قرآن کریم کے بارے میں اہم حقائق (شیعہ کتاب) میں دس، سات، پانچ، چار، تین حروف میں نزول قرآن ! (جعفر مرتضیٰ عاملی)
جعفر صادققرآن کریم کے بارے میں اہم حقائق (شیعہ کتاب) میں دس، سات، پانچ، چار، تین حروف میں نزول قرآن جعفر مرتضیٰ عاملی
البتہ بعض شیعہ روایات سے یہ بھی استفادہ ہوتا ہے کہ ” احرف سبعہ “ (سات حروف) سے مراد قرآن کے بطون اور تاویلیں ہیں۔ امام ابو جعفر " (امام محمد باقر) سے روایت ہے کہ فرمایا “قرآن کی تفسیر سات حرفوں پر ہے " از جملہ علم ما کان اور علم ما یکون ( گذشتہ و آئندہ کا علم ) ہے اور ان وجوہات کو صرف آئمہ جانتے ہیں۔ اسی طرح وہ روایت جو کہ حماد سے اس بارے میں نقل کی گئی ہے۔ حماد کہتا ہے میں نے امام صادق کی خدمت میں عرض کیا آپ سے نقل کی جانے والی احادیث مختلف ہیں؟ حضرت نے فرمایا قرآن سات حروف پر نازل ہوا ہے اور امام کی کم از کم قدرت یہ ہے کہ وہ سات وجہوں پر فتویٰ دے سکتا ہے۔
قرآن کے سات حروف پر نازل ہونے کے بارے میں روایات مختلف ہیں بعض میں ہے کہ قرآن سات حروف پر نازل ہوا ہے جیسا کہ اوپر ذکر ہوا۔ بعض روایات میں ہے کہ قرآن پاک پانچ حروف پر نازل ہوا ہے۔ اور بعض میں چار حروف کا تذکرہ ہوا ہے۔ جبکہ بعض دوسری روایت میں قرآن کے تین حروف پر نازل ہونے کا ذکر ہے اور بعض دوسری روایات قرآن کے نزول کو دس حروف پر کہتی ہیں۔ ان میں سے کون سی تعداد صحیح ہے اور کن روایات کو ترجیح دی جائے ؟
جیسا کہ کہا جاتا ہے جب حضرت عثمان نے لوگوں کو ایک قرأت پہ مجبور کیا تو اس نے عملی طور پر اس جیسی احادیث اور پیغمبر اکرم کے اس فرمان کہ “قرآن کی قرات متعدد ہیں سات پانچ وغیرہ" کے خلاف قیام کیا۔ کسی نے حضرت عثمان پر اعتراض نہ کیا جبکہ موقع تھا کہ بڑے صحابہ جن کے سرکردہ حضرت علی تھے اس پر اعتراض کرتے اور اگر یہ حدیثیں صحیح ہوتیں تو انہیں حضرت عثمانؓ کے خلاف دلیل کے طور پر لاتے۔


