افضلیت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

افضلیت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 5

شهد مع النبي المشاهد كلها ولم يفارقه في جاهلية ولا اسلام وهو اول الترجال اسلاما

(مرقاۃ جلد5 ،صفحہ 52)

ترجمہ: سیدنا ابوبکر صدیقؓ آنحضرتﷺ کے ساتھ تمام جنگوں میں شامل ہوئے اور آنحضرتﷺ سے نہ جاہلیت میں نہ اسلام میں کبھی جدا ہوئے اور آپ سب سے پہلے مرد ہیں جو اسلام لائے۔

یہ تو اسلام کی اوّلیت اور قبولیتِ اسلام میں قربانی کا بیان تھا،اب اس ایمان کی شانِ صداقت قوتِ یقین اور کمال معرفت پر بھی غور کیجئیے۔

اعمال کے اپنے ظواہر بھی ہیں، ایمان ایک فعلِ قلب ہے (کمافی روایتہ احمد) جس کی تصدیق صاحبِ حال یا صاحبِ وحی کی تصدیق کے بغیر علیٰ سبیل القطع والتعین ممکن نہیں۔

امام بخاریؒ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے کئی دفعہ اپنے ایمان کے ساتھ سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عمرِ فاروقؓ کے ایمان کی شہادت دی تھی حالانکہ یہ دونوں بزرگ اس وقت موجود نہ ہوتے تھے، ایسے موقع پر آنحضرتﷺ کے الفاظ اس قسم کے تھے:

أو من بذلك وابوبكر وعمره:

میں ابوبکرؓ اور عمرؓ اس پر ایمان لاتے ہیں۔

(بخاری جلد 1،صفحہ312،517،694)

دوسروں کے اعمال کی گواہی تو سب دیکھنے والے دے سکتے ہیں لیکن ایمان کی گواہی پیغمبر کا ہی کام ہے جسے کہ خود رب العزت نے اس پر مطلع فرما دیا ہو۔

پھر دیکھئے کہ آنحضرتﷺ نے ان دونوں بزرگوں کے ایمان کو خود اپنے ایمان کے ساتھ جمع فرمایا ہے جس طرح کہ حضرت موسیٰؑ نے اپنی قوم جس نے کہ عمالقہ کے ساتھ جہاد کرنے سے انکار کر دیا تھا، سے جدا ہوتے ہوئے فرمایا تھا:

 اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِیْ وَاَخِیْ

(سورة مائده آیت :25)

ترجمہ: میں اپنے آپ اور اپنے بھائی کے سوا کسی کا مالک نہیں۔ 

جس قوتِ یقین کے ساتھ حضرت موسیٰؑ نے اپنے بھائی ہارونؑ کے امر باطنی کی خبر دی، تاجدارِ ختم نبوت اسی قوتِ یقین کے ساتھ سیدنا صدیقِ اکبرؓ اور سیدنا فاروقِ اعظمؓ کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں:

او من بذلك وابوبكر و عمره

(بخاری جلد1صفحہ 312،694،517)

میں ابوبکرؓ اور عمرؓ اس پر ایمان لاتے ہیں۔

شیخ الاسلام علامہ عینیؒ فرماتے ہیں:

انما قال ذلك رسول اللہ ثقةبهما لعلبه بصدق ايمانهماوقوت يقينهما وكمال معرفتهما بقدرة اللہ

آنحضرتﷺ نے ایسا ان حضرات پر کامل اعتماد رکھتے ہوئے فرمایا تھا کیونکہ حضورﷺ کو ان کے ایمان کے سچا ہونے اور ان کی قوتِ یقین اور کمالِ معرفت کا قدرتِ خداوندی سے پورا پورا علم تھا۔

پس ایمان کی اس پختگی میں یہ دونوں حضرات باقی سب صحابہ کرامؓ سے آگے ہوں گے اور ان میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا قدم اور آگے رہے گا۔

ایمان کی اوّلیت اور پختگی تو کھل کر آپ کے سامنے آ چکی، لسانِ نبوتﷺ نے خود دونوں باب میں فیصلہ فرما دیا۔اب آئیے ایمان کی فراست میں بھی سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا قدم سب سے آگے دیکھئے، فرمایا:

المومن من لا يخدع ولا يُخْدَعُ

کامل مؤمن وہ ہے جو نہ دھوکا دے اور نہ دھوکا کھائے۔

اس سے پتہ چلا کہ کامل مؤمن کی دیانت یہ ہے کہ کسی کو دھوکا نہ دے اور فراست یہ ہے کہ کسی سے دھوکا نہ کھائے، دھوکا نہ کھانے کے مصداق تو آپ کو بیشمار ملیں گے اور سب صحابہ کرامؓ اس وصف سے متصف تھے لیکن دھوکا نہ کھانے والے لا یخدع کے مصداق آپ کو وہاں بھی بہت کم ملیں گے۔

سیدنا حسینؓ کو جس طرح کوفیوں نے دھوکا دیا اور ان کو بار بار خطوط لکھ کر بلایا اور پھر وقت آنے پر غداری اور بیوفائی کی یا جس طرح سیدنا علیؓ کو جنگِ صفین میں دھوکا دیا گیا یا جس طرح سیدنا طلحہؓ اور سیدنا زبیرؓ کو شاطروں نے دھوکا دیا اور مجلسِ مفاہمت و مصالحت کو جنگِ جمل کی صورت میں بدلا دیا۔ ان واقعات میں ان حضرات کا دھوکے میں آجانا کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔

(نبه علیه القرطبی فی تاریخه روافقه الا لوسی فی تفسیر الاحزاب)

ہم یقین رکھتے ہیں کہ دھوکے میں آجانے کی ان بزرگوں سے کوئی باز پرس نہ ہو گی کیونکہ اعمال پر مواخذہ نیّات کے اعتبار سے ہوتا ہے اور دھوکا کھانے والے کی اپنی نیت کا اس میں کوئی دخل نہیں ہوتا، رب العزت کے ہاں تو کسی بزرگ کی کوئی ایسی کمزوری قابلِ مواخذہ نہیں لیکن خلافتِ ارضی اور قیام امور عامہ کے لئے جب نظامِ عدل کا قیام ہوتا ہے تو ایسے امور کا لحاظ بھی بسا اوقات ضروری ہوتا ہے پس جو اکابر کمال ایمان کے ان دونوں جزوں سے متصف ہوں گے وہ لازماً ان سے فائق اور آگے ہوں گے جنہیں وقت کے غلط کار لوگوں نے بار ہا اپنی سازش کا نشانہ بنایا، لیکن یاد رہے کہ اس سے ان کی بزرگی پر کوئی داغ نہیں آتا۔ ہاں افضلیت امرِ دیگر ہے،اس معیار پر جب ہم سیدنا صدیقِ اکبرؓ کو دیکھتے ہیں تو ہمیں ان کا کوئی سہیم و شریک نظر نہیں آتا اور تاریخ نہیں بتلاتی کہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ نے بھی دھوکا کھایا ہو۔ آنحضرتﷺ کی وفات شریفہ کے بعد صحابہ کرامؓ کی مجموعی رائے بھی سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو کوئی مغالطہ نہ دے سکی اور انجام کا پتہ چلا کہ حق وہی تھا جو سیدنا ابوبکر صدیقؓ کہتے تھے۔ فتنہ انکارِ ختمِ نبوت، لشکرِ سیدنا اسامہؓ کی روانگی میں تاخیر کا مطلبہ مانعینِ زکوٰة کی تحریکات اور ان سب کے مقابلے میں سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی اپنی رائے انہیں کسی مغالطے میں نہ کھینچ سکی۔

ایمان کی اولیت، قوت و ثقاہت اور بصیرت و فراست کے ساتھ سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے عزم و استقامت کو بھی شامل کر لیں تو پھر ان کی شانِ ایمانی، ایمان کے ہر پہلو کے اعتبار سے سب سے فائق اور آگے نظر آتی ہے اور ہم یقین کرنے پر مجبور ہیں کہ ان کمالاتِ ایمانی میں کوئی بزرگ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے شریک و سہیم نہیں، سیدنا صدیقِ اکبرؓ کا ایمان محض رغبت عقلی کا نتیجہ نہ تھا، صدیقیت کا مقام یہ ہے کہ صدیق رغبتِ طبعی کے ساتھ ایمان قبول کرتا ہے اور یہ اسی کا امتیاز و اختصاص ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ کو ایمان قبول کرنے میں کسی دلیل کی ضرورت قطعاً محسوس نہ ہوئی۔ 

پہلا معیارِ افضلیت ایمان تو اپنی پوری تفصیلات کے ساتھ آپ کے سامنے آچکا۔اب آئیے اور علم صحیح کے معیار پر بھی سیدنا صدیقِ اکبرؓ کو دیکھئے، وہ یہاں بھی ہر اعتبار سے افضل و اکمل نظر آئیں گے۔ قال اللہ تعالیٰ:

لَايَسْتَوِی الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ

(سورۃ الزمر آیت :9)

صفحہ 2 از 5