♦️شیعہ مغالطہ نمبر 10♦️
شبِ ہجرت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیِدنا علی المُرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اپنے بستر پر سُلایا، معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بِستر پر سونے کی اہلیّت بغیر علی المُرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے اور کِسی میں نہیں تھی۔
⬅️جواب اہلسنّت نمبر 1:➡️
بِستر پر سونا یا سُلانا بےشک باعثِ عزّت ہے۔ ا فضیلت اس میں ہے کہ بِستر والے کے ساتھ سونا نصیب ہو اور ظاہر ہے کہ غار میں تین راتیں اور گُنبدِ خضراء میں روزِ حشر تک صاحبِ بستر کے ساتھ سونا نصیب ہوا تو صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ اور فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کو۔
⬅️ جواب اہلسنّت نمبر 2:➡️
بِستر پر اگر علی المُرتضی رضی اللہ تعالٰی عنہ ایک رات سوئے تو ازواج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ساری زِندگی تک سونا نصیب ہوا۔ اہل تشیع کے ان کی شان و عظمت کا بھی اقرار کرنا چاہئے۔