Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اہل تشیع فدک کے واقعے پر تاثر دیتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ کو فدک نہ دیکر ظلم کیا گیا! جبکہ وہ اہم نکتہ جس کی بنیاد پر ہی فیصلہ ہوا، اسے عوام سے کیوں چھپاتے ہیں؟(دنیائے شیعیت سے اہم سوالات)(قسط 8)

  جعفر صادق

اہل تشیع فدک کے واقعے پر تاثر دیتے ہیں کہ سیدہ فاطمہؓ کو فدک نہ دیکر ظلم کیا گیا! جبکہ وہ اہم نکتہ جس کی بنیاد پر ہی فیصلہ ہوا، اسے عوام سے کیوں چھپاتے ہیں؟(دنیائے شیعیت سے اہم سوالات)(قسط 8)

  شیعہ مناظر: واہ ممتاز صاحب واہ ۔ ہم نے علمی گفتگو کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ ایک دوسرے کی شخصیت کو خراب کرنے اور الفاظ کے چناو میں احتیاط سے کام لینے کا عہد کیا تھا  لیکن آپ مجھے جو بھی کہیں اور سمجھیں میں کبھی بحث کے دوران آپ کی شخصیت پر حملہ کر کے بحث کو خراب نہیں کروں گا۔ یہ تو دوسرے گروپوں میں سلسلہ چلتا رہتا ہے  لیکن میں خود تو ایسا نہیں کروں گا کیونکہ مجھے ممتاز صاحب سے دشمنی نہیں ہے ۔مجھے شیعہ موقف سے ہی دفاع کرنا ہے ۔  ممتاز صاحب میں نے بار بار واضح انداز میں کہا ہے کہ آپ بحث کے مرحلے سمجھ کر میرے مدعا کے مطابق آگے بڑھے ۔اگرچہ آپ دبے الفاظ میں اقرار تو کر ہی رہے ہیں کہ یہ ساری باتیں آپ کی کتابوں میں موجود ہیں اور ان روایات کی سند بھی صحیح ہیں ۔  میں بھی تو یہی کہہ رہا ہوں  کہ یہ باتیں آپ کی کتابوں میں موجود ہیں ۔ آپ اگر واضح انداز میں  قبول کریں کہ : ہاں صحیحین میں  ہیں لیکن ہماری نظر میں صحیحین کی یہ بات درست نہیں۔


سنی مناظر یہی بات تو کہہ رہا تھا کہ صحیحین میں ناراضگی کے الفاظ درست نہیں ہیں!


 آپ   کو اصولاً  یوں کہنا چاہئے ہماری کتابوں میں یہ باتیں تو ہیں لیکن یہ باتیں غلط ہیں اور غلطی سے یہ باتیں ہماری کتابوں میں نقل ہوئی ہیں ۔ حقیقت کچھ اور ہے  لیکن کبھی یہ نہ کہیں  کہ یہ باتیں شیعوں کی بنائی ہوئی داستانیں ہیں  کیونکہ ان باتوں کا خاص کر صحیحین میں ہونا قابل انکار ہی نہیں۔

 اب اس سوال میں آپ کو اعتراض کیا ہے ؟  میں نے یہاں کونسی خیانت کی ہے ؟   اگر مجھ پر خیانت کا الزام لگانا بھی ہے تو پہلے ان باتوں کے  ہونے کا واضح انداز میں اقرار کر دیں  پھر اگلے مرحلے میں جب میں آپ کی مدعا کو رد کرنے کے لئے یہ کہوں کہ یہ باتیں صحیح بھی ہیں اور جب دلائل پیش کروں تو پھر آپ مجھ پر خیانت کا الزام لگائیں اور پھر میں ثابت کروں گا اس خیانت میں آپ کے بہت سے علماء بھی میرے ساتھ شریک ہیں ۔ خاص توجہ دیں ۔

 سنی مناظر: چلیں میں خیانت کے الفاظ واپس لیتا ہوں، لیکن سوال پھر وہی پوچھوں گا۔

آپ نے فدک کے واقعے پر  تحریر لکھ کر تاثر دیا کہ سیدہ کو فدک نہ دیکر ظلم کیا گیا! جبکہ وہ اہم نکتہ جس کی بنیاد پر ہی فیصلہ ہوا، اسے عوام سے کیوں چھپایا؟

 میں دبے لفظوں میں نہیں کھل کر اقرار کر رہا ہوں کہ ناراضگی کے الفاظ ایک راوی کا گمان ہیں، ہم اس گمان پر یقین نہیں رکھتے کیونکہ دوسرے قرائن سے اس کی نفی ثابت ہے۔ کل یہ بھی عرض کرچکا ہوں کہ صحیح روایت کے تین حصے ہوتے ہیں۔ سند، متن اور راوی کا اضافہ۔ ناراضگی والی حدیث میں راوی کا اضافہ ہے جسے ہم قبول نہیں کرتے۔  اس سے زیادہ واضح کیا ہوتا ہے کہ صحیحین میں ناراضگی کے الفاظ راوی ابنِ شہاب کا گمان ہے، جو قابل قبول نہیں ہے۔ ہماری کتب میں صحیح روایات کے اندر راویوں کے گمان بھی موجود ہیں،  جن پر من وعن یقین نہیں کیا جاتا۔ 

شیعوں کی بنائی ہوئی داستانیں یہ ہیں کہ آپ جیسی تحریریں ہر دور میں  لکھی جاتی ہیں  جن میں صحیح روایات کی چند عبارات کا سہارہ لیکر  عوام کو گمراہ کیا جاتا ہے!

 اگر آپ کی تحریر اور اس کے مطالب درست ہیں تو بسم اللہ کریں۔ مجھ سمیت تمام گروپ ممبرز یہی چاہتے ہیں کہ آپ اپنی تحریر کا علمی انداز سے دفاع کریں۔ اس کا واحد راستہ یہ ہے کہ میرے ان تمام سوالات کے جواب دیں۔  اب تک کی گفتگو میں مندرجہ ذیل نکات کی وضاحت آپ سے مطلوب ہے۔ہمارے درمیان طئے شدہ شرائط میں شرط نمبر 5 کو پڑھ لیجئے گا ، اس کے مطابق ہم دونوں ایک دوسرے کو اپنی باتوں کے جوابات دینے کے پابند ہیں۔

سیدہ فاطمہ کے مطالبہ فدک کا تعین کریں کیونکہ آپ کا مدعا براہ راست صحیحین کی روشنی میں ہے۔

¹ـ کیا اہلِ سنت کے ہاں سیدہ کی طرف سے  مطالبہ فدک بطور میراث نبوی کو اہل تشیع بھی تسلیم کرتے ہیں؟

²ـ  اگر اہلِ تشیع تسلیم نہیں بھی کرتے تو صحیحین میں موجود اتنی واضح حقیقت عوام سے چھپاتے کیوں ہیں؟ آپ نے اپنی تحریر میں اس واقعے کو بیان کرنے میں خیانت کیوں کی ہے؟ سیدہ کا مطالبہ بیان کرنے کے بعد خلفاء کا عذر/مجبوری بیان کیوں نہیں کی گئی؟ کیا یہ براہِ راست شان نبوت میں گستاخی نہیں ہے؟

³ـ کسی بھی صحیح روایت کے متن سے سیدہ فاطمہؓ کی ناراضگی کو ثابت کریں۔

(الف) سیدہ فاطمہؓ کے وہ الفاظ جن سے ناراضگی ثابت ہو رہی ہو۔

(ب) سیدہ فاطمہؓ کے چہرے یا جسمانی تاثرات سے ناراضگی کا بیان ہونا۔

⁴ـ  راوی ابنِ شھاب کے علاوہ کسی بھی طرق سے سیدہ فاطمہؓ کی ناراضگی کا بیان ہونا کسی اور راوی کے گمان سے ثابت کریں۔

⁵ـ دلیل دیں کہ اہلِ تشیع کے ہاں صحیح روایت میں راوی کا گمان من و عن قبول کیا جاتا ہے۔

⁶ـ آپ نے فدک کے واقعے پر  تحریر لکھ کر تاثر دیا کہ سیدہ کو فدک نہ دیکر ظلم کیا گیا! جبکہ وہ اہم نکتہ جس کی بنیاد پر ہی فیصلہ ہوا، اسے عوام سے کیوں چھپایا؟

 شیعہ مناظر: جناب ممتاز صاحب  میری تحریر کی ترجمانی کرنی ہے تو صحیح انداز میں ترجمانی کریں ۔میں نے کہاں پر کہا فدک نہ دے کر ظلم کیا ۔ جبکہ میں نے کہا ہے کہ فدک کا مطالبہ کرنا اور امیر المؤمنین  کا مؤقف یہ تھا کہ اس معاملے میں ان پر ظلم ہوا ہے اور یہ لکھا تھا کیا یہ باتیں صحیحین میں ہیں یا نہیں ۔ دیکھیں ممتاز صاحب میں اس مرحلے میں یہی تو آپ سے بار بار پوچھ رہا ہوں ۔   کیا امیر المؤمنین  کا یہ مؤقف صحیحین میں ہے یا نہیں ۔ آپ نے سیدہ کے بارے  میں سوال کا تو چلو  اقرار کر دیا کہ یہ صحیحین میں موجود ہے   لیکن امیر المؤمنین کے مؤقف کا صحیحین میں ہونے  کا ابھی تک اقرار نہیں کیا ۔ جب یہ بات کلیئر ہوگئی کہ شیعہ کی یہ باتیں صحیحین میں موجود ہیں  اور نہ امام زہری شیعہ تھا نہ امام بخاری اور امام مسلم شیعہ تھے  لہٰذا ان باتوں کو شیعوں کی باتیں کہنا بحث کا غلط طریقہ ہے   میں اس مرحلے پر  اتنا ہی کہنا چاہتا تھا ۔

 اب دوسرے مرحلے میں باقاعدہ داخل ہوتے ہیں  لیکن ابھی وقت ختم ہوچکا ہے اگر آپ کی اجازت ہو تو اس بحث کو رات کے لئے رکھیں ۔ میں ان شاءاللہ  تفصیلی جواب دوں گا   لیکن مختصر جواب یہ ہے کہ اگر یہ کہیں کہ یہ راوی کا گمان ہے تو یہ امام زہری ہے کوئی عام راوی نہیں، آپ کے سارے علماء نے ان کی توثیق کی ہے  لہٰذا شیعہ اتنا  ہی کہہ دیں تو کافی ہے کہ یہ شیعہ نظریہ اور شیعوں کی باتیں صحاح ستہ کے ایک اہم راوی اورا ہلِ سنت کے ہاں قابل قدر ایک امام کی رائے ہے  اور صحیحین کے مصنفین نے بغیر کسی اعتراض کے ان کی روایت کو نقل کیا ہے اور بہت سے شارحین نے ان کی بات کو قبول کیا ہے ۔  امام زہری جیسے اہلِ سنت کے مایہ ناز راوی کہ صحیح بخاری میں ان سے ہزار کے قریب روایات نقل ہیں اور سب نے ان کو ثقہ اور امام کہا ہے ۔  اب یہ عظیم راوی اتنا غیر ذمہ دار ہو اور بغیر سچے سمجھے اتنی بڑی بات اس نے نقل کی ہے تو آگے

 ان شاءاللہ باقی باتیں رات کو ہوگی  لیکن آپ مجھے اتنا ضرور بتانا کہ جس بندے نے ان باتوں کو اس کا اندراج کہا ہے اس نے کیا سند پیش  کی ہے وہ مکمل طور پر پیش کریں کیونکہ کل والی پوسٹ زیادہ واضح نہیں ہے ۔

سنی مناظر:  اگر آپ نے نہیں کہا کہ فدک نہ دیکر خلفاء نے ظلم کیا!! تو کیا آپ نے  سیدنا علیؓ کا جو مؤقف  بیان کیا ہے اس سے بھی متفق نہیں ہیں


شیعہ مناظر کے اپنی باتوں میں تضاد بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ اسے مختلف افراد جوابات  لکھ کر  پرسنل میں  بھیج رہے ہیں! اس لئے اسے پتہ ہی نہ تھا  کہ وہ اپنے جوابات میں کیا کیا باتیں  لکھ رہا ہے!


صحیحین میں میراث نبویﷺ اور انبیائے کرام کی میراث کی نفی بھی انہی احادیث میں موجود نہیں ہے؟

پہلے سیدہ فاطمہؓ کا مطالبہ فدک ، فرمانِ نبویﷺ اور ناراضگی کی اصل حقیقت پر وضاحت طلب نکات کو کلیئر کریں۔ آپ کے پاس کل تک کا ٹائم ہے، تین دن ہر ایک نکتے پر گفتگو ہوگی۔  پرسوں ہم آپ کی تحریر کے اگلے مرحلے پر گفتگو کریں گے۔

 اس موقعہ پر درحقیقت یہ بات کلیئر ہوگئی کہ اہل تشیع کے پاس کچھ نہیں ہے! صرف ایک روایت میں موجود ایک راوی کے گمان پر شیعہ  کا دین ایمان کھڑا ہے۔ راوی کے جس گمان کو  ہم خود تسلیم نہیں کرتے ، اس پر شیعہ  اپنا ایمان رکھے بیٹھے ہیں! الحمدلللہ اس واقعے کے متعلق  اور دوسری کئی صحیح روایات سے اس گمان کی نفی ثابت ہے۔ اہل علم لکیر کے فقیر نہیں ہوتے۔  اگلے مرحلے پر جانے سے ابھی ٹھر جائیں۔  پہلے مرحلے کے متعلق وضاحتوں کے جواب کون دے گا؟  ہم یہاں حقائق کو واضح کرنے کے لئے گفتگو کر رہے ہیں۔ اب تک میری کسی بات کا آپ نے جواب نہیں دیا۔ کیا ہر کسی سے اسی طرح گفتگو کرتے ہیں؟

آپ مدعی ہو۔ آپ پر اپنے مدعا کا دفاع لازم ہے۔ میں آپ کو اس کے بغیر آگے بڑھنے نہیں دوں گا۔

یا پھر تسلیم کریں کہ  شیعہ کہتے کچھ ہیں اور دکھاتے کچھ ہیں، جبکہ حقائق کچھ اور ہوتے ہیں۔

 امام زہری معصوم نہیں تھا۔ قرآن میں تو انبیائے کرام کے اندازے بھی غلط ہونا بیان ہوئے ہیں!

راوی تو پھر بھی غیر معصوم ہیں۔

 قالَ يَا ابْنَ أُمَّ لَا تَأْخُذْ بِلِحْيَتِي وَلَا بِرَأْسِي ۖ إِنِّي خَشِيتُ أَنْ تَقُولَ فَرَّقْتَ بَيْنَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِي  ﴿94 سورت طهٰ﴾

 کہنے لگے کہ بھائی میری داڑھی اور سر (کے بالوں) کو نہ پکڑیئے۔ میں تو اس سے ڈرا کہ آپ یہ نہ کہیں کہ تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میری بات کو ملحوظ نہ رکھا

  قرآن پاک میں حضرت موسی علیہ السلام کا واقعہ بیان ہوا ہے جس میں انہوں نے غصے میں حضرت ہارون علیہ السلام کے سر اور داڑھی کو پکڑ کر جھنجھوڑا تھا۔

شیعہ سے سوال:   آپ اس واقعے کو پڑھ کر حضرت موسی علیہ السلام کی حمایت کریں گے یا حضرت ہارون علیہ السلام کی حمایت کریں گے؟؟

آپ کے خیال میں دونوں میں سے کون نعوذبااللہ غلطی پر تھا؟؟ رات کو یا کل آپ کو اپنی تحریر کے پہلے مرحلے کا  الف علمی انداز سے درست ثابت کرنا ہے۔ میرے وضاحت طلب نکات کے جوابات کل تک دے سکتے ہیں۔ اس کے بعد پرسوں ہم پہلے مرحلے کے ب کو زیر بحث لائیں گے۔ ان شاء اللہ۔

 میری باتوں کے جوابات دئے بغیر گفتگو آگے نہیں بڑھے گی۔ کل تک مزید تحقیق کریں۔ علمی رد لائیں تاکہ گفتگو منطقی انجام تک پہنچے۔  اگر آپ نے جوابات نہ دئے تو مزید کسی نکتے پر گفتگو کرنا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہوگا۔ اللہ حافظ

 شیعہ مناظر جی ضرور۔جواب تو دینا ہے۔گفتگو جواب دینے کے لیے ہی تو ہورہی ہے۔ رات 10 بجے۔ان شاءاللہ


شیعہ مناظر کی طرف سے سنی مناظر کے اعتراضات/اشکالات/سوالات کے جوبات دینے پر آمادگی!

لیکن کیا واقعی شیعہ مناظر نے دلشاد نے جوابات دئے؟

حقیقت جاننے کے لئے  آگے پڑھتے رہیں۔


 سنی مناظر: السلام وعلیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔میں حاضر ہوں۔ گفتگو شروع کر سکتے ہیں۔

 شیعہ مناظر: سلام علیکم ۔ 15 منٹ انتظار کرنا۔معذرت۔ممتاز صاحب کچھ لکھنا چاہے تو لکھ دینا۔ ویسے باری تو میری ہے۔

 سنی مناظر: آپ نے بار بار یہ کہا ہے کہ سیدہ فاطمہؓ کی ناراضگی آپ کی صحیحین میں صحیح سند کے ساتھ موجود ہے کہ نہیں؟ میں نے الفاظ بدل بدل کر اس نکتے کو کلیئر کیا ہے کہ بالکل صحیحین میں صحیح سند کے ساتھ یہ راوی کا گمان موجود ہے کہ سیدہ فاطمہؓ ناراض ہوئی تھی، لیکن اس گمان کا  رد مختلف قرائن سے  ہوتا ہے، یہ حقائق نہ صرف کتب اہل السنت بلکہ کتب شیعہ سے بھی موجود ہیں، اس لئے ہمارے نزدیک یہ بات درست نہیں ہے یعنی شیعوں کا  شدید  ناراضگی والا، وفات تک بات نہ کرنے والا، اور جنازے میں نہ بلانے والا ڈھونگ  خود شیعہ کتب سے بھی رد ہو جاتا ہے۔