ابتداء شیعت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ابتداء شیعت

  توقیر احمد

صفحہ 6 از 12

(مؤلف اعتراف کر رہا ہے کہ شیعت کی بنیاد اسلام کی بنیاد سے الگ رکھی گئی تھی )

پھر اس کو کاشت کرنے والا خود ہی اس کو اپنی نگہداشت میں پروان چڑھتا رہا حتی کہ یہ ان کی زندگی ہی میں تنومند درخت بن گیا اور ان کی وفات کے بعد پھل آور بن گیا 

 اصل الشیعِة واصولھا ص 43

 اعیان الشیعہ جلد 1 صفحہ۔13۔ 16 

 اثنا عشریہ واہل بیت صفحہ 29

 تاریخ الفقہ الجعفری صفحہ 105 

 ھویة التشیع ص 27

 ھکذا الشیعة ص 4

 فی ظلال التشیع صفحہ 50 51 

 الشیعۃ فی  التاریخ صفحہ 29 30 

 تاریخ الشیعة صفحہ 18 

 بحث حول الولایت صفحہ 63 

 اصول الدین صفحہ 18 19

 بطلان دعوی

١۔ ۔۔۔غور کریں کہ اس رائے کا اظہار سب سے پہلے قمی نے المقالات و الفرق میں اور نوبختی نے فرق الشیعہ میں کیا ہے ۔یہ رائے کیوں معرض وجود میں آئی ؟؟؟؟

کیونکہ شیعہ ایمانیات ۔قرآن کی بیان کی ہوئی ایمانیات کے متضاد ہیں اصول دین اہل تشیع میں

توحید 

 نبوت

 امامت

عدل

قیامت

 جبکہ قرآنی ایمانیات

اللہ پر ایمان

رسولوں پر ایمان 

 کتابوں پر ایمان 

 فرشتوں پر ایمان

تقدیر پر ایمان 

 قیامت پر ایمان

 قرآن میں کہیں امامت پر ایمان اور عدل پر ایمان کا ذکر نہیں ہے جو کہ انہوں نے خود گھڑا ہے اسی طرح دوسرے عقائد و نظریات اور فروعی مسائل امت مسلمہ سے متصادم ہیں  جن کو دیکھتے ہوئے علماء اسلام نے شیعہ مذہب کے آغاز کا سبب غیر اسلامی اصول و عقائد کو ٹھہرایا ہے اور اس کا ثبوت خود شیعہ کتابوں میں موجود ہے ۔اسی بنا پر شیعہ نے اپنے مخالفین کے اس دعوے کی تردید کرنے کے لئے اسے شرعی قالب میں ڈھالنے کی کوشش کی اور ایسے دعوے کئے پھر انہیں ہر طریقے سے ثابت کرنے کی کوشش کی چنانچہ انہوں نے اس سلسلے میں کثرت سے روایات گھڑ کر ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا اور دعویٰ کیا کہ یہ احادیث اہل سنت کے ترک واسانید سے مروی ہیں حالانکہ ان روایات کو ائمہ اہل سنت اور ناقلین شریعت میں سے کوئی بھی نہیں جانتا بلکہ یہ روایات موضوع ہیں یا ان کی اسانید میں طعن بیان کیا گیا ہے یا یہ روایات شیعہ کی فاسد تاویلات سے بالکل کوئی تعلق نہیں رکھتی 

دیکھیے۔ ۔۔

 ابن جوزی الموضوعات جلد 1 صفحہ 338 

 الشوکانی فی الفوائد المجموعۃ صفحہ 342 

 الکتانی تنزیہ الشریعہ جلد 1 صفحہ 351 

 فکرة التقریب صفحہ 51 

 ابن خلدون المقدمہ جلد 2 صفحہ 526 

٢ ۔۔۔کتاب وسنت میں اس رائے کی قطعا کوئی دلیل ہے نہ اس کی کوئی تاریخی سند ہی موجود ہے بلکہ یہ رائے اصول دین سے بعید اور محکم تاریخی حقائق کے منافی ہے کیونکہ دین اسلام اس امت کو مساوی طور پر ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے لیے آیا تھا نہ کہ اسے گروہوں اور جماعتوں کی شکل میں بانٹنے کے لیے معرض وجود میں آیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بھی شیعہ سنی  قطعا ایسی کوئی تقسیم نہ تھی 

ارشاد باری تعالی ہے ۔۔۔

Surat No 3 : Ayat No 85 

١۔ ۔۔وَ مَنۡ یَّبۡتَغِ غَیۡرَ الۡاِسۡلَامِ دِیۡنًا فَلَنۡ یُّقۡبَلَ مِنۡہُ ۚ وَ ہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۸۵﴾

جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے اس کا دین قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا ۔ 

  ٢۔ ۔يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِھٖ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ٢؁وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا  ۠

'' اے ایمان والو اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے ، اور نہ تمہیں موت نہ آئے مگر یہ کہ تم مسلم ہو ۔اور تم سب اللہ کی رسی  کو مضبوطی سے تھا م لو اور فرقہ فرقہ نہ ہوجاؤ ۔'' (آل ِ عمران : 102-103)

  ٣۔ ۔۔هُوَسَمّٰىكُمُ الْمُسْلِـمِيْنَ ڏ مِنْ قَبْلُ وَفِيْ ھٰذَاۭ

'' اس (اللہ تعالیٰ ) نے تمہارا نام مسلم رکھا ہے ، اس سے پہلے اورا س ( قرآن) میں بھی ۔'' (الحج :78)

٣۔ ۔۔وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ تَفَرَّقُوْا وَاخْتَلَفُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَھُمُ الْبَيِّنٰتُ  ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ لَھُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ        

'' اور نہ ہو جانا ان لوگوں کی طرح جنہوں نے روشن دلیلیں آجانے کے بعد بھی اختلاف کیا اور فرقہ فرقہ ہو گئے ، اور ان کےلئے بڑا عذاب تیارہے۔'' (آل ِ عمران :105)

 ۴۔ ۔اِنَّ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِيْ شَيْءٍ  ۭ اِنَّمَآ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ    

'' بے شک جن لوگوں نے اپنے دین میں فرقے بنائے اور گروہوں میں بٹ گئے آپ (ﷺ) کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے ان کا معاملہ اللہ کے سپر د ہے پھر وہ ان کو بتا دے کہ وہ کیا کرتے رہے ۔'' ( الانعام :159)

 ۵۔ ۔۔مُنِيْبِيْنَ اِلَيْهِ وَاتَّقُوْهُ وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَلَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ    31؀ۙمِنَ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا ۭكُلُّ حِزْبٍۢ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُوْنَ   

'' اللہ کی طرف رجوع کرتے رہو اور اسی سے ڈرو اور صلوٰۃ قائم کرو اور مشرکوں میں سے نہ ہو جانا۔ ان لوگوں میں سے جنہوں نے اپنے دین میں فرقے بنالئے اور گروہوں میں بٹ گئے ، ہر گروہ ااسی چیز میں مگن ہے جو اس کے پاس ہے۔'' ( الروم :31-32)

 ٦۔ ۔وَمَا تَفَرَّقُوْٓا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًۢا بَيْنَهُمْ ۭ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّي لَّقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۭ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِيْبٍ  

'' یہ فرقہ فرقہ نہیں ہوئے لیکن اس کے بعد کہ ان کے پاس ( ان کے رب کی طرف سے)علم آچکا تھا ، آپس میں بغض و عناد کے سبب ، اور اگر (اے نبی ﷺ) آپ کے رب کی(فیصلے کی) بات مقررہ وقت تک کے لئے پہلے طے نہ ہوچکی ہوتی تو یقیناً ان کا فیصلہ ہو چکا ہوتا ۔'' ( الشوریٰ :14)

 ٧۔ ۔قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰٓي اَنْ يَّبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَّيُذِيْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ ۭ اُنْظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُوْنَ   

صفحہ 6 از 12