Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

الکافی کی روایت : قرآن  ایک ہی حرف پر ایک ہی ذات کی طرف سے  نازل ہوا ہے۔ (   اہل تشیع علماء اس روایت کے متن کو تسلیم نہیں کرتے!)

  جعفر صادق

الکافی کی روایت : قرآن  ایک ہی حرف پر ایک ہی ذات کی طرف سے  نازل ہوا ہے۔
(   اہلِ تشیع علماء اس روایت کے متن کو تسلیم نہیں کرتے!)

اصول کافی کی اس روایت میں  امام جعفر صادقؒ سے بظاہر سات حروف میں نزول قرآن کی نفی بیان ہو رہی ہے جبکہ الخصال (شیخ صدوق) میں امام جعفر صادقؒ  سے ہی سبعہ احرف کی تائید میں جو روایت بیان کی گئی ہے اس کے مطابق

امام  جعفر صادقؒ واضح فرما رہے ہیں کہ قرآن سات حروف پر نازل ہوا ہے۔

جب دو صحیح روایات آپس میں متعارض ہوں تو ایک روایت کی تاویل کی جاتی ہے تاکہ دونوں میں تطبیق ممکن ہو۔

 کافی کی روایت اس لحاظ سے درست ہوسکتی ہے کہ امام جعفر صادقؒ سات الگ الگ قرآن کے نزول کی نفی بیان کر رہے ہوں کیونکہ قرآن نبی کریمﷺ کی زبان یعنی ایک حرف لسان القریش میں ہی نازل ہوا ہے، صرف  بعض آیات کے الفاظ  دیگر حروف میں پڑھنے کی آسانی دی گئی، خود وہ الفاظ قرآن کا حصہ نہ تھے۔

شیعہ مفسرین نے بھی کافی کی اس روایت کو من و عن تسلیم نہیں کیا بلکہ سبعہ احرف میں نزول قرآن کو تسلیم کرتے ہوئے اس روایت کی تاویل بیان کی ہے۔

شیعہ مفسر فیض کاشانی نے اپنی شہرہ آفاق تفسیر صافی کے مقدمے نمبر 8 میں سبعہ احرف کے عقیدے پر تفصیل سے بحث کی ہے، قارئین کو بتادوں کے اہل تشیع کے ہاں اہل سنت ذرائع  کو عامہ اور اہل تشیع ذرائع کو خاصہ کہا جاتا ہے، ملا فیض کاشانی نے اہل سنت اور اہل تشیع کی مختلف معتبر روایات کی روشنی میں سبعہ احرف کے عقیدے کی کھل کر تائید بیان کی ہے اور  کافی کی اس روایت کی تاویل کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ

قرآن کریم کی صحیح قرأت صرف ایک ہے لیکن جب امام جعفر صادقؒ کو یہ پتا چلا کہ انھوں نے جس حدیث کی روایت کی ہے اس سے یہ سمجھا جا رہا ہے کہ تمام قرائتیں باوجود اختلاف کے درست ہیں تو امام علیہ السلام نے ان کی تکذیب کی ہے اور اس بنیاد پر دونوں روایتوں میں کوئی منافات نہیں ہے۔