ابتداء شیعت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ابتداء شیعت

  توقیر احمد

صفحہ 4 از 12

٧۔ ۔ولایت علی کے لزوم کا شیعہ دعوی کہاں سے ثابت ہوتا ہے؟؟؟ اگر ولایت علی کا حکم تمام انبیاء کے تمام صحیفوں میں موجود ہے تو پھر اکیلے شیعہ ہی اسے کیوں نقل کرتے ہیں ؟؟اسی طرح دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو اس کا علم کیوں نہیں ہوسکا؟؟؟

بلہ یہ مزعومہ ولایت قرآن مجید میں کیوں درج نہیں کی گئی حالانکہ وہ تمام سابقہ کتب پر نگران اور اللہ تعالی کی توفیق سے ابدی طور پر محفوظ ہےجبکہ شیعہ کے امام فقیہ 

آل کاشف الغطاء(ولكن الشيعة الإمامية زادوا (ركناً خامساً) وهو: الإعتقاد بالإمامة. يعني أن يعتقد: أن الإمامة منصب إلهي كالنبوة، فكما أن الله سبحانه يختار من يشاء من عباده للنبوة والرسالة، ويؤيده بالمعجزة التي هي كنص من الله عليه (وربك يخلق ما يشاء ويختار ما كان لهم الخيرةفكذلك يختار

للإمامة من يشاء، ويأمر نبيه بالنص عليه، وأن ينصبه إماماً للناس من بعده للقيام بالوضائف التي كان على النبي أن يقوم بها، سوى أن الإمام لا يوحى إليه كالنبي وإنما يتلقى الأحكام منه مع تسديد إلهي. فالنبي مبلغ عن الله والإمام مبلغ عن النبي.

والإمامة متسلسلة في اثني عشر، كل سابق ينص على اللاحق. ويشترطون أن يكون معصوماً كالنبي عن الخطأ والخطيئة، والإ لزالت الثقة به، وكريمة قوله تعالى: (إني جاعلك للناس إماماً قال ومن ذريتي قال لا ينال عهدي الظالمين) صريحة في لزوم العصمة في الإمام لمن 

تدبرها جيداً.

وأن يكون أفضل أهل زمانه في كل فضيلة، وأعلمهم بكل علم، لأن الغرض منه تكميل البشر، وتزكية النفوس وتهذيبها بالعلم والعمل الصالح

فمن اعتقد بالإمامة بالمعنى الذي ذكرناه فهو عندهم مؤمن بالمعنى الأخص،

والغرض: إن أهم ما امتازت به الشيعة عن سائر فرق المسلمين هو: القول بإمامة الأئمة الأثني عشر، وبه سميت هذه الطائفة (إمامية)

فقد تتجاوز 

طوائف الشيعة المائة أو أكثر، ببعض الاعتبارات والفوارق، ولكن يختص 

اسم الشيعة اليوم ـ على إطلاقه ـ بالإمامية التي تمثل أكبر طائفة في المسلمين بعد طائفة السنة.

 اصل الشیعة واصولھا ص62۔63۔64۔65

 ترجمہ۔ ۔لیکن شیعہ امامیہ نے ایک رکن بڑھا کر پانچ رکن بنا دیے اور وہ عقیدہ امامت ہے یعنی شیعوں کا عقیدہ ہے کہ امامت نبوت کی طرح منصب الٰہی ہے جس طرح اللہ تعالی نبوت اور رسالت کے لیے کسی کو منتخب کرکے اس کی معجزات سے تائید کرتا ہے اسی طرح امامت کے لئے کسی کو منتخب کرکے نبی کو حکم کرتا ہے کہ وہ لوگوں پر اس کو امام مقرر کریں 

فرق صرف یہ ہے کہ نبی اللہ کی طرف سے مبلغ ہوتا ہے اور امام نبی کی طرف سے مبلغ ہوتا ہے (پیغام پہنچاتا ہے )

اور شیعوں نے امام کے لیے یہ بھی شرط لگائی ہے کہ وہ نبی کی طرح معصوم عن الخطا ہو ۔۔بس جو شخص اس طرح امامت کا عقیدہ رکھے جس طرح ہم نے ذکر کیا (امام منصوص من اللہ اور معصوم عن الخطا ہو )تو وہ شیعوں کے نزدیک خاص مومن ہے

الغرض عام مسلمانوں میں شیعوں کو جو امتیازی حیثیت حاصل ہے وہ اس وجہ سے کہ وہ ائمہ اثنا عشریہ کی امامت کے معتقد ہیں اور اسی بنا پر اس فرقہ کو امامیہ کہتے ہیں خیال رہے کہ تمام شیعہ امامیہ نہیں ہیں کیونکہ لفظ شیعہ کا اطلاق زیدیہ و اسماعیلیہ وغیرہ پر بھی ہوتا ہے اس طرح ایک ١٠٠

بلکہ( بلکہ الخطط میں تین سو) سے بھی کچھ زیادہ شیعہ فرقوں کی فہرست تیار ہو جائے گی لیکن موجودہ زمانے میں شیعہ کا نام امامیہ فرقہ کے ساتھ مختص ہو چکا ہے جو سنیوں کے بعد سب سے بڑی تنظیم ہے 

 اصل الشیعه و اصولها اردو ص62۔63۔64۔65۔عربی ۔58۔59۔60

 معلوم ہوا کہ یہ محض ایک دعویٰ ہے جس کی کوئی دلیل نہیں ہے دعوئوں میں مبالغہ کرنے سے انسان تبہی رک سکتا ہے جب اس کے پاس دین عقل یاحیا کی شکل میں کوئی محافظ موجود ہو 

٨۔ ۔۔شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں 

گزشتہ انبیاء کی کتب میں جہاں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر موجود تھا لوگوں نے اسے نکال کر بیان کر دیا ہے لیکن اس میں کہیں بھی علی رضی اللہ تعالی عنہ کا ذکر موجود نہیں  ہے اسی طرح جو اہل کتاب مسلمان ہوئے ان میں سے کسی نے بھی یہ ذکر نہیں کیا کہ ان کے ہاں علی رضی اللہ تعالی عنہ کا ذکر موجود تھا لہذا یہ کہنا کس طرح درست ہے کہ تمام انبیاء کو ولایت علی رضی اللہ عنہ کا اقرار کروا کر مبعوث کیاگیا تھا؟؟؟لیکن کسی نے بھی  اپنی امت کے سامنے اس کا ذکر کیانا ان میں سے کسی نے ایسی کوئی بات کی ہے 

 منہاج آلسنہ  جلد 4 صفحہ ،46

 (ان من گھڑت کہانیوں میں تمام انبیاء پر کتنا بڑا الزام عائد کیا گیا ہے جو یہ بیان کرتی ہیں کہ اوالعزم رسولوں کے سوا آدم علیہ الصلاۃ والسلام اور دیگر تمام انبیاء اور رسل نےولایت علی سے متعلق امر الہی سے روگردانی کی ہےیہ صریحاً بہتان ہے ایسی ولایت بھی باطل ہے اور انبیاء کرام سے متعلق ایسا افتراء جرم عظیم ہے یہ عجیب تضاد ہے کہ عصمت ائمہ سے متعلق تو اتنا غلو کیا جاتا ہے جس کی کوئی انتہا نہیں جبکہ دوسری طرف پاکیزہ ترین مخلوق انبیاء کرام کے حق میں اتنا ظلم اور زیادتی روا رکھی جاتی ہے کہ اس بات کی دلیل نہیں کہ ایسی کہانیاں بنانے والوں کے دل و دماغ علم اور ایمان سے تہی دامن اور اخیار امت اور مصلحین کے خلاف بغض اور سازشوں سے بھرے ہوئے تھے ایک طرف تو انبیاء کو معصوم بتاتے ہیں اور ان کے نائبین یعنی ائمہ کرام کو بھی معصوم بتانا ہے اور جبکہ دوسری طرف وہ رسولوں پر بہتان باندھتے ہیں یقینا اسی افتراء پردازی کی جرات کوئی زندیق ہی کرسکتا ہے گویا یہ لوگ ایسی باتوں کے ذریعے اپنے ائمہ کے پیروکاروں کو الغرض رسولوں و انبیاء سے افضل ثابت کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے پیروکاروں نے تو ولایت علی وغیرہ سے متعلق تعلیمات کی پیروی کی ہے نیز کیا اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ یہ لوگ شیعت کی راہ سے لوگوں میں داخل ہوکر ان کا دین اور عقائد تباہ کرنا چاہتے ہیں یقینا ایسی بات صریحا گمراہی ہے 

اللہ تعالی نے تو تمام انبیاء سے یہ میثاق لیا تھا کہ اگر ان کی زندگی میں محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوگئے تو وہ ضرور ایمان لا کر ان کی نصرت و تائید کریں گے جیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ نے فرمایا ہے ارشاد باری تعالی ہے 

Surat No 3 : Ayat No 81 

صفحہ 4 از 12