شیعہ مناظر کی وہ تحریر جو مختلف  واٹس اَپ گروپس میں کچھ…

شیعہ مناظر کی وہ تحریر جو مختلف  واٹس اَپ گروپس میں کچھ عرصے سے  بار باربھیجی جاتی رہی اور اہل سنت کو  اس تحریر کی ترتیب کے مطابق مناظرے کا چیلینج دیاجاتا رہا!(قسط2)

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 3

شیعہ مناظر کا دجل: اپنی طرف سے نتیجہ نکال کریہ تاثر دے رہا ہے کہ صحیحین کی احادیث سے یہی مطالب ثابت ہیں!  اہلسنت کتب میں کونسی باتیں کس تناطر میں ہیں اور ان کا درست مفہوم کیا ہے اسے اہل سنت ہی بہتر جانتے ہیں! صحیحین کی کسی حدیث سے یہ ثابت نہیں کہ سیدہ خلفاء کو غاصب سمجھتی تھیں، یہ شیعہ کا جھوٹا پروپیگنڈہ ہے!


 
   

ایک چھوٹ  اب ممکن ہے اہلِ سنت کے علماء عوام سے یہ بات کریں اور انہیں یہ سمجھا دیں  کہ ہماری کتابوں میں یہ باتیں تو  ہیں لیکن یہ باتیں غلط ہیں اور غلطی سے یہ باتیں ہماری کتابوں میں نقل ہوئی ہیں ۔ حقیقت کچھ اور ہے  لیکن کبھی یہ نہ کہیں  کہ یہ باتیں شیعوں کی بنائی ہوئی داستانیں ہیں ۔ کیونکہ یہ واضح جھوٹ اور دھوکہ بازی ہے ۔  ان باتوں کا خاص کر صحیحین میں ہونا قابل انکار ہی نہیں۔


اصل حقیقت: شیعہ اہل سنت کتب کی صحیح روایات کے چند الفاظ دکھا کر عوام کو گمراہ کرتے ہیں اور مکمل روایت کبھی بھی زیربحث نہیں لاتے کیونکہ اس طرح ان کا مکر و فریب ظاہر ہوجاتا ہے۔شیعہ قیامت تک صحیحین سے سیدہ فاطمہ کی ناراضگی ثابت نہیں کرسکتے!

کیا سیدہ فاطمہؓ اور سیدنا علیؓ کا مؤقف وہی تھا جو آج شیعہ رافضیوں کا ہے؟


 
   

اب اگر بحث کی منطقی ترتیب کو چھوڑ کر فورا  َ فدک کی تاریخی حقیقت سے سوال کریں  تو یہ اصلی ترتیب اور اصل اور فرع میں خلط کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے اور حقیقت کو چھپانے کی کوشش کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے۔ اسی لئے ہم شیعہ مناظرین سے بھی گزارش کرتے ہیں کہ اس سلسلے میں ہوشیاری سے کام لیں اور دوسروں کی چالوں سے ہوشیار رہیں 

 حرف آخر  اگر ہم سے بحث کے دوسرے مرحلے میں کوئی  یہ بحث کرنا چاہے کہ اس مطالبے میں کون حق بجانب تھا کون حق بجانب نہیں تھا ؟ تو ہم اس مرحلے میں اپنے مخالفین سے بحث کرنے کے لئے تیار ہیں اور ہم واضح انداز میں یہ کہتے ہیں کہ اس معاملے میں جناب فاطمہ اور امیر المومنین علیہ السلام  حق بجانب تھے اور ہم ان کے ساتھ ہم عقیدہ ہیں ۔


اہلسنت کے نزدیک دونوں فریق حق بجانب تھے کیونکہ مسئلہ فدک حق و باطل کا مسئلہ نہیں ہے۔اس طرح کے اختلاف بلکہ اس سے شدید اختلاف بنص قرآن انبیائے کرم کے درمیان بھی ہوئے تھے۔

غور فرمائیں! شیعہ مناظر پہلے سے ذہن بنائے بیٹھا ہے کہ پہلا مرحلہ بحث کے قابل ہی نہیں  اور سنی مناظر صرف ہاں یا ناں میں جواب دے!یعنی الف اور ب حصے پر گفتگو ممنوع ہے!! صحیحین سے شیعہ جو مطالب نکالیں بس وہی مان لیا جائے! اختلاف کی گنجائش نہیں ہے!


 اب  اسی جرم میں ہمیں گمراہ اور اصحاب کی شان میں گستاخی کرنے والے کہیں  تو ہمیں یہ منظور ہے ۔

 
   

ہم  فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ اس معاملے میں حق مولا علی اور جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کے ساتھ ہے اور نبی پاک کے سب سے ممتاز شاگرد اور سب سے زیادہ دین شناس اور دین کی پابند یہ ہستیاں حق کا ہی مطالبہ کررہی تھیں اور نعوذ باللہ جہالت اور لاعلمی وغیرہ کی وجہ سے کسی اور کے حق کو اپنا حق سمجھ کر ان چیزوں کا مطالبہ نہیں کر رہی تھیں۔و السلام علی من اتبع الھدی۔محمد دلشاد


فدک کسی کا بھی حق نہیں تھا کیونکہ اگر واقعی فدک سیدہ فاطمہ کا حق ہوتا تو سیدنا علی نے اپنے ساڑھے چار سالہ دور میں باغ فدک کو اصل حقداروں یعنی حسنین کریمینؓ تک کیوں نہیں پہنچایا؟ کیا شیعہ سیدنا علیؓ کو مجبور خلیفہ سمجھتے ہیں!


آپ کو واضح انداز میں کہتا ہوں۔پہلے مجھے یہ ثابت کرنا ہے کہ جو شیعہ کہتے ہیں وہی باتیں صحیح سند آپ کی کتابوں میں ہیں۔ اب ان باتوں کی کوئی حقیقت ہے یا نہیں اور غلطی سے اپ کی کتابوں میں یہ باتیں نقل ہوئی ہے یا واقعی میں ایسا ہی ہے  تو یہ بعد کے مرحلے کی بحث ہے۔آپ پہلے ہی مرحلے میں یہ ثابت کرنے کی کوشش میں ہے کہ ان باتوں کی کوئی حقیقت نہیں۔


اہل سنت یہ ثابت کرتے ہیں صحیحین کی احادیث سے شیعہ جو مطالب نکالتے ، ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔


جبکہ میں کہہ رہا ہوں، پہلے مجھے یہ کلیئر کرنا ہے کہ یہ ساری باتیں صحیح سند آپ کی کتابوں میں ہیں اور یہ شیعوں کی باتیں نہیں ہیں بلکہ آپ کی کتابوں میں موجود صحیح سند باتیں ہیں لہٰذا ان باتوں کی حقیقت ہونے یا نہ ہونے کی بحث دوسرے مرحلے کی بحث ہے اور پھر حقیقت ہونے کی صورت میں خلیفہ کے فیصلے کا حق ہونے یا نہ ہونے کی بحث تیسرے مرحلے کی بحث ہے۔ممتاز صاحب سوچ کر جواب دینا۔اگر مندرجہ بالا مراحل کے مطابق  مجھ سے گفتگو کرنا چاہتے ہو تو بسم اللہ۔

میں بھی خاص کر مراحل اور بحث کی ترتیب کے معاملے میں نرم رویہ نہیں رکھ سکتا لہذا اس جہت سے معذرت خواہ ہوں اور اگر آپ میری ترتیب کے مطابق بات نہیں کرنا چاہتے تو اپ سے گلہ شکوہ بھی نہیں۔

 سنی مناظر شیعہ ہمارے لئے قابل حجت نہیں ہیں۔ دوران گفتگو یہی تو ثابت کرنا ہے کہ شیعہ جو جذباتی باتیں کہتے ہیں ان میں کوئی حقیقت نہیں اور اصل حقائق کچھ اور ہیں۔ میں نے آپ کی تحریر کو بغور پڑھا ہے۔ آپ کی مرضی کے مطابق ہی گفتگو کے لئے تیار ہوں۔ اب شیعہ جو کہتے ہیں وہ درست ہے کہ نہیں۔ اس پر ہی تفصیل سے گفتگو کرنے کو تیار ہوں۔ میں فی الوقت آپ کے بیان کئے گئے پہلے حصے کے الف پر ہی گفتگو کروں گا۔ اس میں دو اہم نکات ہیں۔ صحیح احادیث کی روشنی میں ہی گفتگو کر کے معلوم کریں گے کہ شیعہ جو کہتے ہیں اس میں کتنی سچائی ہے۔ میں  واضح کہہ رہا ہوں کہ من و عن آپ کی تحریر کے ایک ایک جملے پر تفصیل سے گفتگو کروں گا۔ کیا آپ گفتگو کرنے میں سنجیدہ نہیں ہیں؟ کیا آپ کا انصاف پسندی اور حق طلبی والا جذبہ ختم ہوگیا ہے؟

شیعہ مناظر کی تحریر کے مطابق موضوع کی ترتیب

1- پہلے مرحلے کے الف کا پہلا حصہ سیدہ فاطمہؓ کا مطالبہ فدک کا تعین (حق تھا تو کس حیثیت سے؟کیا سیدہ کا حق سیدہ کو ملا   ، یا نہیں؟)  اور صدیقی فیصلہ درست یا غلط؟

2-  پہلے مرحلے کے الف کا دوسرا حصہ کیا سیدہ فاطمہؓ ناراض ہوئیں اور مکمل بائیکاٹ کے ساتھ رحلت فرمائی؟

اس کے بعد پہلے مرحلے کا ب زیر بحث لایا جائے گا۔ ہر ایک نکتے پر تین دن کے اندر گفتگو مکمل کی جائے گی۔ ان شاءاللہ

صفحہ 2 از 3