سیرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 5 از 5

حضرت عمرؓ کی شہادت کا مختصر واقعہ یہ ہے کہ مدینہ منورہ میں فیروز نامی ایک مجوسی (آتش پرست) غلام رہتا تھا، جس کی کنیت ابو لؤلو تھی۔ اس نے ایک دن حضرت عمرؓ سے آکر شکایت کی کہ میرے آقا مغیرہؓ بن شعبہ نے مجھ پر بہت بھاری محصول مقرر کیا ہے، آپ کم کروا دیجیے۔ حضرت عمرؓ نے تعداد پوچھی۔ اس نے کہا؛ روزانہ دو درہم۔ حضرت عمرؓ نے پوچھاکہ تو پیشہ کون سا کرتا ہے؟ بولا کہ نقاشیِ آہن گری(لوہے کے ہتھیار وغیرہ بنانے والا)۔ آپؓ نے فرمایا: ان صنعتوں کے مقابلے میں تو یہ رقم زیادہ نہیں ہے۔ فیروز دل میں سخت ناراض ہو کر چلا آیا۔ دوسرے دن حضرت عمرؓ صبح کی نماز کے لیے نکلے تو فیروز خنجر لے کر مسجد میں آیا۔ حضرت عمرؓ کی طرف سے کچھ لوگ اس کام پر مقرر تھے کہ جب جماعت کھڑ ی ہو تو وہ صفیں درست کریں۔ جب صفیں سیدھی ہوگئیں تو حضرت عمرؓ تشریف لائے اور جوں ہی نماز شروع کی، فیروز نے دفعۃً گھات میں سے نکل کر(مسلسل) چھے وار کیے، جس میں سے ایک ناف کے نیچے پڑا۔ حضرت عمرؓ نے فوراً حضرت عبد الرحمن بن عوف کا ہاتھ پکڑ کر (انھیں) اپنی جگہ کھڑا کر دیا اور خود زخم کے صدمے سے گر پڑے۔ عبد الرحمن ابن عوفؓ نے اس حالت میں نماز پڑھائی کہ حضرت عمرؓ سامنے بسمل پڑے تھے۔

فیروز نے اور لوگوں کو بھی زخمی کیا، لیکن بالآخر پکڑ لیا گیا اور پھر خود کُشی کر لی۔حضرت عمرؓ کو لوگ اٹھا کر گھرلائے۔ سب سے پہلے انھوں نے پوچھا کہ میرا قاتل کون ہے؟ لوگوں نے بتلایا:فیروز۔ آپؓ نے فرمایا: الحمد للہ! میں ایسے شخص کے ہاتھ سے نہیں مارا گیا، جو اسلام کا دعویٰ رکھتا ہو۔لوگوں کا خیال تھا کہ زخم بہتتتت گہرا نہیں ہے، غالباً شفا ہو جائے، چناں چہ ایک طبیب بلایا گیا اس نے نبیذ اور دودھ پلایا، (مگر) دونوں چیزیں زخم کی راہ سے باہر نکل آئیں۔ حضرت عمر ؓ نے اس کے تین دن کے بعد انتقال فرمایااور محرم کی پہلی تاریخ، ہفتے کے دن مدفون ہوئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

نمازِ جنازہ حضرت صہیبؓ نے پڑھائی۔ حضرت علی، عبد الرحمن،، عثمان، طلحہ،سعد بن ابی وقاص اور عبد الرحمن ابن عوف رضی اللہ عنہم نے قبر میں اتارا اور اس طرح یہ آفتابِ عالم تاب خاک میں چھپ گیا۔ [الفاروق]

نوٹ: ( اسی ابو لؤلؤ فیروز کا مزار شیعہ نے ایران میں بنایا ہوا ہے اور اس کو بابا شجاع کہتے ہیں، اور ہر سال اس کے مزار پر جاتے ہیں اور جو فیروزہ نامی انگوٹھی پہنچتے ہیں وہ بھی اسی ملعون کی منسوب کرتے ہیں

حضرت عمر ؓ کی ہجرت:

اہل قریش ایک مدت تک آنحضرتﷺ کے دعوی کو بے پروائی کی نگاہ سے دیکھتے رہے۔لیکن اسلام کو جس قدر شیوع ہوتا جاتا تھا ان کی بے پروائی غصہ اور ناراضگی سے بدلتی جاتی تھی۔یہاں تک کہ جب ایک جماعت کثیر اسلام کے حلقے میں آ گئی تو قریش نے زور اور قوت کے ساتھ اسلام کو مٹانا چاہا۔جناب ابو طالب کی زندگی تک تو اعلانیہ کچھ نہ کر سکے۔لیکن ان کے انتقال کے بعد کفار ہر طرف سے اٹھ کھڑے ہوئے اور جس جس مسلمان پر قابو ملا اس طرح ستانا شروع کیا کہ اگر اسلام کے جوش اور وارفتگی کا اثر نہ ہوتا تو ایک شخص بھی اسلام پر ثابت قدم نہیں رہ سکتا تھا۔یہ حالت پانچ چھ برس تک رہی اور یہ زمانہ اس سختی سے گزارا کہ اس کی تفصیل ایک نہایت درد انگیز داستان ہے۔

 اسی اثناء میں مدینہ منورہ کے ایک معزز گروہ نے اسلام قبول کر لیا تھا،اس لئے آنحضرتﷺ نے حکم دیا کہ جن لوگوں کو کفار کے ستم سے نجات نہیں مل سکتی وہ مدینہ کو ہجرت کر جائیں۔سب سے پہلے ابو سلمہ عبد الله بن اشہل ؓ پھر حضرت بلال ؓ مؤذن اور عمار بن یاسر ؓ نے ہجرت کی۔ان کے بعد حضرت عمر ؓ نے بیس آدمیوں کے ساتھ مدینہ کا قصد کیا۔

صحیح بخاری میں 20 کا عدد مذکور ہے۔لیکن ناموں کی تفصیل نہیں۔ابن ہشام نے بعضوں کے نام لکھے اور وہ یہ ہیں۔

حضرت عمر ؓ کے ساتھ جن لوگوں نے ہجرت کی زید بن خطاب ؓ، سعید بن زید بن خطاب ؓ، خنیس بن حذافہ سہمی ؓ، عمرو بن سراقہ ؓ، عبد الله بن سراقہ ؓ، واقد بن عبد الله تمیمی ؓ، خولی بن ابی خولی ؓ، مالک بن ابی خولی ؓ، لیاس بن بکیر ؓ، عاقل بن بکیر ؓ، عامر بن بکیر ؓ، خالد بن بکیر ؓ۔ان میں سے زید ؓ حضرت عمر ؓ کے بھائی، سعید ؓ بھتیجے،خنیس ؓ داماد اور باقی دوست احباب تھے۔

مدینہ منورہ کی وسعت چونکہ کم تھی،مہاجرین زیادہ تر قبا میں (جو مدینہ سے دو تین میل ہے ) قیام کرتے تھے۔حضرت عمر ؓ بھی یہیں رفاعہ بن عبد المنذر ؓ کے مکان پر ٹھہرے۔

(قباء کو عوالی بھی کہتے ہیں چنانچہ صحیح مسلم میں ان کی فرود گاہ کا نام عوالی ہی لکھا ہے۔)

حضرت عمر ؓ کے بعد اکثر صحابہ ؓ نے ہجرت کی۔یہاں تک کہ (662 عیسوی) 13 نبوی میں جناب رسالتﷺ نے مکہ چھوڑا اور آفتاب رسالت مدینہ کے افق سے طلوع ہوا۔

  مدینہ پہنچ کر سب سے پہلے آنحضرتﷺ نے مہاجرین کے رہنے سہنے کا انتظام کیا۔انصار کو بلا کر ان میں اور مہاجرین میں برادری قائم کی جس کا اثر یہ ہے کہ جو مہاجر جس انصاری کا بھائی بن جاتا انصاری مہاجر کو اپنی جائیداد، اسباب، نقدی تمام چیزوں میں آدھا آدھا بانٹ دیتا تھا۔اس طرح تمام مہاجرین اور انصار بھائی بھائی بن گئے۔اس رشتہ کے قائم کرنے میں آنحضرتﷺ طرفین کے رتبہ اور حیثیت کا فرق مراتب ملحوظ رکھتے تھے،یعنی جو مہاجر جس درجے کا ہوتا اسی رتبے کے انصاری کو اس کا بھائی بناتے تھے۔


صفحہ 5 از 5