عورت کو وراثت نہ ملنے کا مسئلہ اور شیعہ مناظر کے بے معنی…

عورت کو وراثت نہ ملنے کا مسئلہ اور شیعہ مناظر کے بے معنی دلائل اور خیالی استدلال!(قسط 11)

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 3

معذرت ۔کیونکہ ممتاز صاحب نے ابھی لکھنا شروع نہیں کیا ہے لہذا دو باتیں اور۔انہوں نے کل کی بحث میں بار بار یہ سوال اٹھایا کہ کسی کا ناراض ہونا  ۔لفظ، چہرے۔  تو مختصر جواب:  عمل سے بھی ناراضگی ثابت ہوتی ہے،جیساکہ جناب فاطمہ ع نے عملا اس کا اظہار کیا۔ جہاں تک زہری پر الزام تراشی ہے تو اس کا ایک جواب یہ بھی ہے۔زہری نے گزرے ہوئے ایک واقعے کی خبر دی ہے۔ وہ بھی حضرت عائشہ تک صرف ایک واسطے کے ساتھ اور وہ بھی  اسلام کی اتنی اہم شخصیات حضرت ابو بکر اور حضرت زہرا کے بارے میں ۔اس اہم خبر کو آپ بڑی آسانی سے راوی کے وہم و گمان پر محمل کرتے ہو ۔


یہی تو اصل نکتہ سمجھنے کا ہے کہ اس واقعے کے بہت سارے لوگ شاہد تھے ، اگر سیدہ فاطمہ شدید ناراض ہوئیں تو صرف ایک راوی ابن شہاب کو کیسے علم ہوگیا؟ باقی ادوار کے لوگوں تک اسی ایک طرق کی چند روایات سے ناراضگی پہنچی ہے، اور ان روایات میں بھی سیدہ فاطمہ سے براہ راست ناراضگی بیان نہیں ہوئی!


 
   

کیا  وہ کوئی وہمی شخص تھے؟ یا حضرت ابو بکر کی نسبت کوئی دشمنی رکھتے تھے؟  ساتھ یہ بھی معلوم ہو کہ ابن زھری تابعین میں سے تھے،  یعنی ابھی بہت سارے لوگ موجود تھے جو اس واقعے کے شاہد تھے لہذا دوسروں نے بغیر تحقیق اور سوچ بچار کے ابن زہری کے وہم و گمان کو کیوں نقل کیا؟  

اور جو سند میں نے بخاری سے پیش کی ہے اس میں اندارج کا سوال ہی نہیں،  اب اتنی بڑی غلطی  امام بخاری سے کیسے ہوسکتی ہے وہ بھی اتنےاہم مسئلہ میں! امام بخاری جو  ہر اس بات کو نقل کرنے سے گریز کرتے ہیں جس میں اہل بیت علیہم السلام کی فضیلت اور خلفا کی شان میں کوئی خلل پڑتا ہو۔ جس کی واضح دلیل حدیث غدیر جیسی متواتر حدیث کو بھی نقل نہ کرنا ہے۔ شب بخیر۔

 سنی مناظر: میں نے آپ کے مدعا کے رد میں الزامی جواب دیا ہے۔ اس سے میں مدعی کیسے بن گیا۔ کیا میں نے کوئی نیا دعوی کردیا ہے۔   اب آپ کا اخلاق و صبر برداشت سے باہر ہونا شروع ہوچکا ہے۔

1۔  اس باب میں عورت سے مراد صرف بیوی ہے اس کی تخصیص کسی شیعہ عالم سے ثابت کریں۔

2۔  دوسری بات وہ قرائن پیش کریں کہ اس باب کی تمام روایات میں عورت سے مراد بیوی ہے۔

3۔  شیخ کلینی کی عبارت پیش کریں کہ یہ باب بیوی کو غیر منقولہ ملکیت سے محروم کرنے کے لئے لکھا ہے۔

 

سوال:اصول کافی میں اس باب کے اوپر یا نیچے کی فہرست میں کونسا باب زوجہ کے متعلق ہے؟  مزید یہ کہ اگر ایسا کوئی باب موجود بھی ہو تو یہ اس بات کی دلیل کیسے ہے کہ دوسرا باب بھی زوج کے متعلق ہی ہے؟

 آپ کی یہ تاویل بھی  نہایت کمزور ہے کہ علماء کوانبیائے کرام کی وراثت میں درھم و دینار نہیں ملتے! 

اس فرمان نبویﷺ میں واضح طور پر درھم و دینار کی نفی اور علم کی وراثت کا ذکر ہے۔ نبی کو یہ کہنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ کیا کسی نبی یا کسی بھی انسان کی مالی وراثت اس کے رشتہ داروں کے علاوہ دوسروں کو کبھی ملی ہے؟ اگر ایسا دستور ہوتا تو پھر بات سمجھ میں آتی کہ نبی نے علماء کو اپنے مال ملکیت دینے سے منع کردیا ہے، لیکن یہ حقیقت کے خلاف ہے۔ اس لئے اس حدیث سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ نبی دین کا علم ہی چھوڑ کر جاتے ہیں۔ دنیا کا مال ملکیت یعنی درھم و دینار کی نفی کے الفاظ حقیقی ورثاء کے لئے ہیں۔ علماء کو تو نبی کا مال ملکیت کسی بھی حیثیت سے نہیں مل سکتا ۔ یہ  ایک غیر منطقی بات ہے اور غلط تاویل۔

 انبیائے کرام کی میراث نہیں ہوتی۔ یہ فرمان نبوی ﷺ متفق علیہ بین الفریقین ہے اور قرآن کے خلاف ہرگز نہیں ہے۔ فی الوقت یہ نکتہ زیر بحث نہیں ہے۔ میں تو چاہتا ہوں کہ نبی کی میراث پر ہم قرآن کی روشنی میں بھی گفتگو کریں تاکہ آپ کو دکھاؤں کہ اہل تشیع اگر نبی کی وراثت کے قائل ہیں تو قرآن کے مطابق نبی کے کون کون سے ورثاء کو باغ فدک سے حصے ملنے چاہئیں!

 میں آپ کو آپ کی تحریر کے اسکرین شاٹ دکھا کر آپ کو الف پر گفتگو کے لئے محدود کرتا آ رہا ہوں، آپ بار بار تحریر کے اگلے حصے کی طرف جانے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ دلائل تک پیش کر چکے ہیں، جبکہ میں نے انہیں مکمل پڑھا بھی نہیں ہے، کیونکہ آپ کو فی الحال شرط 5 کے تحت میری وضاحتوں کے جوابات دینے ہیں۔ کل تک کا وقت آپ کے پاس ابھی بھی ہے۔ آپ نے جس طرح اپنا مدعا  بات کرنے کی کوشش کی ہے، وہ ایک مثال سے سمجھاتا ہوں۔

فرعون کے الفاظ قرآن میں!

اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى٘ۖ(۲۴)

میں تمہارا سب سے اونچا رب ہوں (ف۲۹)

( AL-NAZIA'T - 79:24 )

 اب یہ الفاظ دکھا کر کوئی یہ استدلال پیش کرے کہ قرآن سے فرعون کا رب ہونا ثابت ہوتا ہے۔اسے مکمل حقیقت بیان کی جائے تو پھر بھی وہ بضد ہو کہ نہیں پہلے یہ تسلیم کرو کہ قرآن میں فرعون کو رب تسلیم کیا گیا ہے یا نہیں !

یہ الفاظ  تو واقعی قرآن میں موجود ہیں! لیکن کیا ہم اس نامکمل بات  کا جواب دیکر کوئی   نتیجہ نکال سکتے ہیں!؟

ہرگز نہیں۔ جب تک مکمل بات نہ سمجھی جائے، قرائن، سیاق و سباق کو مکمل نہ سمجھا جائے ، کسی نتیجے پر پہنچنا صریح گمراہی ہوگی۔ اس طرح کی کئی مثالیں قرآن میں موجود ہیں۔ نماز کے قریب نہ جاؤ! وغیرہ وغیرہ

آپ کا بار بار اصرار بھی کچھ اسی طرح  کا ہے کہ بس اقرار کرو کہ صحیحین میں ناراضگی کے الفاظ ہیں، پھرعوام کے آگے ڈھنڈورہ شروع !  دیکھو جو شیعہ کہتے ہیں وہ ثابت کردیا !! جبکہ مکمل حقیقت شیعوں کو سمجھنے کی توفیق ہی نہیں ملتی ،  سیاق و سباق دیکھتے نہیں ہیں بلکہ سُنی و شیعہ  کتب کی کئی صحیح احادیث بھی تسلیم نہیں کرتے۔

 آپ جب تک میرے پوچھے گئے سوالوں کے علمی جواب نہیں دیں گے،اگلے مرحلے پر گفتگو شروع نہیں ہوگی۔شرائط قبول کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس پر عمل بھی کیا جائے گا۔ گروپ ممبرز آپ کی طرف سے مایوس ہو رہے ہوں گے۔  آپ  بار بار اپنی تحریر کے ب پر احادیث رکھ کر غلطی کر رہے ہیں۔ جب پہلے سے طئے ہے کہ ایک ایک نکتہ کلیئر کر کے آگے بڑھا جائے گا تو آپ کیسے دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ آپ اپنی تحریر کے پہلے مرحلے کے الف میں ہی پھنس گئے ہیں۔

ابھی تو قرآن کی روشنی میں میراث نبوی پر بھی حقائق پیش کرنے ہیں۔ ایسے آپ کو معافی نہیں ملے گی۔

صفحہ 2 از 3