شیعہ مناظر کے گمراہ کن الزامات، لمبی تحاریر رکھ کر شرط 1 کی…

شیعہ مناظر کے گمراہ کن الزامات، لمبی تحاریر رکھ کر شرط 1 کی خلاف ورزی کردی!(قسط 12)

  جعفر صادق

صفحہ 4 از 6

پہلا جواب جناب ۔ مندرجہ بالا مطالب کی روشی میں یہ واضح ہوا کہ یہ ان کی رائے ہے اور آپ کا گمان اور ان کی رائے میں بہت سے اہلِ سنت کے بزرگ علماء ان کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ کچھ نمونے پیش کر چکا ہوں کچھ نمونے " غضبناک ہونے یا نہ ہونے " کی دوسری بحث میں پیش کروں گا ۔اب ہم یہ بھی کہہ دیں تو بھی کافی ہے ۔جناب فاطمہ کی طرف سے حقوق کا مطالبہ کرنا اور اس مطالبہ کو رد کرنے کی وجہ سے آپ کا رنجیدہ ہونا ،غضبناک ہوکر مکمل بائیکاٹ کی حالت میں دنیا سے جانے کے شیعہ مؤقف میں اہلِ سنت کی معتبر روایت کے راوی سارے علماء کے نزدیک ثقہ اور بڑے فقیہ ،حافظ ،دقت نظرے رکھنے والے  امام زہری اور ان کی بات کی تائید کرنے والے اہل سنت کے بڑے بڑے علماء بھی شیعوں کے ساتھ شریک ہیں ۔ لہٰذا جو کچھ اسی بہانے شیعوں کے خلاف تبلیغ کرتے ہیں اور شیعوں پر اعتراض کرتے ہیں ،ان سب کا رخ آپ کے امام زہری اور دوسرے بزرگ علماء کے خلاف بھی ہے ۔فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ ادراج کہنے والے گمان کرنے والے بعض لوگوں کے ساتھ ہم عقیدہ ہونا ہے یا آپ کے بڑے بڑے علماء کے ساتھ ہم آپ کو مجبور نہیں کرسکتے لیکن آپ کو بھی اپنے آپ کو ایک اپنے گمان کی وجہ سے اہل سنت کے ترجمان ہونے اور اپنے نظریے  کو سارے اہلِ سنت کا نطریہ کہنے کا حق نہیں ۔


شرط 1 کی واضح خلاف ورزی
مناظروں میں لمبی تحاریر اور ایک ساتھ کئی روایات رکھنا ممنوع ہوتا ہے۔ شرط نمبر 1 کے مطابق دونوں مناظرین نے قبول کیا تھا کہ دوران مناظرہ مختصر جوابات اور ٹو دی پواینٹ گفتگو کی جائے گی۔اس کے باوجود سنی مناظر نے شیعہ مناظر کو کہا کہ آپ ایک ایک اہل سنت عالم کی عبارت بمعہ اصل اسکینز کے ساتھ الگ الگ پیش کریں،ہم  ان پر بات کرتے ہیں  تاکہ حقیقت واضح ہو کہ انہوں نے شیعہ اعتراض کا رد کیا ہے یا شیعہ کی تائید کی ہے، کیونکہ اس طرح حقیقت کھل جانی تھی اس لئے شیعہ مناظر راضی نہ ہوا اور اس طرح واضح ہوگیا کہ شیعہ دلشاد اہلسنت علماء کے حوالے سے بھی جھوتی باتیں کہہ رہا ہے۔

دوسرا جواب :  آپ اس کو جھوٹی نسبت تو نہیں کہہ سکتے کیونکہ جناب امام زہری خلفاء کے عقیدت مند تھے ۔ لہٰذا ان کو خراب کرنا ہے تو آپ کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ امام زہری شیعہ تھے اور خلفاء کے دشمن۔ اگر ایسا کریں گے تو آپ کی مشکلات میں اور اضافہ ہوگا۔ لہٰذا آپ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ یہ  واقعے کا  عینی شاہد نہیں  ہے لہٰذا یہ مرسل بات ہے۔ اب آپ کے علماء نے تابعین تو چھوڑے تابعین کے تابعین کے مرسل کو بھی حجت مانا ہے ۔ لہٰذا آپ بے شک اپنے علماء کے قابل قبول اس قانون کو ٹھکرائے اور اپنے لئے حجت نہ ماننے لیکن یہ بھی نہ کہے میرا نظریہ سارے اہل سنت کا نظریہ ہے سب کو میری تقلید کرنی چاہئے ۔{انتہائی  معذرت}


پہلی بات مرسل روایت ضعیف روایت کی قسم ہے، کچھ شرائط کے بعد ہی قبول کی جاتی ہے۔ اس پر کئی دلائل دیئے جاسکتے ہیں۔ دوسری بات امام زہری کی یہ روایت مرسل نہیں ہے ، اس روایت میں امام زہری نے جو اپنی طرف سے اضافہ کیا ہے وہ درست نہیں ہے۔ شیعہ مناظر کو یہ علمی نکتہ بھی سمجھ نہیں آسکا۔ تیسری بات امام زہری کے اس گمان کے خلاف کئی دوسری روایات سنی و شیعہ معتبر کتب میں بھی موجود ہیں، اس لئے شیعہ مؤقف مکڑی کے جالے کی طرح کمزور ہے۔  


 پانچواں حصہ غضبناک ہونا قابل انکار نہیں

پہلا حصہ  آپ نے ایک فارمولہ بنایا ، غضب ناک ہونے کے لئے ۔ اسی کے الفاظ اس کا چہرہ ۔

   پہلا جواب جیساکہ عرض ہوا کہ عمل سے بھی ناراض ہونے اور رنجیدہ ہونے کا اظہار کرسکتا ہے ۔


سنی مناظر نے پوچھا کہ سیدہ فاطمہ سے عملاً ناراضگی  ثابت کریں۔ شیعہ مناظر کا جواب فی الحال اس کی ضرورت نہیں

   

الف اگر جس طرح آپ نے صحیحین سے ہٹ کر دوسری کتابوں کا حوالہ دیا اگر میں بھی ایسا کروں تو آپ کو سیدہ کے الفاظ بھی دکھا سکتا ہوں لیکن فی الحال اس کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ  اس حدیث اور دوسری  حادیث سے صاف ظاہر ہے کہ آپ نے عملاً اس چیز کا اظہار کیا۔

 جیساکہ بیان ہوا یہاں کوئی اندراج نہیں ہے  بلکہ یہ جناب عائشہ کی نقل کردہ حدیث ہے لہٰذا ممکن ہے  نامحرم کے لئے انہوں نے اپنا چہرہ چھایا  لیکن امی عائشہ تو دیکھ سکتی ہے اور وہی اس کی راوی ہے ۔

دوسرا جواب جیساکہ اس سلسلے کے دوسرے شواہد اور آپ کے علماء کے بیایات سے یہ بات واضح ہے کہ آپ ناراض ہوئیں اور اسی حالت میں دنیا سے چلی گئیں اور خلیفہ کو نماز میں شرکت  کی اجازت نہیں دی ۔  اس پر اگر آپ مجھ سے شاہد کا مطالبہ کریں تو میں گزشتہ شواہد کے علاوہ اور بھی آپ کے علماء کی تصریحات پیش کرسکتا ہوں ۔


 سیدہ عائشہ صدیقہ نے یہ تینوں گمان بیان نہیں کئے۔ کیونکہ کسی روایت میں قالت کے بعد ناراضگی بیان نہیں ہوئی۔ کسی دوسرے طرق سے ناراضگی ثابت نہیں ہے۔ مزید یہ کہ سیدہ فاطمہ کی شیخین سے آخری ایام میں ملاقات ہونا سیدہ عائشہؓ سے مخفی نہیں ہوسکتا اور جنازے کی خبر سے شیخین کی لاعلم رہنے والی بات بھی سیدہ عائشہؓ سے ممکن نہیں ہے کیونکہ تمام واقعات کے وقت وہ موقعہ پر موجود تھیں۔ سنی و شیعہ کتب سے یہ حقائق بھی ثابت ہیں۔


تیسرا جواب جیساکہ بیان ہوا کہ یہ اس راوی کا گمان نہیں ہے بلکہ آپ کے بہت سے علماء کا نظریہ بھی ہے اس سلسلے میں آپ کے علماء کے دو گروہ ہیں ۔

 الف اصل غضباک ہونے کو قبول کرنے والے علماء :   ان لوگوں نے  اس غضبناک ہونے کی توجیہ اور تاویل کرنے کے ذریعے اس کو ایک عام سا سادہ مسئلہ بنا کر پیش کیا ہے۔ اب اس میں سے سے بعض علماء کے اقوال میں نے گزشتہ بحث میں پیش کی ہیں ۔اس کے  اور بھی بہت سے نمونے میرے پاس موجود ہیں ۔


غور فرمائیں! شیعہ دلشاد خود بھی اقرار کر رہا ہے  کہ جن اہل سنت علماء نے غضبناک ہونا بیان کیا ہے وہ اس کے قائل ہی نہیں ہیں بلکہ اس کی توجیہ اور تاویل کی ہے۔ اس سے شیعہ کا مؤقف انہی کے جواب سے ہی باطل ہوا کہ اہلِ سنت علماء نے ناراضگی کو تسلیم کیا ہے! یعنی سنی مناظر درست کہتے رہے کہ اہلِ سنت علماء نے ناراضگی اور شیعہ اعتراض کا رد ہر جگہ بیان کیا ہے اور شیعہ مکر و فریب سے بیچ کے اقوال دکھا کر عوام کو گمراہ کرتے ہیں!


صفحہ 4 از 6