حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل عشرہ: عمرو بن میمون روایت…

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل عشرہ: عمرو بن میمون روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ میں دس اوصاف پائے جاتے ہیں جو کسی اور میں موجود نہیں۔

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 2 از 3

یہ تمام باتیں صحیح اسناد کے ساتھ معلوم شدہ ہیں ۔ اور ان پر اہل علم محدثین کا اتفاق ہے۔ اکثر غزوات میں حضرت علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوا کرتے تھے ؛ خواہ ان غزوات میں قتال ہوا ہو یا نہ ہوا ہو۔

اگر کوئی یہ کہے کہ :آپ کے خلیفہ بنانے کا مطلب یہ ہے کہ وہی افضل ہیں ۔تو اس سے لازم آتا ہے کہ اتنے

سارے غزوات [و واقعات ] میں حضرت علی رضی اللہ عنہ مفضول ہوں اور ایسے ہی حج و عمرہ کے موقع پر بھی۔ پھر باقی غزوات کے موقع پر خلیفہ مردوں پر بنایا جاتا تھا ؛ جب کہ غزوہ تبوک کے موقع پر معذوروں ؛عورتوں اور بچوں پر خلیفہ بنایا گیا۔اس وقت مدینہ میں [صحیح سالم اورتندرست] اہل ایمان میں سے صرف وہی تین مرد پیچھے رہ گئے تھے [ جن کی معافی کا اعلان اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ] یا پھر وہ انسان باقی تھا جس پر منافق ہونے کی تہمت ہو۔ اس وقت مدینہ میں ہر لحاظ سے امن و امان تھا۔ اہل مدینہ کو کسی طرف سے کوئی خوف نہیں تھا اور پیچھے رہ جانے والوں کو جہاد کی ضرورت نہیں تھی۔جس طرح کہ باقی اکثر مواقع پر ہوا کرتا تھا۔ اسی طرح شیعہ کی پیش کردہ حدیث

(( سُدُّوا الْاَبْوَابَ اِلَّا بَابَ عَلِیٍّ ))

[أورد ابن الجوزِیِ ہذا الجزء مِن حدِیثِ عمرِو بنِ میمون فِی الموضوعاتِ:۱؍۳۶۴وحکم علیہِ بِالوضعِ:۱؍۳۶۶، وذکر أن ہذا الحدِیث مِن ہذا الطرِیقِ وغیرِہِ حدِیث موضوع ثم قال: فہذِہِ الأحادِیث کلہا مِن وضعِ الرافِضۃِ قابلوا بِہا الحدِیث المتفق علی صِحتِہِ فِی: سدوا الأبواب ِإلا باب أبِی بکر۔]

روافض کی طرف سے بطور مقابلہ اپنی گھڑی ہوئی ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل عشرہ جبکہ بخاری و مسلم میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الموت میں فرمایا:

’’میں سب لوگوں سے زیادہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مال اور رفاقت کاممنون ہوں ۔‘‘اگر میں کسی کو گہرا دوست بنانے والا ہوتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا۔ البتہ اسلامی اخوت و مودّت کسی شخص کے ساتھ مختص نہیں ۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سوا کسی شخص کی کھڑکی مسجد کی جانب کھلی نہ رہے۔‘‘

[بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم (ح:۳۶۵۴) مسلم، (ح:۲۳۸۲) ۔] 

شیعہ کی پیش کردہ حضرت ابن عباس کی روایت

’’اَنْتَ وَلِیِّیّ فِیْ کُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِی‘‘

باتفاق محدثین موضوع ہے ۔

[جاء ہذا الحدِیث فِی ِکتاب فضائل الصحابۃ:۱؍۵۰۳، رقم:۵۲۱، ۱؍۵۲۴، رقم:۸۶۸ وقال المحقِق:۱؍۵۰۳، موضوع وفِیہِ متروکانِ متہمانِ بِالوضعِ: طلحۃ وعبیدۃ۔ وجاء الحدِیث فِی حقِ عثمان بنِ عفان رضِی اللّٰہ عنہ فِی الموضوعاتِ:۱؍۳۳۴، البِدایۃِ والنِہایۃِ:۷؍۲۱۳ وغیرِہا مِن المراجِعِ، وذکر المحقِق أن ہذا الحدِیث أیضاً موضوع۔] 

صحیح حدیث میں جن دیگر امور کا ذکر کیا گیا ہے اس میں نہ تو ائمہ کی کوئی خصوصیات ہیں اور نہ ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خصوصیات؛بلکہ ان میں دوسرے لوگ بھی آپ کے شریک ہیں ؛ مثلاً:

۱۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اﷲ و رسول کو چاہتے ہیں ؛ اور اللہ اور اس کا رسول حضرت علی رضی اللہ عنہ کو چاہتے تھے۔

۲۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حاکم مدینہ مقرر کرنا۔

[ہم قبل ازیں تحریر کر چکے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو صرف ایک ہی مرتبہ حاکم مدینہ مقرر کیا گیا تھا۔ جب کہ دیگر صحابہ کو متعدد مرتبہ یہ خدمت تفویض ہوئی تھی جیسا کہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے اگر حاکم مدینہ کا سب لوگوں سے افضل ہونا ضروری ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ جب بھی کوئی دوسرا حاکم مقرر کیا گیا سیدنا علی اس وقت مفضول تھے۔ مزید براں دوسرے صحابہ کی حاکمیت مدینہ کے زمانہ میں وہاں سب مومن موجود ہوا کرتے تھے، مگر جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حاکم مدینہ مقرر کیا گیاتو عورتوں اور بچوں کے سوا وہاں کوئی نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس سے افسردہ خاطر ہوئے اور اسے اپنی توہین پر محمول کیا۔ اس وقت مدینہ مامون تھا، اسے کوئی خطرہ لاحق تھا نہ وہاں جہاد کی ضرورت تھی۔] 

۳۔ یہ بات کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہی مرتبہ حاصل ہے جو ہارون کو موسیٰ علیہ السلام سے۔

۴۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اس انسان کا دوست ہونا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس کے دوست ہوں ۔ اس لیے کہ ہر مؤمن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دوستی رکھتا ہے۔

۵۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا سورۂ توبہ کو لے کر مکہ جانا؛ کیونکہ بنی ہاشم کے علاوہ کوئی یہ سورت مکہ نہیں پہنچا سکتا۔اس میں سارے بنی ہاشم مشترک ہیں ۔ان میں سے کوئی بات بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مختص نہیں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو سورۂ توبہ دے کر مکہ بھیجنے کی وجہ یہ تھی کہ نقض عہد کی اطلاع دینے کے لیے حاکم اعلیٰ کے قبیلہ کا کوئی شخص جایا کرتا تھا۔ اس سورۃ میں بھی نقض عہد کی اطلاع دی گئی ہے، اس لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مکہ جانا ضروری تھا۔

[یہ بات غلط ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سورۂ توبہ لے کر گئے اور پھر انھیں معزول کرکے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا گیا۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امیر حج مقرر کیا تھا اور آپ بہمہ وجوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی یا عدم موجودگی میں اس کے اہل تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مدینہ سے رخصت ہو چکے تھے کہ سورۂ توبہ نازل ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ سورۃ دے کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی جانب بھیجا، اس کے دو اسباب تھے، پہلی وجہ ذکر کی جا چکی ہے۔

دوسری وجہ یہ تھی کہ اس سورۃ میں یہ آیت بھی ہے:

{ اِلَّا تَنْصُرُوْہُ فَقَدْ نَصَرَہُ اللّٰہُ اِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْہُمَا فِی الْغَارِ}

صفحہ 2 از 3