سیدہ فاطمہ کا بطور میراث نبوی ﷺ فدک کا مطالبہ۔ حضرت ابوبکر صدیق کا فرمان نبوی ﷺ بتانا کہ انبیائے کرام کی میراث نہیں ہوتی۔ سیدہ فاطمہ کا خاموش ہوجانا۔ صرف ایک طرق جس میں راوی ابن شہاب الزہری موجود ہے، اس نے اصل روایت میں اضافہ کیا کہ سیدہ فاطمہ ناراض ہوئیں۔(قسط 7)
جعفر صادقسیدہ فاطمہ کا بطور میراث نبویﷺ فدک کا مطالبہ۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کا فرمانِ نبویﷺ بتانا کہ انبیائے کرام کی میراث نہیں ہوتی۔ سیدہ فاطمہ کا خاموش ہو جانا۔ صرف ایک طرق جس میں راوی ابنِ شہاب الزہری موجود ہے، اس نے اصل روایت میں اضافہ کیا کہ سیدہ فاطمہ ناراض ہوئیں۔(قسط 7)
شیعہ مناظر: ممتاز صاحب ۔جیساکہ میں نے پہلے عرض کیا ہے ۔ پہلے مرحلے میں یہ بات کلیئر کرنی ہے ۔پہلے مرحلے کے مطابق شیعہ کہتے ہیں جناب فاطمہ نے فدک اور اپنے دوسرے حقوق کا مطالبہ کیا جب خلیفہ نے دینے سے انکار کیا تو آپ ناراض ہوئیں اور بائیکاٹ کی حالت میں دنیا سے چلی گئیں۔ امیر المومنین ع کا بھی یہی نظریہ تھا کہ جناب فاطمہ کو ان کا حق نہیں ملا اور اپ خلیفہ اول اور دوم کے استدلال کو رد کرتے انہیں جھٹلاتے تھے۔کیا یہ باتیں صحیح سند اہل سنت کی کتابوں میں ہیں یا نہیں؟ یہ میرا بنیادی سوال ہے ۔
سنی مناظر: میں دیکھ چکا ہوں، صبر کریں۔ میرا ٹرن ہے۔ جواب دیا تھا یہ باتیں دوسرے مرحلے کی بحث ہے۔
دوران گفتگو آپ نے کہا کہ سیدہ واضح طور پر ناراض ہوئیں آپ کو ایک اور طرح سے بھی موقعہ دیا گیا کہ سیدہ فاطمہ کی ناراضگی ثابت کریں، لیکن اس نکتہ پر بھی آپ کوئی علمی جواب نہ دے سکے۔
اگرچہ آپ کو کل دو ٹوک الفاظ میں حقیقت دکھائی گئی تھی پھر بھی آپ شکوہ کر رہے ہیں کہ آپ کو جواب نہیں دیا گیا۔ آج دوبارہ آپ کے ایک ایک جملے کا الگ الگ تفصیلی پوسٹ مارٹم کر رہا ہوں تاکہ یہ ابہام نہ رہے کہ آپ کو دو ٹوک جواب نہیں دیا جا رہا۔
شیعہ کہتے ہیں:1- جناب فاطمہ نے فدک اور اپنے دوسرے حقوق کا مطالبہ کیا۔
جواب: آپ نے صحیحین کی احادیث سے صرف آدھی باتیں کیوں لکھی ہیں؟ پہلے عوام تک پوری حقیقت پہنچائیں کہ صحیحین میں اس واقعے کے متعلق کیا کیا بیان کیا گیا ہے۔ مزید آسانی کے لئے سادہ الفاظ میں فدک کے متعلق صحیحین میں موجود واقعہ کے اہم نکات مختصر کر کے لکھ رہا ہوں۔
¹ـ سیدہ فاطمہ کا بطور میراث نبویﷺ فدک کا مطالبہ۔
²ـ حضرت ابوبکر صدیقؓ کا فرمان نبویﷺ بتانا کہ انبیائے کرام کی میراث نہیں ہوتی۔
³ـ سیدہ فاطمہؓ کا خاموش ہو جانا۔
⁴ـ صرف ایک طرق جس میں راوی ابن شہاب الزہری موجود ہے، اس نے اصل روایت میں اضافہ کیا کہ سیدہ فاطمہؓ ناراض ہوئیں۔
شیعہ کہتے ہیں: ²ـ جب خلیفہ نے دینے سے انکار کیا تو آپ ناراض ہوئیں۔
جواب: ہرگز نہیں۔ یہ شان اہلِ بیت کے خلاف ہے۔ جمہور علماء کے نزدیک سیدہ فاطمہؓ ناراض نہیں ہوئیں بلکہ یہ صرف ایک راوی کا ذاتی گمان ہے، کیونکہ جب اس معاملے میں سیدہ فاطمہؓ نے مزید کوئی بات نہیں کی تو راوی ابنِ شہاب نے سمجھا کہ وہ ناراض ہوگئیں۔
شیعہ کہتے ہیں ³ـ بائیکاٹ کی حالت میں دنیا سے چلی گئیں
جواب: ہرگز نہیں۔ اس کی نفی میں کئی حقائق ہیں۔مثال کے طور پر سُنی و شیعہ روایات کے مطابق سیدہ فاطمہؓ نے دوران علالت حضرت علیؓ کی موجودگی میں حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ سے ملاقات کی۔ حضرت اسماء بنت عمیسؓ (زوجہ ابوبکر صدیقؓ) نے آخری ایام میں سیدہ فاطمہؓ کی دن رات خدمت کی، سُنی و شیعہ روایات کے مطابق غسل وغیرہ میں بھی مدد فرمائی۔آخر شیعہ یہ کیوں نہیں کہتے کہ صحیحین کے مطابق سیدہ فاطمہؓ نے بعد از نبی میراث النبیﷺ میں مال فئے فدک کا مطالبہ کیا تھا اور حضرت ابوبکر صدیق نے نبی کریم کے اس فیصلے کو سنایا جو براہ راست خود نبی فرما گئے تھے کہ انبیاء کی میراث نہیں ہوتی۔ فدک کا فیصلہ تو نبیﷺ خود کر کے گئے تھے، حضرت ابوبکر صدیقؓ تو صرف سنانے والے تھے۔ آپ کو اگر اہلِ سنت سے اپنی تحریر کا واقعی جواب چاہئے تو پہلے صحیحین میں بیان کئے گئے تمام حقائق لکھیں۔ آدھی بات کہنا منافقت کی علامت ہے، مؤمن کی شان یہ نہیں ہوتی کہ حقیقت چھپا کر گفتگو کرے۔
اب تک کی گفتگو میں مندرجہ ذیل نکات کی وضاحت آپ سے مطلوب ہے۔ہمارے درمیان طے شدہ شرائط میں شرط نمبر 5 کو پڑھ لیجئے گا ، اس کے مطابق ہم دونوں ایک دوسرے کو اپنی باتوں کے جوابات دینے کے پابند ہیں۔
سیدہ فاطمہؓ کے مطالبہ فدک کا تعین کریں کیونکہ آپ کا مدعا براہ راست صحیحین کی روشنی میں ہے۔
¹ـ کیا اہلِ سنت کے ہاں سیدہ کی طرف سے مطالبہ فدک بطور میراث نبوی کو اہل تشیع بھی تسلیم کرتے ہیں؟
²ـ اگر اہلِ تشیع تسلیم نہیں بھی کرتے تو صحیحین میں موجود اتنی واضح حقیقت عوام سے چھپاتے کیوں ہیں؟ آپ نے اپنی تحریر میں اس واقعے کو بیان کرنے میں خیانت کیوں کی ہے؟ سیدہ کا مطالبہ بیان کرنے کے بعد خلفاء کا عذر/مجبوری بیان کیوں نہیں کی گئی؟ کیا یہ براہِ راست شانِ نبوتﷺ میں گستاخی نہیں ہے؟
³ـ کسی بھی صحیح روایت کے متن سے سیدہ فاطمہ کی ناراضگی کو ثابت کریں۔
(الف) سیدہ فاطمہ کے وہ الفاظ جن سے ناراضگی ثابت ہو رہی ہو۔
(ب) سیدہ فاطمہ کے چہرے یا جسمانی تاثرات سے ناراضگی کا بیان ہونا۔
⁴ـ راوی ابنِ شہاب کے علاوہ کسی بھی طرق سے سیدہ فاطمہ کی ناراضگی کا بیان ہونا کسی اور راوی کے گمان سے ثابت کریں۔
⁵ـ دلیل دیں کہ اہلِ تشیع کے ہاں صحیح روایت میں راوی کا گمان من و عن قبول کیا جاتا ہے۔
شیعہ مناظر: جی شکریہ ۔مجھ پر خیانت کے الزام کا جواب نہیں دوں گا کیونکہ اس سے بحث اپنے علمی محور سے نکل جائے گی ۔ اللہ ہمیں خیانت جیسی برائیوں سے دور رکھے ۔ جناب قریشی صاحب آپ نے یا میرے مدعا کو سمجھا نہیں ہے یا میں نے ایک سادہ سوال کیا تھا کہ یہ ساری باتیں صحیحین میں ہیں یا نہیں ؟ میرے خیال سے آپ ایک حقیقت کا انکار تو نہ کریں ۔ کل میں نے سب اسناد پیش کی ہیں اور سب کے سامنے بتایا ہے کہ صحیح بخاری کی روایت میں یہ بات موجود ہیں کہ جناب سیدہ فاطمہ ناراض ہوئی اور بائیکاٹ کی حالت میں دنیا سے چلی گئیں اور صحیحین میں یہ بات موجود ہیں کہ جناب امیر المؤمنین بھی اس معاملے میں جناب فاطمہ کو حق بجانب سمجھتے تھے اور خلفاء کی طرف سے ان کے حق نہ دینے کو ظلم اور سمجھتے تھے ۔میں پھر وضاحت کے طور پر آپ سے کہہ رہا ہوں ۔ ابھی میں آپ سے یہ بحث نہیں کر رہا ہوں کہ سیدہ کا ناراض ہونا صحیح ہے یا نہیں ۔ آپ سے پوچھ رہا ہوں کہ ناراض ہونے کی باتیں اور مولا علی کا مؤقف صحیحین کی صحیح سند حدیث میں موجود ہے یا نہیں ۔ آپ اس سوال کا جواب دینے کے بجائے یہ کہہ رہے ہیں کہ اصل ناراض ہونے کو ثابت کرو ۔ جناب وہ ابھی دیر ہے بعد کے مرحلے کے لئے رکھنا ۔
اس مرحلے پر شیعہ مناظر کو سنی مناظر کے اشکال کا رد کرنا چاہئے تھا کیونکہ سنی مناظر واضح الفاظ میں سیدہ فاطمہؓ کی ناراضگی کو ایک راوی کا ذاتی خیال کہہ کر مسترد کر رہا تھا۔ جب سیدہ فاطمہؓ کی شدید ناراضگی اہلسنت قبول ہی نہیں کرتے بلکہ ان کی شان کے خلاف سمجھتے ہیں تو شیعہ مناظر کو یہ نکتہ ثابت کرنا تھا! لیکن وہ اس نکتہ پر بات کرنے پر تیار ہی نہیں تھے، کیونکہ بذات خود وہ مناظرہ نہیں کر رہے تھے بلکہ ان کے پیچھے شیعہ مناظرین کی پوری فوج موجود تھی!سنی مناظر نے ناقابل تردید ثبوت دکھائے تو مجبوراً خود شیعہ مناظر دلشاد نے بھی آخر میں اقرار کر لیا تھا۔
آپ کو اصولاً یوں کہنا چاہئے ہماری کتابوں میں یہ باتیں تو ہیں لیکن یہ باتیں غلط ہیں اور غلطی سے یہ باتیں ہماری کتابوں میں نقل ہوئی ہیں حقیقت کچھ اور ہے ۔لیکن کبھی یہ نہ کہیں کہ یہ باتیں شیعوں کی بنائی ہوئی داستانیں ہیں کیونکہ ان باتوں کا خاص کر صحیحین میں ہونا قابل انکار ہی نہیں۔
شیعہ اور اہل سنت کے درمیان گفتگو کا بنیادی محور یہی مرحلہ ہے ، کہ ان حضرات نے فدک کو اپنا حق سمجھ کر مطالبہ کیا اور یہ حضرات خلفاء کو اپنے اس حق سے محروم کرنے والے سمجھتے تھے ۔ یہ سب باتیں خاص کر اہلِ سنت کی سب سے معتبر کتب صحیحین میں موجود ہیں ۔ اب جب آپ یہ کہہ دیں کہ یہ باتیں تو ہماری کتابوں میں ہیں لیکن راوی کی غلطی ہے تو پھر اگلے مرحلے میں آپ کو یہ جواب دوں گا کہ یہ باتیں بلکل صحیح ہیں لیکن یہ ابھی نہیں ۔ صبر کریں۔
سنی مناظر: آپ نے فدک کے واقعے پر تحریر لکھ کر تاثر دیا کہ سیدہ کو فدک نہ دیکر ظلم کیا گیا! جبکہ وہ اہم نکتہ جس کی بنیاد پر ہی فیصلہ ہوا، اسے عوام سے چھپایا۔ کیا یہ خیانت نہیں ہے؟ آپ کو جواب نہیں دینا آتا تو پھر مختلف واٹس اَپ گروپس میں گفتگو کے لئے چیلینج کیوں کرتے پھر رہے ہیں؟ میں آپ کے مدعا اور مقصد کو اچھی طرح سمجھ کر ہی گفتگو کر رہا ہوں۔ اور آپ کے سادہ سوال میں جو خیانت چھپی ہے اسے عوام تک پہنچا رہا ہوں۔
آپ نے صحیحین کی نامکمل باتیں لکھ کر عوام کو گمراہ کیا ہے اور یہ کوئی دین کی خدمت نہیں ہے۔ آپ نے کل اسناد پیش کیں، سیدہ کی ناراضگی کے وہ الفاظ دکھائے جو صرف ایک راوی سے مروی ہیں، کیا آپ کا یہی ایمان ہے کہ تحقیق کئے بغیر صرف اس گمان پر یقین کر لیا جائے؟ آپ نے یہ کیوں نہیں دکھایا کہ انہی صحیحین میں یہ بھی موجود ہے کہ فدک کا فیصلہ نبی کریمﷺ خود کر چکے تھے۔
ابھی آپ بحث نہیں کر رہے تو کیا فضول ٹائم پاس کرنا چاہتے ہیں۔ میرے وضاحت طلب نکات پر آپ جواب دینے کے پابند ہیں۔ گروپ کے شیعہ ممبرز بھی آپ سے امید رکھے ہوئے ہوں گے۔ میں عرض کر چکا ہوں کہ ناراض ہونے کا ذکر اہل سنت کے ہاں راوی کے ذاتی گمان کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ہماری احادیث کو ہم جس طرح سمجھتے ہیں وہی آپ کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ ہماری کتب کی باتیں ہم ہی بہتر سمجھتے ہیں۔ آپ اگر غلط سمجھ رہے ہیں تو یہ آپ کی غلطی ہے۔ میں تو آپ کو پورا پورا موقعہ دے رہا ہوں کہ آپ اپنی بات کو ثابت کر کے دکھائیں۔ شیعوں نے ہماری احادیث سے غلط مطالب نکالے ہیں۔ یہی حقیقت آج ثابت ہو رہی ہے۔ اگر آپ واقعی منصف مزاج ہیں تو میرے وضاحت طلب نکات پر جواب دیں تاکہ سب کو یقین ہوسکے کہ آپ کا مقصد واقعی حق طلبی ہے۔ آپ کی بات اس وقت تسلیم کی جائے گی جب آپ ٹائم پاس کرنے کے بجائے میرے وضاحت طلب نکات کے علمی جوابات دیں گے۔ اب تک کی گفتگو میں مندرجہ ذیل نکات کی وضاحت آپ سے مطلوب ہے۔ہمارے درمیان طے شدہ شرائط میں شرط نمبر 5 کو پڑھ لیجئے گا اس کے مطابق ہم دونوں ایک دوسرے کو اپنی باتوں کے جوابات دینے کے پابند ہیں۔
سیدہ فاطمہ کے مطالبہ فدک کا تعین کریں کیونکہ آپ کا مدعا براہ راست صحیحین کی روشنی میں ہے۔
¹ـ کیا اہلِ سنت کے ہاں سیدہ کی طرف سے مطالبہ فدک بطور میراث نبوی کو اہل تشیع بھی تسلیم کرتے ہیں؟
²ـ اگر اہلِ تشیع تسلیم نہیں بھی کرتے تو صحیحین میں موجود اتنی واضح حقیقت عوام سے چھپاتے کیوں ہیں؟ آپ نے اپنی تحریر میں اس واقعے کو بیان کرنے میں خیانت کیوں کی ہے؟ سیدہ کا مطالبہ بیان کرنے کے بعد خلفاء کا عذر/مجبوری بیان کیوں نہیں کی گئی؟ کیا یہ براہ راست شان نبوت میں گستاخی نہیں ہے؟
³ـ کسی بھی صحیح روایت کے متن سے سیدہ فاطمہ کی ناراضگی کو ثابت کریں۔
(الف) سیدہ فاطمہ کے وہ الفاظ جن سے ناراضگی ثابت ہو رہی ہو۔
(ب) سیدہ فاطمہ کے چہرے یا جسمانی تاثرات سے ناراضگی کا بیان ہونا۔
⁴ـ راوی ابنِ شہاب کے علاوہ کسی بھی طرق سے سیدہ فاطمہ کی ناراضگی کا بیان ہونا کسی اور راوی کے گمان سے ثابت کریں۔
⁵ـ دلیل دیں کہ اہلِ تشیع کے ہاں صحیح روایت میں راوی کا گمان من و عن قبول کیا جاتا ہے۔