اگر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا حکومت وقت سے اختلاف نہ…

اگر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا حکومت وقت سے اختلاف نہ تھا تو ان تینوں حکومتوں کے دور میں کسی جنگ میں شریک کیوں نہ ہوئے؟

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 1 از 2

اگر حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا حکومتِ وقت سے اختلاف نہ تھا تو ان تینوں حکومتوں کے دور میں کسی جنگ میں شریک کیوں نہ ہوئے...؟؟ جب کفار سے جنگ کرنا بہت بڑی عبادت و سعادت ہے اور اگر کثرتِ افواج کی وجہ سے ضرورت محسوس نہ ہوئی تو جنگِ جمل اور صفین میں بنفسِ نفیس کیوں ذوالفقار کو نیام سے نکال کر میدان میں اُترے۔

کیا خالد بن ولید رضی اللہ تعالٰی عنہ، حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے زیادہ شجاع تھے یا حکومتِ وقت کے ساتھ علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے تعلقات اچھے نہ تھے کہ سیف اللہ کا خطاب خالد بن ولید رضی اللہ تعالٰی عنہ کو مِل گیا...؟؟

نیز تعلقات اچھے ثابت کرتے ہوئے تاریخ طبری سے جو دو مکالے مولانا شبلی نے کتاب الفاروق ص ۲۸۵ پر نقل کئے ہیں، پیشِ نظر رہیں۔ انصاف سے یہ دونوں مکالمے جو حضرت عمر رضی اللّٰه تعالٰی عنہ اور حضرت عبداللّٰہ ابن عباس رضی اللّٰه تعالٰی عنہ کے مابین ہیں، پڑھ کر فیصلہ صادر فرمائیں۔

 

♦️ جواب اہل سُنَّت:-♦️

شیعہ خیال کے برعکس یہ تاریخی حقیقت ہے کہ حضرت علی رضی ﷲ تعالٰی عنہ کے خلفاء ثلاثہ رضوان اللّٰه علیھم اجمعین کے ساتھ بہترین تعلقات تھے۔

✰... "ان کی شوری کے ممبر تھے۔"

(کنز العمال، ص ١٣٤ ج ۳- طبقات ابن سعد- الفاروق، ص ۲۸۳)-

✰... "عہد راشدہ میں قاضی و مفتی بھی تھے۔"

(ازالة الخلفاء ص ۱۳۰ ۔ الفاروق ص ٣٤٣-)

✰... "غیر موجودگی میں نائب خلیفہ بھی تھے۔"

(فتوح البلدان ص ١٤)-

✰... "خلافت کیلئے نامزد ١١٦ افراد کی کمیٹی کے ممبر تھے۔ بوجہ حضرت عمر رضی اللّٰه تعالٰی عنہ کو زیادہ پسند تھے۔"

(الفاروق ٢٦٥)-

✰... خلفاء کے کسی امر و نہی سے اختلاف نہ کرتے تھے حتٰی کہ اپنے عہدِ خلافت میں بھی قضاء کو حسب سابق فیصلوں کا پابند بنایا۔"

(بخاری ص ۵۲۰ ج ١۔ مجالس المومنین ص ٥٤ ج ١)

✰... "خلفاء سے عطایا اور تنخواہیں وصول کرتے تھے۔"

(طبری و کتاب خراج ص ٢٤)

✰... حضرت حُسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کیلئے ایرانی مفتوحه باندی شاه بانو کو قبول کیا جِس سے سادات کی نسل چلی۔

(جلاء العيون ٤٩٦)

✰... "ہر وقت خلفاء کی تعریف میں رطب اللسان رہتے۔"

(نہج البلاغه، ص ٢٥-١٨٧-١٩٧)

✰... "آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو سنت کا قائم کرنے والا اور کماحقہ خُدا کا مطیع اور متقی بتایا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو تمام مسلمانوں کا مرجع جائے پناہ۔ قیم الامر (فرمانروا) رعایا کیلئے ایسا منتظم جیسے ہار کے موتیوں کیلئے دھاگہ، قطب زماں وغیرہ فرمایا جس میں صراحۃً حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ تعالٰی عنھما کی خلافت کی تصدیق ہے۔ حد یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اپنی صاحبزادی ام کلثوم بنت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنهما بیاہ دی۔"

(فروع کافی ص ١٤١ ج ۲)

✰... مجالس المومنین میں ص ۸۸ پر ہے کہ:

اگر دخترِ نبی بعثمان دار ولی و دختر بعمر فرستاد...

یعنی اگر پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کو دی تو ولئ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عمر رضی اللّٰه تعالٰی عنہ کو بیٹی دے دی۔

اس محبت و تعلق اور نمک خواری کے باوجود شیرِ خُداﷻ کا خلافتِ راشدہ میں بقول شیعہ کے جہاد نہ کرنا اور اپنے زمانے میں قصاصِ عُثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کا مطالبہ کرنے والوں پر چڑھائی کرنا اور بنفس نفیس ذوالفقار نیام سے نکالنا۔ (انقلاب زمانہ دیکھیے یہ اعتراض اعداء مُرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ نواصب نے کیا تھا مگر اب شیعہ بھی وہی بولی بول رہے ہیں۔ افراط و تفریط کا انجام یہی ہے لیکن جو جواب ہم نے نواصب کو دیا تھا وہی روافض بباطن دُشمنانِ علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو دے رہے ہیں۔) اس کا جواب شیعہ کے ذمہ ہے، ہمارے ذمہ نہیں۔

ہمارے نزدیک اب معمولی سپاہی کی حیثیت سے میدانِ جنگ میں لڑنا آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے شایانِ شان نہ تھا بلکہ وزارت، قضاء و افتاء، خلافت کی نیابت وغیرہ امور میں خلافتِ راشدہ اور اِسلام کی جو خدمت آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کی وہ سپاہ گری اور شمشیر زنی سے بڑی خدمت تھی۔

✰... "البتہ اجراء حدود میں خلافتِ راشدہ کے مقررہ جلاد بھی تھے۔"

( بخاری ٥٤٧ ج ١)

✰... حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نجائے حضرت حسنین رضی اللہ تعالٰی عنہما کی عزوہ افریقہ اور قسطنطنیہ میں شرکت جهاد، خلافتِ راشدہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی صداقت پر دلیل شافی ہے۔

(ملاحظہ ہو تاریخ اِسلام، باب عزوہ افریقہ در عہد عُثمان۔ البدایہ، ص ٣٢ جلد ٨ وغیرہ۔)

اگر یہ حق نہ ہوتیں تو حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ خلفاء سے تعاون نہ کرتے اور حسن و حسین رضی اللہ تعالٰی عنہما ان کے ماتحت جہاد نہ کرتے۔

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالٰی عنہ گو کہ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اشجع نہ ہوں مگر کفار ان کے ہاتھوں زیادہ قتل ہوئے۔

"حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اور جعفر طیار رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شہادت کے بعد غزوۂ موتہ میں کمان سنبھالنا اور تین ہزار معمولی لشکر کو ایک لاکھ مسلح رومی فوجیوں پر غالب کر دکھانا ہی دربارِ نبوی سے فاتح اور سیف اللہ کا لقب مِلنے کیلئے کافی ہے۔"

(بُخاری ٥٣١ ج ١ و ٦١١ ج ٢)

یہیں نو تلواریں آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ہاتھ سے ٹوٹیں ( تاریخ ) ۔

یہی تو ہماری دلیل ہے کہ جہاد میں اخلاص، ثابت قدمی اور معیتِ پیغمبر فضیلت کیلئے کافی ہے۔ بالفعل زیادہ قلت کرنا افضلیت کی دلیل نہیں ورنہ خود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالٰی عنہ، ابوذر رضی اللہ تعالٰی عنہ اور سلمان رضی اللہ تعالٰی عنہ (عند الشیعہ مسلمان) کی مقتولین کی تعداد بتائی جائے ...؟؟ کثرت قلیل کے باوجود جیسے حضرت خالد رضی اللہ تعالٰی عنہ ان بزرگوں سے افضل نہیں، ایسے ہی حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ بھی خلفاء ثلاثہ رضی اللہ تعالٰی عنہم سے افضل نہیں۔

صفحہ 1 از 2