سیرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 4 از 5

جاحظ نے کتاب البیان والتبیان میں بہ صریح لکھا ہے کہ

"حضرت عمر ؓ اور ان کے باپ اور دادا نفیل تینوں بڑے نساب تھے"

(طبقات ابن سعد، مطبوعہ مصر ص 117-122)

غالباً اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت عمر ؓ کے خاندان میں جیسا کہ ہم ابھی لکھ آئے ہیں سفارت اور منافرۃ یہ دونوں منصب موروثی چلے آتے تھے اور ان کے انجام دینے کے لیے انساب کا جاننا سب سے مقدم امر تھا.حضرت عمر ؓ نے انساب کا فن اپنے باپ سے سیکھا۔جاحظ نے تصریح کی ہے کہ

"حضرت عمر ؓ جب انساب کے متعلق کچھ بیان کرتے تھے تو ہمیشہ اپنے باپ خطاب کا حوالہ دیتے تھے۔"

پہلوانی اور کُشتی کے فن میں بھی کمال حاصل تھا،یہاں تک کہ عکاظ کے دنگل میں معرکے کی کشتیاں لڑتے تھے۔عکاظ جبل عرفات کے پاس ایک مقام تھا جہاں سال کے سال اس غرض سے میلہ لگتا تھا کہ عرب کے تمام اہل فن جمع ہو کر اپنے کمالات کے جوہر دکھاتے تھے اس لیے وہی لوگ یہاں پیش ہو سکتے تھے جو کسی فن میں کمال رکھتے تھے۔نابغہ، زبیانی، حسان بن ثابت، قیس بن ساعدہ، خنساء جن کو شاعری اور ملکۂ تقریر میں تمام عرب مانتا تھا،اسی تعلیم گاہ کے تعلیم یافتہ تھے۔ حضرت عمر ؓ کی نسبت علامہ بلاذری نے کتاب الاشراف میں باسند روایت نقل کی ہے کہ

"عکاظ کے دنگل میں کشتی لڑا کرتے تھے۔"

اس سے قیاس ہو سکتا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے اس فن میں پورا کمال حاصل کیا تھا۔

شہسواری کی نسبت ان کا کمال عموماً مسلم ہے۔ جاحظ نے لکھا ہے کہ

"وہ گھوڑے پر اچھل کر سوار ہوتے تھے اور اس طرح جم کر بیٹھتے تھے کہ جلد بدن ہو جاتے تھے۔"

قوت تقریر کی نسبت اگرچہ کوئی مصرح شہادت موجود نہیں لیکن یہ امر تمام مؤرخین نے باتفاق لکھا ہے کہ

"اسلام لانے سے پہلے قریش نے ان کو سفارت کا منصب دے دیا تھا۔اور یہ منصب صرف اس شخص کو مل سکتا تھا جو قوت تقریر اور معاملہ فہمی میں کمال رکھتا تھا۔"

حضرت عمر ؓ شاعری کا نہایت عمدہ مذاق رکھتے تھے اور تمام مشہور شعراء کے چیدہ اشعار ان کو یاد تھے۔

اس سے قیاس ہو سکتا ہے کہ یہ مذاق انہوں نے جاہلیت میں ہی عکاظ کی تعلیم گاہ میں حاصل کیا ہو گا۔کیونکہ اسلام لانے کے بعد وہ مذہبی اشغال میں ایسے محو ہو گئے تھے کہ اس قسم کے چرچے بھی چنداں پسند نہیں کرتے تھے۔اسی زمانے میں انہوں نے لکھنا پڑھنا بھی سیکھ لیا تھا۔اور یہ وہ خصوصیت تھی جو اس زمانے میں بہت کم لوگوں کو حاصل تھی۔ علامہ بلاذری نے باسند لکھا کہ

" جب آنحضرتﷺ مبعوث ہوئے تو قریش کے تمام قبیلے میں 17 آدمی تھے،جو لکھنا جانتے تھے ، ان میں ایک عمر بن خطاب ؓ تھے۔"

(فتوح البلدان بلاذری)

ان فنون سے فارغ ہو کر وہ فکر معاش میں مصروف ہوئے،عرب میں معاش کا ذریعہ زیادہ تر تجارت تھا۔اس لئے انہوں نے بھی یہی شغل اختیار کیا۔اور یہی شغل ان کی بہت بڑی ترقیوں کا سبب ہوا،وہ تجارت کی غرض سے دور دور ملکوں میں جاتے تھے۔اور بڑے بڑے لوگوں سے ملتے تھے۔خود داری،بلند حوصلگی، تجربہ کاری، معاملہ دانی، یہ تمام اوصاف جو ان میں اسلام لانے سے قبل پیدا ہو گئے تھے،سب انہی سفروں کی بدولت تھے،ان سفروں کے حالات اگرچہ نہایت دلچسپ اور نتیجہ خیز ہوں گے لیکن افسوس ہے کہ کسی مؤرخ نے ان پر توجہ نہیں کی۔علامہ مسعودی نے اپنی مشہور کتاب "مروج الذہب" میں صرف اس قدر لکھا ہے کہ

"عمر بن خطاب ؓ نے جاہلیت کے زمانے میں عراق اور شام کے جو سفر کئے ان سفروں میں جس طرح وہ عرب و عجم کے بادشاہوں سے ملے اس کے متعلق بہت سے واقعات ہیں جن کو میں نے تفصیل کے ساتھ اپنی کتاب اخبار الزمان اور کتاب الاوسط میں لکھا ہے۔"

علامہ موصوف نے جن کتابوں کا حوالہ دیا اگرچہ وہ فن تاریخ کی جان ہیں۔لیکن قوم کی بد مذاقی سے مدت ہوئی ناپید ہو چکیں۔

علامہ شبلی لکھتے ہیں کہ

"میں نے صرف اس غرض سے کہ حضرت عمر ؓ کے ان حالات کا پتہ لگ سکے۔قسطنطنیہ کے تمام کتب خانے چھان مارے۔ لیکن کچھ کامیابی نہیں ہوئی۔محدث بن عساکر نے " تاریخ دمشق" میں جس کی بعض جلدیں میری نگاہ سے گزریں ہیں حضرت عمر ؓ کے سفر کے بعض واقعات لکھے ہیں۔ لیکن ان میں کوئی دلچسپی نہیں۔"

مختصر یہ کہ عکاظ کے معرکوں اور تجارت کے تجربوں نے ان کو تمام عرب میں روشناس کرا دیا اور لوگوں پر ان کی قابلیت کے جوہر روز بروز کھلتے گئے۔یہاں تک کہ قریش نے ان کو سفارت کے منصب پر مامور کر دیا۔جب کوئی پرخطر معاملہ پیش آتا تو انہی کو سفیر بنا کر بھیجتے۔

واقعہ شہادت

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے زمین کے بڑے حصے پر حکومت کی۔ آپؓ کی خلافت کا ایک کمال یہ بھی ہے کہ ان کے دورِ خلافت میں کہیں، کسی فتنے نے سر نہیں اٹھایا، اس لیے کہ ان کی ذاتِ والا صفات فتنوں کے درمیان بند دروازے کی طرح تھی، جب یہ دروازہ توڑ دیا گیا تو فتنے اُبل پڑے۔[مسند احمد]

اگر آپ ؓ کے عدل و انصاف اور ملکی انتظامات اور فتوحات پر نظر ڈالی جائے تو حیرت ہوتی ہے کہ وہ وہ کام آپؓ کی ذات سے ظاہر ہوئے، جن کا کوئی نمونہ دنیا میں پہلے موجود نہ تھا اور اگر آپؓ کی دینی خدمات اور روحانی کمالات کو دیکھا جائے تو آنکھیں خیرہ ہو جاتی ہیں اور صفحاتِ تاریخ میں اس کی جامعیت کی کوئی تاریخ نہیں ملتی۔ سچ تو یہ ہے کہ ان کا ہر ہر رُویاں اپنے مرشدِ برحق ﷺ سید الکل فی الکل اور امام الانبیاو الرسل کے سچا ہونے کی شہادت ساری دنیا کے سامنے ادا کر گیا۔[ سیرت خلفاے راشدین] 

اس مختصرمضمون میں جو کچھ پیش کیا گیا ، اسے صرف ایک نمونہ ہی کہا جا سکتا ہے بلکہ یہ ایک تنبیہ ہے کہ نام نہاد مسلمان اسلام کی ایسی بزرگ ترین ہستیوں کے بارے میں جانیں اور ان کی شخصیت سے سبق حاصل کریں۔

صفحہ 4 از 5