اگر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا حکومت وقت سے اختلاف نہ…

اگر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا حکومت وقت سے اختلاف نہ تھا تو ان تینوں حکومتوں کے دور میں کسی جنگ میں شریک کیوں نہ ہوئے؟

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 2 از 2

رہے بحوالہ الفاروق، ص ٢٦٥- طبری، کے کہ حضرات عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ وعمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مابین مکالے، تو وہ اس لائق نہیں کہ ان پر بنیاد رکھ کر حضرات اہل بیت رضی اللہ تعالٰی عنہم اور خلفاء رضی اللہ تعالٰی عنہم پر اقتدار طلبی اور حسد کا مکروہ الزام لگایا جائے۔

✰... اولاً دونوں کی سند منقطع اور مجاہیل سے ہے۔ ایک معلوم راوی سلمہ ابرش قاضی رے شیعہ اور منکر الحدیث تھا۔

"اہل رے بد اعتقادی کی وجہ سے اس سے متنفر تھے۔"

(میزان الاعتدال، ص۱۹۲-۲)

✰... ثانياً یہ شیعہ کو چنداں مفید بھی نہیں۔ جب اس مکالمہ کی رو سے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی طرفدار ان کی قوم بھی نہیں اور شیعہ حضرات بھی حرب تقیہ رکھنے کے باوجود ایک ہاشمی کی بھی نشاندہی نہیں کر سکتے جس نے بقول شیعہ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حق خلافت کی تائید کی ہو پھر آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کیسے دعوی خلافت کر کے لوگوں کی نظروں میں معتوب ہوتے اور خلفاء رضی اللہ تعالٰی عنہم سے کشیدہ اور بے زار رہتے ؟

کیا قُلِ اللّٰھُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ...

{سورۃ آل عمران، آیت نمبر ٢٦}

(اے اللّٰهﷻ ! تُو ہی بادشاہ ہے جِسے چاہتا ہے بادشاہ بناتا ہے۔)

اور لِیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ...

(يقینًا اللہﷻ ان صحابہ کرام (رضی اللہ تعالٰی عنھم) کو خلیفہ فی الارض بنائے گا۔)

(سورۃ النور، آیت نمبر ٥٥)

جیسی آیات حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پیشِ نظر نہ تھیں...؟؟

جب اللہ تعالٰی نے حسبِ وعدہ ایک حق حقدار کو پہنچا دیا اور آیت استخلاف کو حضرت عمر فاروق رضی اللّٰه تعالٰی عنہ پر حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ہی چسپاں کیا۔

(نہج البلاغہ مع شرح فیض الاسلام نقی، ص ٤٣٤ جلد ١١ ایران۔)

تو پھر تمنائے خلافت یا خلفاء پر حسد کیسا ...؟؟

افسوس ! کہ شیعہ حضرات اپنا باطل نظریہ ثابت کرنے کیلئے ان بزرگوں پر حسد و لالچ کا الزام لگا دیتے ہیں۔ اگر محسود بالفرض کوئی ہو تو وہ خلفاء اسلام ہی ہیں کہ سب امت کے دِل میں بس کر نیابتِ پیغمبر کا حق ادا کر رہے تھے اور خُداﷻ نے اشاعتِ اِسلام اور فتوحات کے دروازے ان پرکھول دیے تھے۔ بنو ہاشم نہیں کیونکہ نبوت سے فیض یاب ہونے میں وہ سب صحابہ (رضوان اللہ علیھم اجمعین) شریک تھے۔ لوگوں کے دلِوں میں مکرم و معظم بقول شیعہ تھے ہی نہ {حسب روایت مجلسی لوگوں کے دِلوں میں ابوبکر و عمر جیسے سامری و بچھڑے کی محبت رچی ہوئی تھی۔}

(حیات القوب، ص ٥٦١ ج ۲)۔

پھر کِس بات میں ان حضرات پر کوئی حسد کرتا...؟؟

الغرض بغض وحسد کا الزام قطعاً غلط ہے۔ سب صحابہ و اہلِ بیت رضوان اللہ علیھم اجمعین آپس میں مہربان تھے۔ ارشادِ قُرآن سچا ہے۔ ان کی الفت کی ایک جھلک ملاحظه فرمائیں:

جب حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ تلوار لے کر جیوش اسلامیہ کی قیادت کرتے ہوئے مدینہ سے ذی القصہ کی طرف روانہ ہو گئے تو حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی باگ تھام کر فرمایا:

"اے خلیفۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! واپس ہو جائیں، اگر خدانخواستہ آپ کو گزند پہنچا تو پھر کبھی اِسلامی مملکت کا نظام قائم نہ ہو سکے گا۔"

(البدایہ والنہایہ ص ٣١٤)


صفحہ 2 از 2