کیا کوئی روایت بخاری، مسلم، ترمذی، ابنِ ماجہ، ابنِ داؤد، نسائی، مشکوة يا موطا امام مالک میں سے مل سکتی ہے کہ حضرت علی، امام حسن، امام حسین، امام زین العابدین، امام باقر، امام جعفر صادق، امام موسی کاظم، امام علی الرضا، امام محمد تقی، امام علی نقی، امام حسن عسکری اور امام زمان و العصر علیھم السلام اہل سنت کے بارہ امام ہیں ؟؟ اگر نہیں تو اپنے بارہ اماموں کے نام بتائیں۔
مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبندکیا کوئی روایت بخاری، مسلم، ترمذی، ابنِ ماجہ، ابنِ داؤد، نسائی، مشکٰوة يا موطا امام مالک میں سے مِل سکتی ہے کہ حضرت علی، امام حسن، امام حُسین، امام زین العابدین، امام باقر، امام جعفر صادق، امام موسٰی کاظم، امام علی الرضا، امام محمد تقی، امام علی نقی، امام حسن عسکری اور امام زمان و العصر علیھم السلام اہل سُنَّت کے بارہ امام ہیں ؟؟ اگر نہیں تو اپنے بارہ اماموں کے نام بتائیں جبکہ حضور صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
"عن جابر سمرة قال سمعت رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم یقول لا یزال السلام عزیز اً الی اثنی عشر خلیفة کلھم من قریش۔
(مشکٰوۃ)
کیا آپ کے بارہ امام وہی تو نہیں جِن کا تذکرہ تاریخ الخلفاء ص ١٠٨ پر اور شرح فقہ اکبر ص ٧٦ پر درج ہے ؟؟ ارے ان میں چھٹا تو یزید بن معاویہ ہے۔
♦️ جواب اہل سُنَّت:- ♦️
اس حدیث کا ترجمہ اور مفہوم یہ ہے کہ اِسلام بارہ حکمرانوں کے عہد مبارک تک غالب ہی رہے گا۔ وہ سب قریش سے ہوں گے۔ ترمذی و مسلم کی روایت میں امیراً کا لفظ آیا ہے۔ یعنی حاکم وقت ہوں گے۔
شیعہ کے تصوّرِ امامت اور اہلِ سُنَّت کے تصوّرِ امامت و خلافت میں زمین و آسمان کا فرق ہے کیونکہ
✰... ان کے آئمہ پیغمبروں سے بلند مرتبہ...
✰... اللّٰہﷻ کے نور سے نور اپنی موت و حیات پر قادر...
✰... عالم ما کان وما یکون اور علم جعفر کے مالک...
✰... صاحبِ وحی و کتاب ہوتے ہیں...
✰... اور ان سے اختلاف رکھنے والا کافر ہوتا ہے۔
(ملاحظہ ہو در کافی کتاب الحجة)۔
جب کہ اہلِ سُنَّت کے خلفاء تو خود
✰... حضور صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم کے خادم و متبع ہیں۔
✰... خاکی و بشر، موت و حیات میں اللّٰہﷻ کے محتاج ہیں۔
✰... خاصۂ خُداوندی علمِ غیب سے محروم اور صِرف قُرآن کریم اور سُنَّت نبوی صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم کو ہی دینی حجت جان کر ان کی اتباع کرتے ہیں۔
اس واضح فرق کے باوجود حدیث ہذا کا شیعہ آئمہ سے کوئی تعلق نہیں اور شیعہ کے خود ساختہ باره آئمہ اس کے مصداق ہرگز نہیں کیونکہ ان کو حکومت و خلافت اور شریعت و حدود کے نفاذ کا موقعہ سوائے حضرت علی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کے کِسی کو مِلا ہی نہیں۔
"حضرت علی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کے عہد میں شیعہ کے اِسلام کو غلبہ نہ تھا، سنی کے اسلام کا غلبہ تھا۔"
(بتصریح مجالس المؤمنین ص ٥٤۔ فروع کافی ص ٥٥٤ ج ٥۔ اساس الاصول از دلدار علی وغیرہ)۔
شیعہ امام مثلِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو کہلاتے ہیں مگر اِسلامِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے عہد میں مغلوب اور تقیہ میں چھپا رہا۔ بارہویں امام از خود بارہ سو سال سے غار میں چھپے ہوئے ہیں۔
(تاریخِ اِسلام از سید امیر علی)
صاحب تاریخ الخلفاء اور شرح فقہ اکبر کے انفرادی بیان کے مطابق مسلک مختار کے مطابق اگر چھٹا خلیفہ یزید بن معاویہ ہو تو وہ خلیفہ برحق کی حیثیت سے نہیں بلکہ ترتیب خلافت کے طور پر مذکور ہے، جس طرح تاریخ میں اچھے اور برے حکمرانوں کو ان کے دور حکمرانی کے مطابق ترتیب سے بیان کیا جاتا ہے۔ قطع نظر یزید کی مختلف فیہ پوزیشن اور کردار کے بحیثیت مجموئی اِسلام غالب رہا۔ فتوحاتِ اِسلام بھی جاری رہیں۔
گو حادثہ کربلا اور حرہ کی وجہ سے مسلمانوں کو صدمہ عظیم پہنچا مگر حدیث کا مفہوم غلبہ اِسلام، بہر کیف مِلی نقصان اس عہد میں اس نقصان سے کم ہے جو ٣٦ھ اور ٣٧ھ میں ساٹھ ستر ہزار مسلمان (خصوصاً طلحہ رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ و زبیر رضی اللہ تعالٰی عنہ جیسے ستونِ اِسلام) کی شہادت سے ہوا۔ یہ لوہے اور لکڑی کے پتلے تو نہ تھے کہ اِسلام اور پیغمبرِ اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو درد محسوس نہ ہو۔ یہ بھی روح مع البدن اور پیغمبر اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے خاص رشتہ دار اور متعلقین تھے۔ یزید جیسا بھی ہو شیعہ کے چوتھے امام نے تو ان کی غلامی اختیار کر کے گویا بیعت ہی کر لی۔
(ملاحظہ ہو روضہ کافی ص ٢٤٦)۔
حضرت حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بیعتِ معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بعد اپنے معترض شیعہ کو کیا خوب جواب دے کر حقیقت کھول دی۔
آیا نمید ایند، هيچک از ما نیست مگر آنکه در گردن او بیعتے از خلیفه جورے در زمان ادست واقع می شود مگر قائم ما۔
یعنی کیا تُم نہیں جانتے کہ ہم میں سے کوئی بھی نہیں مگر اس کی گردن میں زمانے کے ظالم خلیفہ کی بیعت و اطاعت ڈالی جاتی ہے سوائے مہدی کے"۔
(جلاء العيون ص ٢٦١)۔
اس سے تو یزید شیعہ کا ہی امام و خلیفہ ثابت ہو چکا۔ امید ہے کہ اہلِ سُنَّت کو طعنہ نہیں دیں گے۔
اہلِ سُنَّت کے دوسرے قول میں تا قیامت خلیفہ ہونے والے غیر معین بارہ خلفاء و حاکم مراد ہیں۔
تیسرے قول میں امام مہدی کے بعد ہونے والے بارہ خلفاء مراد ہیں۔
(مجمع البحار حاشیہ ترمذی ٣٢٣)۔
القصد اس حدیث میں بارہ خلفاء کا مسلسل آنا اور ان حکمرانوں کی ذاتی فضیلت و مدح نہیں مراد بلکہ مجموعی طور پر اِسلام کا غلبہ اور اندرونی و بیرونی حملوں سے قوتِ مدافعت مراد ہے۔
رہی منصبِ امامت ص ٧٤ سے یہ حدیث کہ:
"من مات ولم يعرف امام زمانه فقد مات ميتة جاهلية۔"
(یعنی جو امام زمان کو پہچانے بغیر مرے اس کی موت جاہلیت کی سی ہے۔)
یہ کوئی معتبر حدیث نہیں نہ حضرت شاہ صاحب نے اسے حدیث کہہ کر نقل کیا ہے۔ پھر اس میں امام زمانہ سے مراد ظاہر و عادل خلیفۃ المسلمین ہے خواہ کِسی عہد میں ہو اس کی بیعت اور جائز باتوں میں اس کی اطاعت ضروری ہے۔ امام کا اطلاق تو قرآن پر بھی ہوا ہے، امام زمان اسے مانا جائے تو کیا حرج ہے ؟
شیعہ کے امام تو مثلِ شارع دینی ہیں۔ حلال و حرام میں مختار اور ہر زمانے میں نئے احکام دیتے ہیں۔ آج ان کے امام العصر مہدی ہیں۔ مگر صد افسوس ! وہ اپنا منصب چھوڑ کر غائب ہیں اور شیعہ یا تو جناب امام باقر رحمۃ اللہ علیہ و جعفر رحمۃ اللہ علیہ کی منسوخ امامتوں کی شریعت کے پیرو ہیں یا پھر غیر منصوص غاصب و خاطی مجتہدوں اور ذاکروں کے ارشادات پر عمل کرتے ہیں۔
امام زماں مہدی کا قول و عمل اور شریعت تو آج کِسی شیعہ کے پاس نہیں، نہ ہوسکتی ہے۔ لہٰذا اس حدیث پر عمل کرنے یا نہ کرنے میں سنی شیعہ برابر ہو گئے۔