شیعہ مناظر کے گمراہ کن الزامات، لمبی تحاریر رکھ کر شرط 1 کی…

شیعہ مناظر کے گمراہ کن الزامات، لمبی تحاریر رکھ کر شرط 1 کی خلاف ورزی کردی!(قسط 12)

  جعفر صادق

صفحہ 5 از 6

ب : وہ علماء جنہوں نے اس غضباک ہونے کو بہانہ بنا کر جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شان میں توہین کی ہے ۔ان میں سر فہرست ۔

الف   ابن تیمیہ :  وہ آپ کی طرح اندراج بندراج کا ذکر نہیں کرتا  بلکہ شیعوں کو  جواب دینے کے بہانے جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کی شان میں گستاخی کرتا ہے یہاں تک کہ ان کے اس کام کو دنیا پرستی اور نعوذ باللہ منافقانہ کام کہتا ہے ۔ آپ اس لنک پر مراجعہ کرکے اس کے اسناد دیکھ سکتے ہو ۔


اصل نکتہ اور موضوع پر گفتگو کرنے سے فرار اور اہلسنت علماءکے اقوال کا ذکر کر کے گفتگو کو الجھانے کی کوششیں!

 
   

لنک

  ب : ابن کثیر دمشقی ۔ 

 و ھی امراۃ من بنات آدم تاسف کما یسافون ۔البدایۃ و النھایۃ   جلد 5 صحفہ 289۔

 اگر فاطمہ زہرا  ناراض ہوگئیں تو کیا ہوا وہ ایک عورت ہی تو ہے اولاد آدم سے اس کی ناراضگی عام اولاد آدم کی طرح ہے ۔


شیعہ کتاب اصول کافی میں موجود ایک صحیح روایت میں امام معصوم کے قول سے براہ راست حضرت آدم علیہ السلام  کا نام لکھ کر کفر کا اصول منسوب کیا گیا ہے! دوسری طرف شیعہ اہل سنت علماء کے اقوالات سے چند الفاظ دکھا کر عوام کو گمراہ کرتے ہیں کہ دیکھیں سنی علماء نے اہلِ بیت کی توہین کی ہے! الحمدلللہ اہلِ سنت عقائد و نظریات قرآن و احادیث نبویﷺ کے مطابق ہیں۔


 ابن عثیمین ۔ابن تیمیہ کی پیروی میں اس کے ہم فکر ابن ‌عثیمین  مشہور سلفی مولوی کہتا ہے کہ نعوذ باللہ  جناب زہرا اس معاملے کے وقت اپنی عقل کھو چکی تھیں۔ 

 نسأل الله أن يعفو عنها. وإلا فأبوبكر ما استند إلي رأي، وإنما استند إلي نص، وكان عليها رضي الله عنها أن تقبل قول النبي صلي الله عليه وسلم «لا نورث ما تركنا صدقه» ولكن كما قلت لكم قبل قليل: عند المخاصمه لا يبقي للإنسان عقل يدرك به ما يقول أو ما يفعل، او ما هو الصواب فيه؛ فنسأ الله أن يعفو عنها، وعن هجره خليفه رسول الله.
لتعليق علىٰ صحيح مسلم، جلد ٩، صفحه ٧۸، شرح صحيح مسلم، جلد 6، صفحه 74

ایک طرف علمائے اہل سنت کی عبارات سے غلط مطالب اور دوسری طرف اہل تشیع معتبر کتب میں موجود واضح روایات جن میں انبیائے کرام سمیت سیدنا علی، سیدہ فاطمہ سمیت کئی اہل بیت افراد کی شان میں گستاخی ثابت ہوتی ہے! 

 
   

یہ چند ایک نمونے ہیں۔

شیعہ اور اہلِ سنت کی تاریخ کا مطالعہ کریں اور اہل سنت کے علماء میں سے جن لوگوں نے اصل ناراضگی اور اختلاف کو قبول کرنے کے بعد خلیفہ اول کے موقف کو صحیح ثابت کرنے اور اس معاملے میں جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کے موقف کو غلط اور انہیں قصوروار ثابت کرنے کے لئے کتابیں لکھیں اور مناظرِے کیے ہیں اگر اسی فہرست میں  ان علماء کو بھی شامل کریں تو ایک لمبی قطار بن جاتی ہے جس ابتدا اورا نتہا کا تعین سخت ہے


شیعہ مناظر دلشاد کے دلائل کا لیول اور مضبوطی دیکھیں۔ گیارہ ھجری کے واقعے پر صحیح روایات رکھنے کے بجائے اہلِ سنت علماء کے اقوالات سے اپنا مؤقف ثابت کر رہا ہے!اہل علم جانتے ہیں کہ علمائے کرام کی ذاتی آراء دوسرے قرائن کے بغیر قبول نہیں کی جاتیں!


 
   

ان سب نے اصل غضباک ہونے کو قبول کیا ہے۔ اب ان میں سے بعض نے جناب فاطمہ علیہا السلام کی شان میں کوئی گستاخی نہیں کی ہے بعض نے ان کو خطا کار کہہ کر ان کی شان میں گستاخی کی ہے لیکن غضباک ہونے کو تسلیم کیا ہے ،بر خلاف آپ کے اور اس طرح گمان کرنے والے بعض افراد کے  لہذا ممتاز قریشی صاحب حقیقت یہ ہے کہ اس غضباک والے نظریے میں آپ جیسے بعض لوگ ہی تنہا رہ جاتے ہیں ۔اہل سنت کے بڑے بڑے محدثین اور شارحین اور مایہ ناز علماء کہ جن کے دسترخوان پر آپ بیٹھ کر نوالہ چن رہے ہیں وہ سب اس نظریے میں شیعوں کے ساتھ ہم عقیدہ ہے ۔ آپ کو اپنی تنہائی مبارک ہو ۔ اب آپ کو اندازہ ہوچکا ہوگا کہ آپ اہل سنت کے نظریے کے ترجمان نہیں ہیں ۔ 


شیعہ مناظر کا دجل: جمہور اہل سنت علماء نے شیعہ اعتراض بیان کر کے اس کا رد بیان کیا ہے۔


  آپ کا یہ مدعا کہ معاملہ ختم ہوا تو اور آپ خاموش ہوگئی تھیں :

جواب :


ھوشیار ! خبردار!

قارئین! اس وقت تک بس ایک راوی کے گمان اور علمائے اہلِ سنت کے کئی اقوالات کو توڑ مروڑ کر رکھ دینے کے بعد شیعہ مناظر دلشاد  یہ ظاہر کرنے کی کوششوں میں ہیں کہ سیدہ فاطمہ  کا ناراض ہون ثابت ہوگیا ہے!! شیعہ اسی طرح عوام کو بیوقوف بناتے ہیں!


 
   

الف :جناب ایک تو پہلے بیان ہوچکا  کہ اس سلسلے میں زہری کی روایت اور اس سلسلے کی دوسری روایتیں اور آپ کے علماء کی تصریحات کو سامنے رکھیں تو جو کچھ میں نے بیان کیا ہے وہ عین حقیقت ہے { ناراض بھی ہوئی بائیکاٹ کی حالت میں خلفاء کو اپنے حق سے محروم کرنے والے سمجھ کر دنیا سے چلی گئیں ۔}

 اس سلسلے میں کچھ دوسرے شواہد کی طرف پھر اشارہ کرتا ہوں ۔جیساکہ پہلے آپ سے عرض کیا تھا کہ ہماری گفتگو کا بنیادی محور صحیحین کی روایتیں ہیں اور اگر اس سے باہر نکلیں  تو  آپ کے کم از کم تیس کے برابر  شواہد اپنے مدعا کی صحت پر  پیش کرسکتا ہوں ۔اس سلسلے کی ایک اہم بات وہی جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کا مطالبہ جاری رہنا ہے { کانت تسال } اگر آپ کو جناب عائشہ کی یہ خبر پسند نہیں اور اس کو جناب عائشہ کا گمان کہہ کر اس کو رد کرنا چاہیں تو ہم آپ کو نہیں روکتے ۔اسی سلسلے کی دوسری اہم بات،جناب امیر المومنین علیہ السلام نے خلیفہ کی طرف سے مذکورہ حدیث سے استدالال کے باوجود ان کے نظریے کو قبول نہیں کیا اور خلیفہ دوم کے دور میں بھی جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کا وہی مطالبہ جاری رکھا ۔

 اس کی اسناد بھی آپ کو پہلے پیش کر چکا ہوں ۔اب اگر معاملہ ختم ہوا تھا تو تقریبا چار سال تک جناب امیر کا اسی مطالبے کو دہرانے کا کیا معنی ہے ؟ آپ اگر جناب خلیفہ اول کے کہنے پر سب کچھ ختم ہوا تھا تو پھر کیوں خلیفہ دوم کے دور میں بھی کیوں یہ معاملہ ختم نہیں ہوا ؟؟ کیوں خلیفہ دوم کے بقول ، مولا علی نے اس معاملے میں خلفاء کو سخت انداز میں جھٹلائے ؟ انہیں کاذب ،غادر ،آثم ظالم ،فاجر ۔سمجھے ؟؟


صفحہ 5 از 6