حق زہرا سلام اللہ علیہا کے بارے میں اہل تشیع کا مدعا اور…

حق زہرا سلام اللہ علیہا کے بارے میں اہل تشیع کا مدعا اور چیلنج(قسط 4)

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 2

حرف آخر :  اگر ہم سے بحث کے دوسرے مرحلے میں یہ بحث کرنا چاہئے کہ اس مطالبے میں کون حق بجانب تھا کون حق بجانب نہیں تھا ؟ تو ہم اس مرحلے میں اپنے مخالفین سے بحث کرنے کے لئے تیار ہیں اور ہم واضح انداز میں یہ کہتے ہیں کہ اس معاملے میں جناب فاطمہ اور امیر المؤمنین علیہ السلام ، حق بجانب تھے اور ہم ان کے ساتھ ہم عقیدہ ہیں ۔  اب  اسی جرم میں ہمیں گمراہ اور اصحاب کی شان میں گستاخی کرنے والے کہیں  تو ہمیں یہ منظور ہے ۔ہم  فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ اس معاملے میں حق مولا علی اور جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کے ساتھ ہے اور نبی پاکﷺ  کے سب سے ممتاز شاگرد اور سب سے زیادہ دین شناس اور دین کے پابند یہ ہستیاں حق کا ہی مطالبہ کررہی تھیں اور نعوذ باللہ جہالت اور لاعلمی وغیرہ کی وجہ سے کسی اور کے حق کو اپنا حق سمجھ کر ان چیزوں کا مطالبہ نہیں کر رہی تھیں۔

و السلام علی من اتبع الھدی۔

محمد دلشاد۔

میرے مدعا کی روشنی میں ہماری بحث تین مرحلوں پر مشتمل ہوگی۔

 پہلا مرحلہ: جو شیعہ کہتے ہیں وہ صحیح سند آپ کی معتبر ترین کتابوں میں  (خاص کر صحیحین میں) موجود ہیں۔

دوسرا مرحلہ:   جناب زہرا نے واقعی معنوں میں  مطالبہ کیا اور آپ  ناراض ہوگئیں اور مولی علی بھی ان کے ساتھ ہم عقیدہ تھا اور جناب فاطمہ اسی نظریے کے ساتھ دنیا سے گئیں ۔(یہ باتیں خاص کر آپ کی صحیحین میں ہیں)

تیسرے مرحلے میں یہ ثابت کرنا ہے کہ حق جناب فاطمہ کے ساتھ تھا اور جناب خلیفہ نے آپ کا حق آپ کو نہیں دیا۔

ان تین مراحل کے مطابق مرحلہ وار گفتگو ہوگی۔ جب میں بات ختم کروں تو  ایک مخصوص نشان  لگا دوں گا اس کے بعد آپ شروع کریں  اور پھر یہی مخصوص  نشان ۔

 پہلا مرحلہ: شیعہ کہتے ہیں جناب فاطمہ  نے فدک اور اپنے دوسرے حقوق کا مطالبہ کیا جب خلیفہ نے دینے سے انکار کیا تو اپ ناراض ہوئی اور بائیکاٹ کی حالت میں دنیا سے  چلی گئیں۔ امیر المؤمنین کا بھی یہی نظریہ تھا کہ جناب فاطمہ کو ان کا حق نہیں ملا اور اپ خلیفۂ اول اور دوم کے استدلال کو رد کرتے انہیں جھٹلاتے تھے۔کیا یہ باتیں صحیح سند اہل سنت کی کتابوں میں ہیں یا نہیں۔

سنی مناظر: پہلے آپ میرے بھیجے گئے شرائط و اصول کو منظور کردیں۔ اگر ترمیم و اضافہ مقصود ہو تو ابھی سے بتادیں بعد میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں ہوگی۔

شیعہ مناظر: جی پہلے والے شق  کے آخری حصے پر مجھے اعتراض ہے کیونکہ میرے پاس لائیبریری تو نہیں مکتب الشاملہ اور جوامع الکلم  اور معتبر سائیٹ سے میں استفادہ کرتا ہوں تو کم از کم احادیث اور سند کی عربی میں انہیں چیزوں سے لیتا ہوں لہٰذا وہاں سے لے کر کاپی تو کرنی ہے البتہ مکمل ایڈرس کے ساتھ سند پیش کرنے کا میں پابند ضرور ہوں۔باقی شقیں ٹھیک ہیں۔

سنی مناظر کاپی پیسٹ دلائل اور روایات کے متعلق نہیں کہا گیا بلکہ ذاتی تحریروں کے متعلق کہا گیا ہے۔

بحرحال میں اصل مدعا پر جواب دیتا ہوں۔

شیعہ مناظر جی ٹھیک ہے۔ 

سنی مناظر  جو باتیں صحیحین میں موجود ہیں وہ کچھ اس طرح ہیں۔

سیدہ فاطمہ نے بعد از نبی مال فئے کے اموال یہ سمجھ کر طلب فرمائے کہ جس طرح عام مسلمانوں کی میراث ہوتی ہے اسی طرح نبی کی میراث ہوتی ہے لیکن جب حضرت ابوبکر صدیقؓ نے نبیﷺ کا فرمان بتایا کہ اس مسئلہ کا فیصلہ تو خود نبی کریمﷺ پہلے سے کر چکے ہیں کہ انبیائے کرام کی میراث نہیں ہوتی تو سیدہ فاطمہ  خاموش ہوگئیں اور پھر اس مسئلے کے متعلق دوبارہ کوئی بات نہیں کی۔  ناراضگی کے الفاظ صحیحین میں ایک راوی کا اپنا ظن ہے جو دوسرے حقائق سے غلط ثابت ہوتے ہیں۔

  سیدنا علیؓ اور باقی آئمہ اہلِ بیت کا نظریہ بھی عین صدیقی فیصلے کے مطابق ہی تھا، ورنہ سیدنا علی اپنے دور خلافت میں پہلا کام ہی یہ کرتے کہ فدک اصل حقداروں یعنی حسنین کریمین تک پہنچا دیتے۔

جو باتیں صحیحن میں موجود ہیں، ان کی حقیقت یہی ہے۔


صفحہ 2 از 2