افضلیت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

افضلیت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 1 از 5

افضلیّت سیدنا صدیقِ اکبرؓ

الحمداللّٰہ وسلام على عباده الذين اصطفىٰ خصوصاً على سيد الرسل وخاتم الانبياء وعلىٰ اٰله الاتقياء واصحابه الاصفياء اما بعد

زباں پہ بارِ خدایا یہ کِس کا نام آیا 

کہ میرے نطق نے بوسے مری زبان کے لئے 

کسے پتہ تھا کہ تاریخ میں ایک ایسا دور بھی آئے گا کہ مخزنِ عظمت، مرکزِ خلافت، یارِ غارِ مصطفٰی سیّدنا ابوبکرؓ کی افضلیت محتاجِ بیان ہوگی، یہ واضح کرنا

 ہو گا کہ سیّدنا صدیقِ اکبرؓ ماسوائے انبیاء کرام علیہم السلام کے کل بنی نوع انسان سے ارفع و اعلیٰ اور افضل و اکمل ہیں، اس لئے کہ عیاں راچہ بیاں،چڑھتے ہوئے سورج کی نشاندہی اشاروں کی محتاج نہیں ہوتی ہاں چشمِ بینا ہی موجود نہ ہو تو یہ امر دیگر ہےـ

زعشقِ ناتمام ماجمال یار مستغنی است

بآب و رنگ و خال و خط چہ حاجت روئے زیبارا

10 ہزار قدوسیوں کے پلڑے میں تلنے والی شخصیت جب آپﷺ مکہ سے نکلے تو ساتھ ایک تھا اور جب مکہ مکرمہ پھر داخل ہوئے تو ساتھ 10 ہزار کا لشکرِ جرار تھا۔حضورﷺ کا داخلہ بھی مُدْخلِ صدق تھا اور وہاں سے نکلنا بھی مُخُرجِ صدق تھا، آنا اور جانا ایک وزن کا تھا جس کی بارگاہِ امامت اور درگاہِ سیادت میں فاروقِ اعظمؓ اور حیدرِ کرارؓ جیسے مقدس و معظم برابر صف بستہ نظر آتے ہیں اور جس کی رفعتِ علمی اور قوتِ عملی سب اپنی اپنی جگہ مثالی شان سے سرفراز ہیں،آج اس مجلس میں اسی ذاتِ قدسی صفات کی افضلیت کا بیان ہو گا۔

یہ نہ سمجھا جائے کہ صحابہ کرامؓ میں افضلیت کی بحث اچھی نہیں سب ایک جیسے ہیں، نہیں حضورﷺ نے انہیں ستاروں سے تشبیہ دی ہے اور ظاہر ہے کہ سب ستارے ایک جیسی چمک نہیں رکھتے کوئی زیادہ چمکتا ہے کوئی کم۔ لیکن ہر ایک سے روشنی ہی ملے گی اندھیرا کسی سے نہ ملے گا اور ہر ایک کا ایک اپنا مقام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسولوں میں سے بھی بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے تِلۡكَ الرُّسُلُ فَضَّلۡنَا بَعۡضَهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ‌ۘ۔(سورۃ البقرہ: آیت 253)

سو صحابہ کرامؓ کی افضلیت کی بحث کسی پہلو سے محل قدح نہیں حضرت امام ابوحنیفہؒ نے فقہ اکبر میں اور حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؒ نے غنیتہ الطالبین میں ان میں ایک ترتیب پیش کی ہے۔

اس موضوع پر پہلے ہمیں ایک معیار کی تلاش ہو گی جس پر کسی بزرگ کی کی شانِ فضیلت منطبق کی جا سکے اور ایک ایسے مینار کی ضرورت ہو گی جس کی روشنی میں ہم کسی بزرگ کی زندگی کے مختلف مقامات دیکھ سکیں۔آئیے اس روشنی کے لئے پہلے قرآنِ عظیم کے حضور میں ہی حاضر ہوں اور کتاب اللہ سے ہی اس معیارِ فضیلت کا پتہ چلائیں جو ہمیں اس وقت مطلوب ہے۔

قال اللہ تعالیٰ:

يَرۡفَعِ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ ۙ وَالَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ دَرَجٰتٍ

(سورة المجادله آیت:11)

 ترجمہ: اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے درجات بلند کرتے ہیں جو تم میں سے ایمان لائے اور ان لوگوں کے جو شانِ علم سے سرفراز ہوئے۔

لَايَسْتَوِی الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ

ترجمہ: علم رکھنے اور نہ رکھنے والے کبھی برابر نہیں ہوتے۔

(سورۃ الزمر آیت :9)

ان آیاتِ شریفہ سے پتہ چلتا ہے کہ فضیلت اور بزرگی کا معیار رب العزت کےہاں ایمان اور علم ہے۔

 لَایَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَؕ-اُولٰٓىٕكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْا

ترجمہ: برابر نہیں تم میں سے وہ جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے ان کی راہ میں خرچ کیا اور جہاد میں شامل ہوئے، ان کا درجہ ان سے زیادہ ہے جو اسکے بعد اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہے اور جہاد میں شامل ہوئے۔

( سورة الحدید آیت: 10)

اس آیتِ شریف سے معلوم ہوا کہ وہ مالی اور جانی قربانیاں بھی معیارِ فضیلت ہیں جو فتح مکہ سے پہلے کی گئیں۔ اِنفاق فی سبیل اللہ اور قتال فی سیل اللہ کی مجموعی حیثیت میں جو لوگ سبقت لے گئے وہ اُن لوگوں سے بہرحال آگے ہیں جو اس اجتماعی وصف (اتفاق اور قتال) میں پیچھے رہے یا کسی ایک وصف مثلاً (قتال یا انفاق)میں برابر رہے، معیارِ افضلیت وہ بزرگی ہے جو ان دونوں عملوں کے اجتماع سے حاصل ہو گی۔ قرآنِ پاک کی رُو سے یہ ثابت ہو گیا کہ عمل بھی ایک معیارِ فضیلت ہے جس میں مالی اور جانی دونوں قربانیاں درکار ہیں۔

ان اسباب کے علاؤہ اگر کوئی اور معیارِ فضیلت ہے تو وہ اللہ رب العزت کا اپنا فضل ہے جس کے بھی شاملِ حال ہو جائے۔

وَبَشِّرِ ٱلْمُؤْمِنِينَ بِأَنَّ لَهُم مِّنَ ٱللَّهِ فَضْلًا كَبِيرًا

 ترجمہ: اور آپ خوشخبری سنا دیں اور ایمان والوں کو انکے لئے خدا تعالیٰ کی طرف بہت بڑا فضل ہے۔

(سورة الاحزاب آیت :47)

ان تفصیلات سے معلوم ہوا کہ اصل بزرگی اور فضیلت محض اقتدار و حکومت، رنگ و وطن یا نسل و نسب کے امتیازات پر مبنی نہیں بلکہ قرآنی نظریہ فضیلتِ ایمان، علم صحیح، عمل صالح اور فضلِ خداوندی کے امتیازی اوصاف پر مبنی ہے۔ جتنا کسی کو ان ابواب میں تفوق حاصل ہو گا اتنی ہی اس کی افضلیت اور برتری از خود ثابت ہو گی۔ (واللّٰہ على ما نقول شهید)

اب آئیے واقعات کا ایسی چشمِ بصیرت سے مشاہدہ کریں جس نے تعصب اور تخرب کی قوت سے جلا نہ پائی ہو کیونکہ یہ درِ حقیقت نور نہیں ایک ظلمت ہے۔ دیکھنا یہ ہے آنحضرتﷺ نے جب اپنی رسالت کی دعوت دی تو سب سے پہلے کسی بزرگ ہستی نے آپ کو لبیک کہا اور کون سب سے پہلے دولت اسلام سے سرفراز ہوا۔آنحضرتﷺ فرماتے ہیں:

ان اللّٰہ بعثنی اليكم فقلت كذبت وقال ابوبكر صَدَقَ

(بخاری جلد1،صفحہ 517)

 ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہاری طرف مبعوث کیا پر تم نے مجھے جھٹلایا لیکن ابوبکرؓ نے میری تصدیق کی۔

اس ارشادِ نبوت سے پتہ چلتا ہے کہ آنحضرتﷺ نے اوّل الاسلام سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو ہی سمجھا ہے اگرچہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے قریب قریب ہی سیدہ خدیجہ الکبریٰؓ اور سیدنا علیؓ بھی ایمان لائے تھے لیکن وہ تو گھر کے اپنے ہی افراد تھے۔ نیز عورتوں اور بچوں کی بات اس قدر ممتاز بھی نہیں ہوتی، مخالفتوں کے پورے طوفان اور ذمہ داریوں کے سارے بوجھ کے ساتھ جس نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا اس کے لیے آنحضرتﷺ کا مذکورہ بالا ارشاد خود منہ بولتی شہادت ہے۔

عمدة المحدثین ملا علی قاریؒ لکھتے ہیں:

صفحہ 1 از 5