افضلیت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

افضلیت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 5 از 5

حضورﷺ کے دعویٰ رسالت کے جواب میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے یہ کہا کہ میں ایمان لاتا ہوں بلکہ فرمایا کہ وہ سچ کہہ رہے ہیں یہ ایک نہایت بلند پایہ شانِ علم ہے جس کے آئینہ میں اظہار ایمان جلوہ گر ہے۔ اس ایک حدیث میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی شانِ ایمان، شانِ علم اور جان و مال آنحضرتﷺ کے لئے وقف کر دینے کا نہایت روشن بیان ہے اور یہ سب اُمور خود لسانِ رسالت سے شرفِ قبولیت حاصل کر رہے ہیں۔

اکابر صحابہ کرامؓ میں ایسے بزرگ بھی ہیں جو انفاق (خرچ کرنے میں) زیادہ ممتاز ہیں جیسے سیدنا عثمانؓ اور ایسے بھی ہیں جنہیں قتال میں امتیاز حاصل ہوا جیسے سیدنا علی المرتضیٰؓ اور جنہیں کہ ان کی مالی پوزیشن باب انفاق میں زیادہ نمایاں نہ کر سکی مگر انفاق اور قتال کی یہ مجموعی شان جسے کہ قرآنِ کریم نے اُولٰٓىٕكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً کے پُر عظمت الفاظ میں ذکر کیا ہے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی شانِ افضلیت پر مہرِ تصدیق ثبت کر رہی ہے۔ جن بزرگوں کو ان کے مالی مسائل نے یہ موقع نہ دیا کہ وہ اللہ کی راہ میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر خرچ کریں، تو اس تکوینی مجبوری سے ان پر ہرگز کوئی حرف نہیں آتا، لیکن قرآنِ حکیم نے افضلیت کی بحث میں جسے معیار کے طور پر پیش کیا ہے وہ یہی فیصلہ ربانی ہے:

لَا يَسْتَوِىْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ ۚ اُولٰٓئِكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً

( سورۃ الحدید،آیت: 10)

فتح مکہ سے پہلے انفاق (خرچ کرنے) اور قتال (شرکتِ جہاد) کہ مجموعی وصف سے ممتاز ہونے والے بعد کے لوگوں کے برابر نہیں۔

افضلیت کا چوتھا معیار

افضلیت اور برتری کا چوتھا معیار فضلِ خداوندی ہے جس کے بھی شاملِ حال ہو جائے اور پھر جس جس درجہ میں جس کے شاملِ حال ہو گا اُسی درجہ میں اس کی بزرگی اور برتری ثابت ہو گی جہاں اسباب کی منزلیں طے ہو جائیں وہاں فضلِ خداوندی کی ہی بشارت ملتی ہے۔

وَ بَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ بِاَنَّ لَہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ فَضۡلًا کَبِیۡرًا

(سورۃ الاحزاب آیت: 47)

ترجمہ: اور آپ بشارت دے دیں مؤمنین کو کہ ان کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑا فضل ہے۔

اور جس طرح قرآن کریم نے آنحضرتﷺ کے لئے خصوصی طور پر فضل کا ذکر فرمایا ہے:

وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ ۚ وَكَانَ فَضْلُ اللّـٰهِ عَلَيْكَ عَظِيْمًا

 (سورۃ النساء،آیت: 113)

اور اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو وہ کچھ سکھایا جو آپ پہلے نہ جانتے تھے اور اللہ تعالیٰ کا فضل آپ پر بہت ہے۔

اسی طرح قرآنِ کریم نے سیدنا ابوبکرصدیقؓ کی نسبت بھی فضل کی تصریح فرما دی ہے، سیدنا صدیقِ اکبرؓ مسطح بن اثاثہ پر اللہ کی راہ میں بہت مال خرچ کرتے تھے۔

(بخاری جلد2،صفحہ698)

جب وہ واقعہ افک میں لوگوں کی غلط افواہوں میں آگئے تو سیدنا صدیقِ اکبرؓ نے قصد کر لیا کہ آئندہ انہیں کچھ نہ دیں گے، اس پر قرآنِ کریم نے کہا:

وَلَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَ السَّعَةِ

(سورۃ النور آیت:22)

اور جن لوگوں کو فضل(دین کی بزرگی اور رزق کی وسعت) حاصل ہے وہ ایسی قسمیں نہ کھائیں۔

مفسرین کا اجماع ہے کہ یہاں فضل کی نسبت سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی طرف ہی کی گئی ہے۔

جس انداز اور جس صراحت کے ساتھ فضلِ خداوندی کی نسبت آنحضرتﷺ کی ذاتِ مقدس اور سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی ذات قدسی صفات کے ساتھ قرآنِ کریم میں موجود ہے، اس میں کوئی اور معین فرد ان حضرات شریک نہیں، تمام مؤمنین عمومی فضل سے بہرہ ور ہے لیکن یہ خصوصی فضل غار کے ان دو ساتھیوں کے ہی شاملِ حال رہا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ کہتے ہیں کہ آنحضرتﷺ سے جب پوچھا گیا کہ ای الناس افضل:

کل مخموم القلب صدوق للسان

(سنن ابنِ ماجہ صفحہ 391)

ہر وہ شخص جو دل کا صاف اور خدا ترس انسان ہے۔ اور اس کی زبان صداقت سے متصف ہے وہ دوسروں سے افضل ہے۔

سیدنا صدیقِ اکبرؓ کا نرم دل، صاف دل اور خدا ترس ہونا حدیث سیدہ عائشہؓ میں موجود ہے اور صدیق تو وہ تھے ہی، بس اس اعتبار سے بھی ان کی فضیلت صاف ظاہر ہے، چنانچہ سیدنا علی المرتضیٰؓ سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے بارے میں صاف ارشاد فرماتے ہیں:

کان افضلھم فی الاسلام

(شرح نہج البلاغہ ابن میسم بحرانی جلد 31، صفحہ 486)

سیدنا ابوبکرؓ اسلام میں تمام صحابہ کرامؓ سے افضل ہیں۔

سیدنا ابنِ عمرؓ کہتے ہیں کہ:

کنا نقول فی عھد النبیﷺ لا نعدل بابی بکر احداً ثم عمرؓ

ہم آنحضرتﷺ کے زمانے میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ برابر کسی کو نہ سمجھتے تھے اور ان کے بعد سیدنا عمرِ فاروقؓ کا درجہ قرار دیتے تھے۔

سیدنا ابنِ عمرؓ کے اس قول میں آنحضرتﷺ کے زمانے کا ذکر اس لئے ہے کہ یہ فیصلہ صرف صحابہ کرامؓ کا اجماع ہی نہ سمجھا جائے بلکہ اسے آنحضرتﷺ کی منظوری کا بھی شرف حاصل ہے جیسا کہ تقریری حدیث میں ہوتا ہے:

عن ابن عمرو قال کنا نقول و رسول اللہﷺ حیٌ ابوبکر ثم عمر ثم عثمان رضی الله عنھم (ایضاً)

ہم آنحضرتﷺ کے زمانے میں کہا کرتے تھے کہ آنحضرتﷺ کے بعد اس اُمت میں سب سے افضل سیدنا ابوبکر صدیقؓ ہیں پھر سیدنا عمرِ فاروقؓ اور پھر سیدنا عثمانِ غنیؓ، اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی ہو گیا ہے۔

اور یہ فیصلہ صرف دوسرے صحابہ کرامؓ کا ہی نہیں سیدنا علیؓ بھی اس میں شریک ہیں، سیدنا علی المرتضٰیؓ سے ان کے صاحبزادے سیدنا محمد بن الحنیفہؓ نے پوچھا:

ای ان الناس خیر بعد رسول اللہﷺ

آنحضرتﷺ کے بعد افضل الناس کون ہے؟

تو آپؓ نے ارشاد فرمایا سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور ان کے بعد سیدنا عمرِ فاروقؓ۔

(ایضاً جلد 2، کتاب السنتہ باب فی التفضیل، صفحہ 636)

چنانچہ یہی وجہ ہے کہ اس امت میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ سب سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔

حضورﷺ نے خود ارشاد فرمایا:

اما انک یا ابا بکر اول من یدخل الجنۃ من امتی

(ایضاً صفحہ 636)

سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عمرِ فاروقؓ پر کسی اور بزرگ کو فضیلت دینے والے کا کوئی عمل آسمان کی طرف اٹھتا (درجۂِ قبولیت حاصل کرتا) نظر نہیں آتا کیونکہ اوپر پاک کلمے اور صحیح اعمال ہی اٹھتے ہیں۔

الیہ یصعد الکلم الطیب۔ واللہ اعلم۔


صفحہ 5 از 5