افضلیت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

افضلیت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 3 از 5

ترجمہ: علم رکھنے والے اور نہ رکھنے والے کبھی برابر نہیں ہوتے۔

یہاں علم سے مراد کسی مادی تجربے کا علم نہیں بلکہ قرآنِ عزیز کا علم مراد ہے جس سے حقائق کا ادراک ہوتا ہے اور ظلمت کے پر دے اٹھتے ہیں۔

اب درِمصطفیٰﷺ پر دستک دیجیے اور دربارِ نبوت سے فیصلہ لیجیے کہ آنحضرتﷺ نے تمام صحابہ کرامؓ میں قرآنِ پاک کا سب سے زیادہ عالم اور کتاب اللہ کے ساتھ سب سے زیادہ مشتغل کِس بزرگ کو قرار دیا ہے۔

پہلے یہ پیشِ نظر رکھیے کہ آنحضرتﷺ نے ایک قانون ارشاد فرمایا:

يتقدم القوم اقرأ هم للقرآن فان كانوا في القرأة سواء فاقد مهم هجرة فان كانوافي الهجرة سواء فَا كُبَرَهُمُ ستافان كانوا في السن سواء فاعلمهم بالسنة وافقهو في الدين

(فروع کافی جلد 1، صفحہ 225 مطبوعہ لکھنؤ)

قوم کی امامت وہ کرائے جو ان سب میں قرآن زیادہ پڑھا ہوا ہو اگر اس وصف میں وہ برابر ہوں تو جو ہجرت میں اقدم ہو اگر ہجرت میں بھی وہ سب برابر ہوں تو جو عمر میں بڑا ہو اور اگر عمر میں سب برابر ہوں تو پھر وہ امامت کرائے جو سنتِ پیغمبرﷺ کا اس سے زیادہ عالم ہو اور تفقہ دین میں اسے برتری حاصل ہو۔

احقر عرض پرداز ہے کہ یہاں چوتھے نمبر میں کچھ ترتیب کی غلطی ہے یہ دراصل دوسرا ہونا چاہیئے تھا، سنت کا درجہ قرآن کے متصل بعد ہے، ہجرت کا تقدم اور عمر کی بڑائی علم سنت کے یقیناً بعد ہے۔ 

چنانچہ سنن ابی داؤد میں ہے:

فان كانوا فى القرأة سواء فاعلمهم بالسنة فان كانوا في السنة سواء فاقدمهم هجرة

(فروع کافی جلد 1، صفحہ 86 مطبوعہ لکھنؤ)

پس اگر قرآن دانی میں وہ سب برابر ہیں تو پھر وہ جماعت کرائے جو علم سنت میں آگے ہو اس کے بعد اس کا مرتبہ ہے جو ہجرت میں اقدم ہو۔

بہرحال اس پر تو سب کا اتفاق ہے کہ سب سے پہلا مرتبہ اس کا ہے جو سب سے زیادہ قرآن کا ماہر ہو۔ یہاں اقراهم للقرآن سے مراد یہ رسمی اور لفظی تجوید نہیں۔ قاری اور قرأت کی اصطلاح بہت بعد کی ہے۔ بلکہ یہاں مراد کتاب اللہ کی حقیقی معرفت اور قرآنی علوم ہیں۔اس روایت میں اگر علومِ قرآنیہ کی برتری مراد نہ لی جائے تو پھر اور کئی اشکال لازم آتے ہیں۔ 

اولاً: لفظی تجوید اور رسمی قرأت میں سیدنا ابی بن کعبؓ سب سے آگے تھے مگر آنحضرتﷺ نے انہیں کبھی عملاً امام نہیں بنایا بلکہ مختلف اوقات میں امامت کے فرائض سیدنا صدیقِ اکبرؓ نے سیدنا عبدالرحمٰن بن عوفؓ اور سیدنا ابنِ ام مکتومؓ کے سپرد فرمائے۔ 

ثانیاً:روایت مذکورۃ الصدر میں آگے علم و سنت اور علم فقہ تو اپنے اپنے درجہ پر ہے ہیں لیکن قرآنی علوم کا تفوق یکسر مفقود ہے، یہ تو ہو نہیں سکتا کہ ارشادِ رسالت نے علم سنت کو تو معیارِ فضیلت میں ملحوظ رکھا ہو مگر علمِ قرآن کو یکسر نظر انداز کر دیا ہو پس سیاق و سباق کے پیشِ نظر یہاں اقراهم للقرآن سے قرآنی علوم کا سب سے زیادہ فاضل اور کتاب اللہ کے ساتھ سب سے زیادہ مشتغل شخص مراد ہو گا۔

ثالثاً:امام اعظمؒ، امام مالکؒ، شیخ ابو الحسن اشعریؒ اور شاہ ولی الله محدث دہلویؒ کے نزدیک اس کے یہی معنیٰ مراد ہیں، شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں:

وسبب تقديم الإقراء لانه صلى الله عليه وسلم حدللعلم حدا معلوما كما بينا وكان اول ما هنالك معرفت كتاب الله لانه أصل العلم و ايضا فانه من شعار الله فوجب ان يقدم صاحبه ثم من بعدها معرفة السنة لانها تلوا الكتب وبها قيام الملة وهي ميراث النبي صلى الله عليه وسلم في قومه ثم بعده اعتبرت الهجرة

(حجتہ اللہ البالغہ جلد 2، صفحہ 25)

حاصل یہ کہ یہاں اقراءھم سے مراد صاحبِ معرفت کتاب اللہ ہے کیونکہ یہ علم کی بنیاد ہے اور شعائر اللہ میں اس کا شمار ہے، اس کے بعد معرفت سنت کا درجہ ہے اور وہی آنحضرتﷺ کی میراث ہے، اس کے بعد ہجرت کا اعتبار ہے۔ اس تمہید کے بعد اب یہ دیکھیے کہ آنحضرتﷺ نے اپنی عین حیاتِ اولیٰ تمام اکابر صحابہ کرامؓ کی موجودگی میں کس بزرگ ہستی کو امامت کا حکم دیا، لسانِ رسالت کا یہ فیصلہ جسں کے حق میں ہو گا وہ یقیناً قرآنی علوم اور معرفتِ کتاب اللہ میں سب سے فائق اور آگے ہو گا۔

امرسول الله صلى الله عليه وسلم ابابكر ان يصلى بالناس في مرضه فكان يصلى بھم

(بخاری جلد اول، صفحہ 94)

آنحضرتﷺ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو حکم دیا کہ وہ حضورﷺ کے ایامِ مرض میں امامت کرائیں چنانچہ وہ لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے۔

امامیہ کی معتبر کتاب شرح نہج البلاغہ دُرِ نجیفہ میں ہے:

فلما اشتد به المرض امرا بابكر ان يصلي بالناس وان ابابكر صلى بالناس بعد ذلك يومين

(درہ نجفیہ صفحہ 225، مطبوعہ ایران)

جب آنحضرتﷺ پر مرض کی تکلیف بڑھ گئی تو آپﷺ نے سیدنا ابو بکرصدیقؓ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ اس کے بعد دو دن لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے۔

پھر حضورﷺ نے ایک دن سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے حجرہ مبارکہ سے پردہ اُٹھا کر خود سیدنا صدیقِ اکبرؓ کو جماعت کراتے دیکھا اور تبسم فرما کر اپنے اطمینان کا اظہار فرمایا، یہ اس حکم سابق کی عملی تصدیق تھی۔ 

كشف ستر حجرة عائشة فنظر الیھم وھم في صفوف الصلوٰۃ ثم تبسم يضحك

(بخاری جلد 2، صفحہ 640)

آپ نے سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے حجرے کا پردہ اٹھایا اور مسلمانوں کو دیکھا کہ وہ نماز کی صفیں باندھے ہوئے تھے حضورﷺ مسکرا دیئے۔

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے اسے 9 صحابہ کرامؓ سے روایت کیا ہے اور اسے حدیث مستفیض قرار دیا ہے۔

(ازالتہ الخفاء جلد 1، صفحہ 309 فارسی)

اور قرۃالعین میں اسے متواتر بتلایا ہے۔

(دیکھیے صفحہ 5، مطبوعہ دہلی)

پس یہ حدیث اپنی انتہائی شان میں لائق یقین اور قابلِ اعتماد ہے۔ قانون امامت کی پہلی حدیث اور امر امامت پھر عمل امامت کی اس دوسری حدیث سے یہ نتیجہ نہایت واضح طور پر حاصل ہوتا ہے کہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ تمام اکابر صحابہ کرامؓ میں سب سے زیادہ قرآنی علوم پر نظر رکھتے تھے اور قرآن دانی میں ان کا قدم سب سے آگے تھا۔ایمان کے بعد یہ دوسرا معیارِ فضیلت ہے جس میں ہم سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو سب سے فائق اور اقدم دیکھتے ہیں۔حافظ ابنِ کثیر شیخ ابوالحسن اشعریؒ سے نقل کرتے ہیں:

تقديمه له دليل على انه اعلم الصحابة واقرأهم لماثبت فی الخبر المتفق على صحته بين العلماء

صفحہ 3 از 5