شیعہ کہتے ہیں جناب فاطمہ ع نے فدک اور اپنے دوسرے حقوق کا…

شیعہ کہتے ہیں جناب فاطمہ ع نے فدک اور اپنے دوسرے حقوق کا مطالبہ کیا جب خلیفہ نے دینے سے انکار کیا تو آپ ناراض ہوئیں اور بائیکاٹ کی حالت میں دنیا سے  چلی گئیں۔ امیر المومنین ع  کا بھی یہی نظریہ تھا کہ جناب فاطمہ کو ان کا حق نہیں ملا اور اپ خلیفہ اول اور دوم کے استدلال کو رد کرتے انہیں جھٹلاتے تھے۔(قسط 3)

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 3

شیعہ مناظر جناب آپ مجھ سے بات کو آگے بڑھانا چاہتے ہو تو میری طرف سے بات  کلیئر ہے۔میں نے کب آپ سے کہا جو شیعہ کہتے ہیں وہی حق ہے اسی کو ہی قبول کرو۔آپ کم از کم اس بات کے تو پابند رہیں کہ میں مدعی ہوں اور آپ مدعی علیہ اور مدعا پیش کرنا میرا کام ہے اور اس مدعا کے مطابق بات کرنا جواب اور اس کو رد کرنا آپ کا کام۔ اگر آپ صرف اسی کے ہی پابند رہیں تو باقاعدہ گفتگو شروع کر دینا ۔میں آپ کو بتاتا جاؤں گا میرا مدعا کیا ہے اور آپ ایک ایک کر کے میرے مدعا کو باطل ثابت کرتے آگے نکلیں  یا میں اپنے مدعا کی حقانیت پر دلائل پیش کرتے آگے نکلوں گا۔

سنی مناظر آپ خود بار بار یہ لکھ رہے ہیں کہ مجھے آپ کے مدعا پر اعتراض کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ آپ کو مخالفت منظور ہی نہیں اور منصف مزاجی سے حق طلبی کی خواہش بھی رکھتے ہیں۔ مطلب جو بغیر اعتراض کئے آپ کی ہر بات تسلیم کرے گا آپ کے نزدیک وہی انصاف پسند اور حق پر ہوگا۔ میں اپنی بات پر قائم ہوں۔ کل رات دس بجے سے گفتگو شروع کریں گے۔ گفتگو آپ کی ترتیب کے مطابق ہی ہوگی۔

پہلے مرحلے کا الف اور اس میں موجود دونوں نکات ہی زیر بحث لائے جائیں گے۔ ان شاء اللہ۔

اہل علم کی شان یہ نہیں کہ ڈھکی چھپی اور الفاظوں کی بھول بھلیوں میں گفتگو کریں۔ ہر نکتہ دو ٹوک اور ہر رخ سے زیر بحث لایا جائے گا تاکہ حق سورج کی طرح پوری دنیا کو نظر آئے۔

شیعہ مناظر جی ٹھیک  کل انشاء  اللہ۔میں مدعی ہوں۔آپ مدعا علیہ ۔ میں مدعا پیش کروں اور آپ رد،لیکن پھر بھی گزارش ہے الفاظ کے چناؤ  میں ہم دونوں احتیاط سے کام لیں۔اہل علم کی طرح ایک دوسرے سے علمی بحث کریں ۔ایسے الفاظ  کے استعمال سے پرہیز کریں جو ایک دوسرے کی شخصیت کشی اور ذات پر تنقید شمار ہوتے ہوں،اخلاق کے دائرے میں رہ کر گفتگو کریں گے ان شاءاللہ۔میں ہر ممکن کوشش کروں گا نازیبا الفاظ کے استعمال سے اجتناب کروں۔

بحث اور گفتگو کے قرآنی اصول

1 دلیل کے ساتھ بات کرنا

  فَقُلْنا هاتُوا بُرْهانَكُمْ فَعَلِمُوا أَنَّ الْحَقَّ لِلَّهِ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ ما كانُوا يَفْتَرُونَ (سورہ قصص:75) 

اور منکرین سے کہیں گے کہ تم بھی اپنی دلیل لے آؤ تب انہیں معلوم ہوگا کہ حق اللہ ہی کے لئے ہے اور پھر وہ جو افترا پردازیاں کیا کرتے تھے وہ سب گم ہو جائیں گی۔

قُلْ هاتُوا بُرْهانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صادِقينَ(سورہ بقر: 111/سورہ النمل:64)

 اگر تم سچے ہو تو دلیل پیش کرو۔

2 تہذیب اور اچھے  طریقے سے بات کرنا 

 ادْعُ إِلى‏ سَبيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جادِلْهُمْ بِالَّتي‏ هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبيلِهِ وَ هُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدينَ ۔النحل : 125

  لوگوں کو دانش اور نیک نصیحت سے اپنے پروردگار کے رستے کی طرف بلاؤ۔ اور بہت ہی اچھے طریقہ سے ان سے مناظرہ کرو۔ جو اس کے رستے سے بھٹک گیا تمہارا پروردگار اسے بھی خوب جانتا ہے اور جو رستے پر چلنے والے ہیں ان سے بھی خوب واقف ہے۔

3 انصاف سے پیش آنا 

يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا ۔۔۔ لا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلى‏ أَلاَّ تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوى المائدة : 8

اور کسی قوم  کی دشمنی تم کو اس بات پر آمادہ نہ کرے  کہ انصاف چھوڑ دو۔ انصاف کیا کرو کہ یہی پرہیزگاری کی بات ہے۔

4 دوسرے کی باتوں پر بھی غور کرنا 

 فَبَشِّرْ عِبادِ الَّذينَ يَسْتَمِعُونَ‏ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ أُولئِكَ الَّذينَ هَداهُمُ اللَّهُ وَ أُولئِكَ هُمْ أُولُوا الْأَلْبابِ
(سورہ زمر ایت 17۔18}

اے رسول ۔میرے ان بندوں کو بشارت دیں جو باتوں کو سنتے ہیں اور جو بات اچھی ہوتی ہے اس کا اتباع کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جنہیں خدا نے ہدایت دی ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو صاحبانِ عقل ہیں۔

5  کٹ ہجتی سے دوری

بَلْ قالُوا إِنَّا وَجَدْنا آباءَنا عَلى‏ أُمَّةٍ وَ إِنَّا عَلى‏ آثارِهِمْ مُهْتَدُونَ۔ سورہ زخرف

 کفار اور مشرکین  یہ کہتے ہیں: ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک رسم پر پایا اور ہم انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔

   ان اصولوں کی پاسداری کریں گے۔ ان شاءاللہ

گفتگو کی باقائدہ شروعات 26  مئی 2021

شیعہ مناظر سلام علیکم۔ممتاز قریشی صاحب۔اگر آج آپ کے لئے کوئی ضروری کام ہے تو کل کسی ٹائم مناظرہ رکھیں۔10 کا ٹائم بتایا ہوا تھا ۔ ہم 11 تک انتظار کرتے ہیں۔آپ اگر تشریف لائیں تو 11 سے 12 تک گفتگو چلے گی۔باقی کل ان شاءاللہ

 سنی مناظر:  گفتگو کے بنیادی شرائط و اصول

¹-  گفتگو تحریر اور وائس دونوں طرح کی جا سکتی ہے، دوٹوک اور ٹو دی پوائنٹ ہوگی، جوابات حتی الامکان مختصر دئے جائیں گے، کاپی پیسٹ ممنوع ہوگا۔

²-  اختلاف کی صورت میں دونوں فریقین کی اصل “قرآن پاک” ہے۔

³-  جو بات قرآن پاک سے واضح نہ ہو تو فریقین کی اپنی معتبر کتب کی صحیح احادیث سے دلائل دئیے جائیں گے۔

⁴- تاریخ اسلام کی معتبر کتب کی روایات سند کے مطابق قبول کی جائیں گی۔

⁵- دونوں فریق اپنے اپنے الفاظ و نکات کی وضاحت (اگر مطلوب ہوں) دینے کے پابند ہوں گے۔

⁶-  دونوں فریقین کو یہ حق حاصل ہے کہ مکمل گفتگو پی ڈی ایف یا کسی بھی فارمیٹ میں محفوظ کرکے کسی بھی فورم میں عوام الناس کی رہنمائی کی غرض سے پیش کرسکتے ہیں۔

⁷-  دوران گفتگو مقدسات کی توہین ، ذاتیات پر حملے اور کسی بھی قسم کی بداخلاقی ناقابل قبول ہوگی۔

⁸-  کسی بھی فریق کی طرف سے طے شدہ شرائط کی خلاف ورزی اس کی فاش شکست تسلیم کی جائے گی۔

صفحہ 2 از 3