناظر کے گمراہ کن الزامات، لمبی تحاریر رکھ کر شرط 1 کی خلاف ورزی کردی!(قسط 12)

  جعفر صادق

صفحہ 3 از 6

دوسرا جواب   اندراج کہنے والوں نے بھی کوئی واضح دلیل نہیں دی ہے جو کچھ کہا ہے وہ ان کے اپنے  گمان ہے   لیکن اپنے گمان کی توجیہ کے لئے اس کو راوی کا گمان کہا ہے ۔ لہٰذا گمان کہہ کر کسی کی بات کا گمان ہونا ثابت نہیں ہوگا  اور جیساکہ میں نے بار بار اس اندراج کی وضاحت اور اس کی اسناد پیش کرنے کے لئے کہا لیکن آپ نے گمان کہنے پر ہی اکتفاء کیا ۔اس کی اسناد اور اسناد کی وضاحت پیش نہیں کی۔

اب میں ایک نمونہ پیش کرتا ہوں ۔امام بدر الدین عینی کہتا ہے :

وَقَالَ الْبَيْهَقِيّ. قَوْله: (وَعَاشَتْ) إِلَى آخِره، مدرج، وَذَلِكَ أَنه وَقع عِنْد مُسلم من طَرِيق أُخْرَى عَن الزُّهْرِيّ،۔
عمدة القاري شرح صحيح البخاري (17/ 258):

اب یہاں دیکھیں امام بہیقی کا یہ کہنا ہے کہ یہ اندراج عاشت کے بعد ہے ۔

لہٰذا ان کی اس بات کو تسلیم کیا جائے تو بات بلکل واضح ہے کہ اس سے پہلے غضب یا وجدت کا جملہ ان کا اندراج نہیں ہے ۔

لہٰذا امام بیہقی کے نزدیک بھی غضباک اور رنجش والی بات اصل حدیث کا حصہ ہے ۔   {آپ کی مرضی اس کو امام بیہقی کا گمان کہیں}

 تیسرا جواب  جیساکہ بیان ہوا  اندراج کہنے والے ایک تو اپنے بہت سے بڑے بڑے علماء کو  گمان پر ایمان رکھنے والے کہہ رہے ہیں ۔مثلا ۔بخاری کی اسی حدیث کو  دیکھیں۔

3093 - فَقَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ « لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ » . فَغَضِبَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فَهَجَرَتْ أَبَا بَكْرٍ ، فَلَمْ تَزَلْ مُهَاجِرَتَهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - سِتَّةَ أَشْهُرٍ . قَالَتْ وَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَسْأَلُ أَبَا بَكْرٍ نَصِيبَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - مِنْ خَيْبَرَ وَفَدَكٍ وَصَدَقَتِهِ بِالْمَدِينَةِ ، فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ عَلَيْهَا ذَلِكَ ، وَقَالَ لَسْتُ تَارِكًا شَيْئًا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَعْمَلُ بِهِ إِلاَّ عَمِلْتُ بِهِ ، فَإِنِّى أَخْشَى إِنْ تَرَكْتُ شَيْئًا مِنْ أَمْرِهِ أَنْ أَزِيغَ . فَأَمَّا صَدَقَتُهُ بِالْمَدِينَةِ فَدَفَعَهَا عُمَرُ إِلَى عَلِىٍّ وَعَبَّاسٍ ، فَأَمَّا خَيْبَرُ وَفَدَكٌ فَأَمْسَكَهَا عُمَرُ وَقَالَ هُمَا صَدَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - كَانَتَا لِحُقُوقِهِ الَّتِى تَعْرُوهُ وَنَوَائِبِهِ ، وَأَمْرُهُمَا إِلَى مَنْ وَلِىَ الأَمْرَ . قَالَ فَهُمَا عَلَى ذَلِكَ إِلَى الْيَوْمِ . أطرافه 3712 ، 4036 ، 4241 ، 6726 - تحفة 10678
صحيح البخارى  57 - فرض الخمس ۔ باب ۱ باب فرض الخمس  3093

اب دقت کریں :

الف اگر اندراج کو اگر غضبت سے جانا جائے تو حدیث ناقص رہ جاتی ہے۔

      فَقَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ « لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ »   قَالَتْ وَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَسْأَلُ أَبَا بَكْرٍ نَصِيبَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ۔

اب ایک تو یہاں پر اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد معاملہ کیا ہوا  ذکر نہیں  ہے ۔بات نامکمل ۔

ب :     فَهَجَرَتْ أَبَا بَكْرٍ ، فَلَمْ تَزَلْ مُهَاجِرَتَهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم

 ج  فَهَجَرَتْ أَبَا بَكْرٍ۔

عربی ادییات کے کسی طالب العم  سے پوچھے کہ  ھجرت  کا " ف " جملے کے تسلسل کو بتانے کے لئے ہے  یا تسلسل کو کاٹنے کے لئے ؟

د :  فَهَجَرَتْ أَبَا بَكْرٍ وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم

یہاں بھی دقت کریں

{ وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ}

 یہ حصہ اگر ان لوگوں کے بقول اندراج کا حصہ ہے  جبکہ ایک تو یہ اسی حدیث کا مربوط جملہ ہے اور سیاق کے اعتبار سے بلکل فٹ آتا ہے   اور جیساکہ پہلے نقل ہوا کہ امام طبرانی اور امام بہیقی وغیرہ نے اس کو یوں نقل کیا ہے: قالت عائشة أن فاطمة عاشت بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم ستة أشهر۔ یعنی جناب عائشہ کے کلام کا تسلسل ہے  یہ راوی کا۔

ھ    اس حدیث کے اس حصے

{ قَالَتْ وَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَسْأَلُ أَبَا بَكْرٍ نَصِيبَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ}  

میں دقت کریں تو یہ خود شاہد ہے کہ معاملہ ختم نہیں ہوا  بلکہ

{ وَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَسْأَلُ}  

 یعنی مطالبہ جاری رہا ختم نہیں ہوا، یہ آپ کسی عربی ادبیات سے معمولی آشنائی رکھنے والے سے بھی پوچھیں تو وہ آپ کو سمجھائے گا کہ جب "کان " کانت " فعل مضارع کے ساتھ آئے تو یہ ماضی استمراری کا معنی دیتا ہے ۔ یعنی مطالبہ ختم نہیں ہوا بلکہ جاری رہا ۔

اور جیساکہ آپ کو امیر المومنین کے موقف کے سلسلے میں کئی اسناد پیش کر چکا ہوں کہ یہ آپ نے خلیفہ دوم کے دور تک جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کے مطالبے کو جاری رکھا ۔ اب آپ کے بقول معاملہ اسی {نحن معاشر الانبیاء] سے ہی ختم ہوا تھا تو کیوں مطالبہ جاری رہا ۔؟؟ لہٰذا اندراج کی نفی پر اور اندراج کہنے والوں کے گمان کے بطلان پر شواہد اسی حدیث اور اس سے باہر بہت زیادہ ہیں  ۔

ر  اندراج کے بارے میں ایک قابلِ غور نکتہ

جہاں کہیں بھی روایت میں " قال "آیا ۔ اس کے بعد " غضبت " کے الفاظ صرف " معمر " کے طرق میں ہیں ۔  

باقی ہر طرق میں "قال "سے پہلے غضبت کے الفاظ ہیں ۔ حتیٰ کہ مسلم میں بھی قال سے پہلے فوجدت فاطمة علی ابی بکر کے الفاظ ہیں ۔

اور مسند ابوبکر للمروزی میں یہی معمر کا طرق موجود ہے ۔ جسمیں " قالت " کے الفاظ ہیں ۔ لہٰذا معمر کے طرق میں اختلاف کے باعث اس طرق کو دوسروں طرق کی طرف رجوع کے لیے لے جانا ہو گا ۔ جس میں قال سے قبل ہی غضبت کے الفاظ ہیں ۔ لہٰذا غضبت بی بی عائشہ کا کلام ہے ۔ زہری کا نہیں ۔اس سلسلے میں یہ بھی قابل توجہ ہے ۔ یہ قال ممکن ہے کسی اور راوی نے اضافہ کیا ہو یا نسخہ لکھنے والے کسی نے اضافہ کیا ہو ۔ جیساکہ بخاری کے نقل میں وہ قال موجود نہیں ۔ 

چوتھا حصہ آپ یہ کہہ کر جان نہیں چھڑا سکتا کہ یہ غضباک والی بات امام زہری کا گمان ہے اور ہم گمان کو تسلیم نہیں کرتے ۔

صفحہ 3 از 6