ابتداء شیعت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ابتداء شیعت

  توقیر احمد

صفحہ 3 از 12

 الصافی جلد 2 صفحہ 80 

 البرھان جلد 1 صفحہ 86 

 ۔٩۔۔وسائل الشیعة۔ الحرالعاملی کہتا ہے کہ وہ روایات جن میں مروی ہے کہ اللہ تعالی نے مخلوقات کی پیدائش کے وقت تمام انبیاء سے ولایت علی کا عہد و میثاق لیا تھا ایک ہزار سے زیادہ ہیں 

 الفصول المھمة ص 159

١٠۔ ۔۔النوری کہتے ہیں کہ اللہ تعالی نے  ہماری ولایت کو آسمانوں زمینوں اور پہاڑوں اور تمام شہروں پر پیش کیا تھا 

 مستدرک الوسائل 2/195

١١۔۔۔ہادی الطہرانی کہتے ہیں 

بعض روایات دلالت کرتی ہیں کہ ہر نبی کو ولایت علی کی دعوت دینے کا حکم دیا گیا ہے بلکہ اس ولایت کو ہر چیز پر پیش کیا گیا تھا چنانچہ جس نے اسے قبول کرلیا وہ صالح بن گئی اور جس نے اس کو رد کر دیا وہ فاسد بن گئی

 ودایع النبوة ص115

 بطلان دعوی

بعض عقائد و افکار ایسے ہوتے ہیں جن کا ذکر کردینا ہی ان کا فساد و بطلان بیان کرنے کے لیے کافی ہوتا ہےمذکورہ بالا شیعہ نظریہ بھی اس قبیل سے ہے کیونکہ اس کا بطلان بداہتا معلوم ومفہوم ہے اس لئے کہ قرآن مجید ہمارے سامنے موجود ہے جو ایسے ہر قسم کے دعوؤں سے مبرا ہے تمام انبیاء نے صرف توحید کی دعوت دی ہے نہ کہ جس طرح یہ لوگ افتراء پردازی کرتے ہیں کہ ان کی دعوت کا محور علی رضی اللہ عنہ اور آئمہ شیعہ کی ولایت کی دعوت دینا تھا

١۔ ۔۔۔Surat No 21 : Ayat No 25 

وَ مَاۤ  اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ  اِلَّا نُوۡحِیۡۤ اِلَیۡہِ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ  اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدُوۡنِ ﴿۲۵﴾

 تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرو ۔  

قرآن نے انبیاء کی دعوت کی تفصیل زکر کی ہے لیکن کوئی دعوی ولایت نہیں ہے 

٢۔ ۔ Surat No 16 : Ayat No 36 

وَ لَقَدۡ بَعَثۡنَا فِیۡ کُلِّ اُمَّۃٍ  رَّسُوۡلًا اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ وَ اجۡتَنِبُوا الطَّاغُوۡتَ ۚ فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ ہَدَی اللّٰہُ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ حَقَّتۡ عَلَیۡہِ  الضَّلٰلَۃُ ؕ فَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَانۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۳۶﴾

 ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ  ( لوگو ) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو ۔  پس بعض لوگوں کو تو اللہ تعالٰی نے ہدایت دی اور بعض پر گمراہی ثابت ہوگئی  پس تم خود زمین میں چل پھر کر دیکھ لو جھٹلانے والوں کا انجام کیسا کچھ ہوا؟ 

  مذکورہ آیت میں بھی ولایت کا کوئی ذکر نہیں ہے 

٣۔ ۔۔Surat No 7 : Ayat No 59 

لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰی قَوۡمِہٖ فَقَالَ یٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ مَا  لَکُمۡ مِّنۡ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ ؕ اِنِّیۡۤ اَخَافُ عَلَیۡکُمۡ عَذَابَ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ ﴿۵۹﴾

ہم نے نوح  ( علیہ السلام )  کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے فرمایا اے میری قوم تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود ہونے کے قابل نہیں مجھ کو تمہارے لئے ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے ۔  

Surat No 7 : Ayat No 65 

وَ اِلٰی عَادٍ  اَخَاہُمۡ ہُوۡدًا ؕ قَالَ یٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ مَا  لَکُمۡ مِّنۡ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ ؕ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴿۶۵﴾

 اور ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود  ( علیہ السلام ) کو بھیجا ۔ انہوں نے فرمایا اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں سو کیا تم نہیں ڈرتے ۔  

  Surat No 7 : Ayat No 73 

وَ  اِلٰی ثَمُوۡدَ  اَخَاہُمۡ صٰلِحًا ۘ قَالَ یٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ  مَا لَکُمۡ مِّنۡ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ ؕ قَدۡ جَآءَتۡکُمۡ  بَیِّنَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ ؕ ہٰذِہٖ نَاقَۃُ اللّٰہِ لَکُمۡ اٰیَۃً فَذَرُوۡہَا تَاۡکُلۡ فِیۡۤ  اَرۡضِ اللّٰہِ وَ لَا تَمَسُّوۡہَا بِسُوۡٓءٍ فَیَاۡخُذَکُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۷۳﴾

 اور ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح  ( علیہ السلام ) کو بھیجا انہوں نے فرمایا اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں ۔  تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک واضح دلیل آچکی ہے یہ اونٹنی ہے اللہ کی جو تمہارے لئے دلیل ہے سو اس کو چھوڑ دو کہ اللہ تعالٰی کی زمین میں کھاتی پھرے اور اسکو برائی کے ساتھ ہاتھ بھی مت لگانا کہ کہیں تم کو دردناک عذاب آ پکڑے ۔  

Surat No 7 : Ayat No 85 

وَ اِلٰی مَدۡیَنَ اَخَاہُمۡ شُعَیۡبًا ؕ قَالَ یٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ مَا  لَکُمۡ مِّنۡ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ ؕ قَدۡ جَآءَتۡکُمۡ بَیِّنَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ فَاَوۡفُوا الۡکَیۡلَ وَ الۡمِیۡزَانَ وَ لَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡیَآءَہُمۡ وَ لَا تُفۡسِدُوۡا فِی الۡاَرۡضِ بَعۡدَ  اِصۡلَاحِہَا ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿ۚ۸۵﴾

 اور ہم نے مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب  ( علیہ اسلام ) کو بھیجا انہوں نے فرمایا اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا  کوئی تمہارا معبود نہیں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل آچکی ہے پس تم ناپ اور تول پورا پورا کیا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے مت  دو اور روئے زمین میں اس کے بعد اس کی درستی کر دی گئی فساد مت پھیلاؤ یہ تمھارے لئے نافع ہے اگر تم تصدیق کرو ۔  

۴۔ ۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا 

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ جب  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا تم اہل کتاب کے ایک گروہ کے پاس جا رہے ہو لہذا تم سب سے پہلے انہیں ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دینا 

 البخاری جلد 2 صفحہ 108 

 المسلم جلد 1 صفحہ 50 ۔ 51 

۵۔۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ اس وقت تک لوگوں سے قتال کرو جب تک کہ وہ یہ گواہی نہیں دیتے کہ اللہ صرف ایک ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں 

 البخاری جلد 1 صفحہ 11 

 المسلم جلد 1 صفحہ ۔51 52 

٦۔ ۔ائمہ سلف کا بھی اتفاق ہے کہ بندے کو سب سے پہلے شہادتین کا حکم دیا جائے گا 

 شرح العقیدۃ الطحاویة ص75

صفحہ 3 از 12